نظم

نیے سال کا بائیکاٹ 

شاہدکمال

اے نئے سال

میں تیری آمد کا جشن کیسے مناوں

اس سے پہلے میں نے تری آمد جشن منایا تھا

میں تجھ سے مل کر بہت خوش تھا

تیرا ہاتھ تھام کر میں نے خوب رقص کیا تھا

شاید تجھے یاد نہیں!

تونے میرے پیروں میں

امیدوں کی جو پازیب باندھی تھی

اب وہ ٹوٹ چکی ہے

خوشیوں کے سارے گھنگھرو بکھر چکے ہیں

اے نیے سال

میں تیری آمد کا جشن کیسے مناوں

تیرے دئے ہویے سارے زخم ابھی تازہ ہیں

آج میں

کچھے جلے ہوے گھروں

دھواں اگلتی ہوئی بستیوں

 اجڑی ہوئی مانگوں

سسکتے ہوے بچوں

لٹی ہوئی عصمتوں

اور کچھ سر بریدہ و بدن دریدہ

لاشوں کا عزادار ہوں

اے نیے سال میں تیری آمد کا جشن کیسے مناوں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close