نظم

ملنے کو بے تاب رہتے  تھے جو کبھی 

اسماء طارق

ملنے کو بے تاب رہتے  تھے جو کبھی

 ملتے نہیں  اب نہ جانے  کیوں

تشنگی دل کا عجب عالم ہے

جل گیا دل ہے پھر بھی سالم ہے

بت کا سا وجود ہے کھڑا اک یہاں

مگر بت کدہ  نہیں  ہے  کہیں

جل رہے ہیں دیب محبت کے

مگر نفرتوں  کی اوٹ میں

عجب عالم سے گزر رہا ہوں اب تو

دوستوں کی محفل ہے، دشمن کے شہر میں

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close