نظم

وقت سحر

نظر عرفان

پھر سنوں سحر میں تری صدا

وہ خوبصورت وادیاں

جہاں بیتے تری زندگی کے کچھ حصے

جہاں سے گونجتی ہوئی آتی تھیں تری صدائیں

میرے کانوں میں

ہنستے ہوئے، ہسناتے ہوئے

کبھی سادگی سے مسکرا کر

تری اس صدا میں

پھولوں کی مہک تھی

اورچڑیوں کی چہک تھی

کوئل گیت راگ سہانی

اورتم سناتی اپنے من کی کہانی

محبت سے بھری ہوئی

وہ ماہ رمضان

اور سحرمیں تری یہ صدا

یارا ! اٹھ جا، ہے وقت سحر

وہ دن ہے یاد مجھے

اسے بھولوں کیسے

پراب وہ دن نہیں

 اوروہ بات نہیں

پرمیں چاہوں!

پھر سنوں

سحر میں تری یہ صدا

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close