نظم

منقبت بحضور سیدنا حضرت امام حسینؓ

چراغ مرقدِ زہرا حسین ہائے حسین

احمد علی برقی اعظمی

جو کربلا میں تھا تنہا حسین ہائے حسین
’’ چراغ مرقدِ زہرا حسین ہائے حسین ‘‘
نبی کا تھا جو نواسہ علی کا نورِ نظر
تھا سب کو جاں سے جو پیارا حسین ہائے حسین
شہید ہوگیا دینِ نبی کی حُرمت پر
غم و الم کا وہ مارا حسین ہائے حسین
سبھی کو آج رُلاتا ہے خون کے آنسو
وہ بیکسوں کا سہارا حسین ہائے حسین
کرے وہ دستِ یزیدِلعین پر بیعت
نہ تھا اُسے یہ گوارا حسین ہائے حسین
ہے مجتہد کی زباں گُنگ کیا بیان کرے
دل و جگر ہوئے پارا حسین ہائے حسین
ہیں غم میں آج جو شہدائے کربلا کے شریک
سبھی نے رو کے پُکارا حسین ہائے حسین
نہ سوگوار ہوں برقی وہ غم میں کیوں اُس کے
ہے جن کی آنکھ کا تارا حسین ہائے حسین

ہیں غم میں آج جو شہدائے کربلا کے شریک
سبھی نے رو کے پُکارا حسین ہائے حسین

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close