نظم

میں تو اک مدرسہ ہوں تم مجھے غدار مت سمجھو

مجاہد ہادؔی ایلولوی

میں تو اک مدرسہ ہوں تم مجھے غدار مت سمجھو
میں ہوں تعلیم کا مرکز مجھے خونخوار مت سمجھو

۔

زمانے کی ہر اک  شَئی  میں نمایا  ہے  اثر   میرا
مری اس سادگی سے مجھ کو تم بےکار مت سمجھو

۔

عقائد,   تربیت,  قرآن,  سیرت  اور  مسائل  بھی
یہی تو روح ہے میری اسے ہتھیار  مت  سمجھو

۔

ہمیں الزام مت دو تم وطن سے بغض رکھنے کا
یہ ہاتھوں میں کتابیں ہیں اسے تلوار مت سمجھو

۔

ابھی جو طفل ہیں لگتے وہ کل کے رہنما بھی ہیں
ہماری  فکر  کو  دیکھو  ہمیں مکار  مت سمجھو

۔

یہ ہادؔی کی زباں کہتی ہے بھیجو تم بھی بچوں کو
یہ اہلِ دین  ہیں تم ان  کو  دنیا دار مت سمجھو

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close