نظم

منافقت سے پرے

عاتکہ ماہین

ہوائیں جب گلے ملتی ہیں ذروں سے

کوئی خنجر کوئی پیکاں

نہ ان کے ساتھ ہوتا ہے

مگر انساں کو دیکھو  تو

نظر تلوار کر کے

یوں نفاق دوستاں کا بھی

بھرم رکھنا نہ سیکھا ہو

کبھی جو آدمیت کی کوئی تصویر مل جائے

تو اس کے سب کناروں کو نظر سے چاک کرتے ہیں

کہ خنجر بھی پشیماں ہو

ندامت سسکیوں کی اوٹ سے

آواز دیتی ہو

مگر انساں تو انساں ہے

پشیمانی ،ندامت،خفتوں سے واسطہ رکھنا

اسے کیوں کر گوارا ہو۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close