نظم

میں پھر سے جنم لے رہی ہوں

تبسم فاطمہ

یہ تم نے ہی کہا تھا

میں یاد کے بوسوں میں کہیں چھپ گئی ہوں/

کوئی اک نغمہ/

جسے تم نے گنگنا یا بھی نہیں تھا/

مگر میں نے محفوظ کر لیا تھا

اپنے اندر/

لمس کی حلاوت اور تپش کے ساتھ/

پھر اس نادید ہ لمس کے ساتھ

میں برسوں سوتی رہی

یا برسوں جاگتی رہی/

اس کا علم مجھے بھی نہیں تھا

یہ تم نے ہی کہا تھا/

جہاں ریت میں ساتھ ساتھ چلنے والے قدموں کے نشان پڑے تھے/

تم انہیں اپنے ساتھ لے آئے تھے

اس سے پہلے کے ریگستان میں بہتی تیز ہوا

ان نشانات کو یاد گم گشتہ کے کسی قبرستان میں دفن کردے

تمہیں منظور نہیں تھا،

وصل کے کسی ایک بھی لمحے کا گم ہونا/

یا لمس کی، کسی ایک بھی سوغات کا کھوجانا/

تم یہ سب اپنے ساتھ لے آئے تھے/

یا تمہارے پاس سے/چپکے سے چرا کر

یہ سو غاتیں میں اپنے پاس لے آئی تھی

یہ تم نے ہی کہا تھا/

میں روح کی شاداب وادیوں کے لمس میں اتر گئی ہوں

اور اس وقت

جب تیز تیز بارش ہورہی تھی۔

تم میرے ہونٹوں کے جگنو تلاش کررہے تھے

جب نیم شب،

بادلوں کا کارواں

آہستہ آہستہ

نیل کے آسمان میں مدھم مدھم ہورہاتھا/

تم میری آنکھوں میں شبنم ڈھونڈ رہے تھے/

جب سرد راتوں میں

بکھرے، بے شمار ستاروں کے درمیان

ایک ستارہ لہرا تا ہوا

زمین پر گر رہا تھا

تم اسے ہتھیلیوں پر لپک رہے تھے/

میرے لیے/

تم نے ساری کی ساری خزائیں/

اپنے حساب میں درج کرلی تھیں/

اور عمر کی ساری کی ساری بہاریں/

شاداب موسم کی طرح

اپنی گرم ہتھیلیوں سے میرے چہرے پر/

جمع کردی تھیں/

زندگی کے ماہ وسال میں/

کیا عمریں پھسلتی ہیں؟/

یا وقت چھلانگ لگاتا ہے/

یا بزرگ ہوجاتا ہے کوئی طائر/

یا روٹھ جاتے ہیں اس کے نغمے

میں دھیرے دھیرے

خود کو جمع کررہی ہوں/

یا ہوسکتا ہے/

میں پھر سے جنم لے رہی ہوں…

یا ہوسکتا ہے/

روح کی شاداب وادیوں کے لمس کو/

واپس لے آئی ہوں / اپنے اندر/

یا/ یاد کے بوسوں کے موسم میں

چھپ گئی ہوں

تمہاری تلاش میں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close