نظم

میرا کیا ہے، تم سوچو نا…

تبسم فاطمہ

میراکیا ہے…
میں کیوں سوچوں…؟
آگے رستہ بند پڑا ہے یا کوئی منزل بھی ہے
چاروں طرف پرشورسمندر یا کوئی ساحل بھی ہے
چلتے چلتے پائوں میں چھالے پڑجائیں اور درد کا بھی احساس نہیں ہو،
میں کیوں سوچوں، کوئی جو مجھ سے غافل بھی ہے؟
میرا کیاہے…
بچپن کی پہلی ٹھوکر سے جس نے سنبھلنا سیکھ لیا ہو
نازک کچی عمر سے جس نے آگ پہ چلنا سیکھ لیا ہو
ڈر سے باہر آکر جس نے ہر پل مرنا سیکھ لیا ہو
اڑنا جس کا مقصد ہو اورجس نے اڑنا سیکھ لیا ہو
میں کیوں سوچوں…؟
آنے والا لمحہ میرا دوست ہے یا کہ دشمن ہے
دل کا ملنا قید، گھٹن ہے یا سُندر سا بندھن ہے
میرے جیسا میرا سایہ، اس پر تن من ارپن ہے
جیون میں ہے پریم چُھپا ، یا پریم میں سارا جیون ہے
میں کیوں سوچوں؟
میرا کیاہے…
عشق اگر ہے آگ کا دریا
پھر مجھ کو یہ آگ پسند ہے
’ایک محبت سب کا حل ہے‘
مجھ کو بس یہ راگ پسند ہے
میں کیوں سوچوں…
میراکیا ہے…
اپنی آگ میں جلنا کیا ہے، اب میں جلاتی ہوں
میں بھی پتھر ہوسکتی ہوں، یاد دلاتی ہوں
رستہ بند جہاں ہوتا ہے، ڈھونڈ کے آتی ہوں
اپنے دم سے پت جھڑ کی بھی پیاس بجھاتی ہوں
میرا کیا ہے…
تم سوچو نا…؟

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close