نظم

وقت

فلمی مصنّف جناب جاوید اختر کی نظم ’’وقت‘‘ کے جواب میں 

جاوید اختر، راشدؔ

(نئی دہلی)

یہ وقت کیا ہے؟
تو سوچتا ہے، تو پوچھتا ہے
یہ وقت کیا ہے؟
یہ کیا ہے آخر جو مسلسل گزر رہا ہے؟
کہاں سے آیا کدھر گیا ہے؟
یہ کب سے کب تک کا سلسلہ ہے؟
ہاں! یہ سوال میں خودسے بھی پوچھتا ہوں
مگر اب میں نے جان لیا ہے
پہچان لیا ہے، اور مان لیا ہے
کہ، یہ وقت جو ہے
ہے یہ ایک حقیقت۔
پوچھتے ہو کہ یہ وقت کیا ہے؟
ہے آج کا ایک تو عظیم شاعر
مگر تجھے کیا یہ پتہ ہے
کیا تجھے خبر ہے
کہ یہ وقت جو ہے
یہ کب سے کب تک کا سفر ہے؟
ہاں! یہ وقت جو ہے، اک سفر ہے
یہ وہ سفر ہے، جو کبھی عشاء ہے
کبھی عصر ہے پھر کبھی فجر ہے
نہیں یہ کو ئی انجانا ڈگر ہے
تجھے نہیں یہ بالکل خبر ہے
کہ سچ تو یہ ہے کہ، میں بتاؤں
(الوقت سیف) وقت تلوار ہے
پس جو اسکے ساتھ نرمی سے پیش آ
وہ محفوظ رہتا ہے
اور وہ ہلاک ہو جا
جو اس سے سختی سے پیش آ
یعنی، تو اسے جب نرمی سے پیش آ، چھولے
تو وہ نرم معلوم دے گی،
مگر اس کی دھاریں بھی سخت ہیں
گر تو اس سے سختی سے پیش آ
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ
وقت جس شخص کے لئے سازگار ہو جائے تو
وقت اس کے لئے وقت ہے
اور جب نا سازگار ہوتو
وقت اس کے لئے تباہی ہے مقت ہے
اور وقت ایک ریتی ہے، جو ہمیں گھستا ہے
پر مٹاتا نہیں
کہ اگر وہ ہمیں با لکل مٹا دیتا
تو فنا ہو جانے کہ بعد
اس سے ہمیں چھٹکارا مل جاتا
سو، وقت وہ ہے
جو جہنّمیوں کی طرح ہے
کہ اگر انکی کھالیں جل جاتی ہیں تو
عذاب کی خاطر
دوسری کھالیں پیدا کردی جاتی ہیں
کہ وہ نہ مرتے ہیں، نہ جیتے ہیں
سو وقت بس گزرتا ہی رہتا ہے خود میں
لیکن جیسے ٹھہرا بھی ہوا ہے ہماری خاطر
اور وقت کہیں صحو (ہوش) کا ہے
تو کہیں، محو (بے ہوشی) کا نام بھی ہے
اور اسی سلسلے کی کڑی میں
وقت کی حقیقت یہ ہے کہ
حادث یقینی، حادث غیر یقینی کا وقت ہے
تو پھر یہ وقت وہ شۂ ہے
جس میں ہم بھی ہیں
اگر ہم دنیا میں ہیں، تو ہمارا وقت دنیا ہے
اور عقبیٰ میں ہمارا وقت صرف عقبیٰ ہے
تو سرور کی حالت میں سرور
حزن کی حالت میں حزن ہے ہمارا وقت
مراد یہ کہ وقت وہ شۂ ہے
جو انسان پر غالب ہو
صوفیہ کی مانیں تو وقت سے مراد زمانۂ حال ہے
کہ وقت وہ ہے جو دونوں زمانوں
یعنی ماضی اور مستقبل کے درمیاں ہے
پھر تو درویش کے لئ آنے والا وقت
اور اسکا گزرا ہوا وقت کوئی اہمیت نہیں رکھتا
بلکہ وہی وقت اہمیت کا ہوتا ہے
جس میں وہ رہتا ہے
لہٰذا وقت اک سلسلہ ضرور ہے، اک سفر ہے
مگر یہ ایک جانا پہچانا ڈگر ہے
میں کون ہوتا ہوں تجھے (اے شاعر) بتلانے والا
مگر پھر بھی یہ سچ ہیکہ
یہ وقت جو ہے یہ اک سفر ہے
کہ یہ بندہ (نا چیز) نہ ہی کوئی فلاسفر ہے
کہ سفر ہے کچھ وہ تو صرف وقت ہے
اور ہے اگر سفر تو صرف یہ کہ
اب وقت بہت ہو چکا ہے
اور مجھے اب حکمِ سفر ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close