نظم

 نماز

عبدالکریم شاد

ہو کوئی بات، کیسی بھی حالت، نماز پڑھ

دل میں ہو کوئی غم کہ مسرت، نماز پڑھ

جو تیرے جسم و جان کی رونق چلی گئی

تجھ کو ہے اس کی سخت ضرورت، نماز پڑھ

کر استخارہ، وہ کوئی رستا دکھائے گا

مطلوب ہے خدا کی جو نصرت, نماز پڑھ

اعمال ہو نہ جائیں کہیں تیرے رائگاں

کرنی ہے تجھ کو ان کی حفاظت، نماز پڑھ

پیارے نبی کو فکر تھی امت کی اس قدر

تھی وقتِ نزع لب پہ وصیت، نماز پڑھ

 دے گا ہر ایک ذرہ گواہی ترے لیے

ساری زمیں ہے جائے عبادت، نماز پڑھ

ہاں ہاں سمجھ گیا میں ترے دل کا مسئلہ

بدلے گی تیرے دل کی طبیعت, نماز پڑھ

ترکِ نماز کفر کا شیوہ ہے میرے دوست!

مومن کو اس سے کچھ نہیں رخصت, نماز پڑھ

دنیا کے اور کام ضروری تو ہیں مگر

مقصود ہر بشر کا ہے جنت، نماز پڑھ

اے شاد! ایسے ویسے بہانے نہ اب بنا

جیسی ہو تجھ کو یار! سہولت، نماز پڑھ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close