نظم

ملکِ شام کے پسِ منظر میں

ڈاکٹر وصی بستوی

زورِ بازو نہ یوں آزماؤ

سرپھرو ہوش میں آ بھی جاؤ

درد سے یہ زمیں چیختی ہے

اس کی آہوں سے خود کو بچاؤ

سرپھرو! ہوش میں آبھی جاؤ

۔۔۔

اف ہے گردش عجب آسماں کی

ہائے رے بے بسی ایک ماں کی

اپنے بچوں کی لاشوں سے لپٹی

کہہ رہی ہے ذرا رحم کھاؤ

درد سے یہ زمیں چیختی ہے

اس کی آہوں سے خود کو بچاؤ

سرپھرو! ہوش میں آ بھی جاؤ

۔۔۔

مار دیتے ہو انساں کو بم سے

خوں کے پیاسے ہو کیا ایک دم سے

یوں نہ اتراؤ طاقت پہ اتنی

يوں نہ  لاشوں پہ لاشیں بچھاؤ

درد سے یہ زمیں چیختی ہے

اس کی آہوں سے خود کو بچاؤ

سرپھرو! ہوش میں آ بھی جاؤ

..

ہر طرف حشر برپا ہوا ہے

یہ جہاں سارا سہما ہوا ہے

ظلم حد سے گزرنے لگا ہے

بس کرو وقت کے اے خداؤ

درد سے یہ زمیں چیختی ہے

اس کی آہوں سے خود کو بچاؤ

سرپھرو! ہوش میں آ بھی جاؤ

سب مکان و مکیں جل چکے ہیں

کتنے لاشے تو اب گَل چکے ہیں

ہوچکا ناچ حیوانیت کا

اور مت اب تماشے دکھاؤ

درد سے یہ زمیں چیختی ہے

اس کی آہوں سے خود کو بچاؤ

سرپھرو! ہوش میں آبھی جاؤ

کیوں لگے ہیں زبانوں میں تالے

ہیں کہاں وہ سبھی امن والے

پھر پلٹ آئے دہشت کے سائے

پھر فریبِ اماں لے کے آؤ

درد سے یہ زمیں چیختی ہے

اس کی آہوں سے خود کو بچاؤ

سرپھرو! ہوش میں آ بھی جاؤ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close