نظم

پیار لفظوں میں؟

نظر عرفان

پیار لفظوں میں؟

پیار لفظوں میں کہاں

یہ کون بتائے مجھے

شاید سلمی بتا پائے مجھے

یہ امید ہی نہیں

کہ شبانہ بتا پائے مجھے!

آج حبیبہ آئیگی

اس ندی کے کنارے، باغیچہ میں

میں اس سے پوچھوں گا

کیا تم بتا پاؤگی

پیار کیا ہوتا ہے

پیار کیوں ہوتا ہے!

وہ شرمائے گی

کچھ بتائے گی، کچھ نہ

پھر بولے گی!

پیار لفظوں میں کہاں؟

یارو! کون بتائے مجھے

جب سلمی ملے گی اپنی وادی میں

یہ مجھے ضرور بتائے گی

کہ پیار دل میں؟ نہ

پیار احساسوں میں؟ نہ

پیار آنکھوں میں؟ نہ

پیار جسموں میں؟ نہ

پر ہاں

 پیارہوتا ہے

پرمیں کچھ بتا نہ پاؤں گی!

پر پیار لفظوں میں کہاں؟

وہ پتھر!

میں اس پتھر کو بھولوں  کیسے

جہاں بیتے مرے پیار بھرے چند لمحے، چند گھڑی!

کیا وہ یاد کر پائیگی؟

اور یہ بتا پائیگی

پیار لفظوں میں تو نہیں

پر پیار ہوتا ہے

اس میں کچھ بات ہی ایسی ہے

چاہوں! پر  بتا  نہ پاؤں میں

کون  بتاۓ مجھے

یہ سچ ہے، زندگی میں

کسی کو کسی سے

 جب کچھ کچھ ہوتا ہے،

اشاروں میں، کنایوں میں،

آنکھوں میں

پھر آنکھوں آنکھوں میں

دلوں میں، پھر دل میں اتر کر

جسم میں، روح میں

پھر روحوں میں

اور اشک بن کر،  اشکوں میں

کبھی خوابیدہ، کبھی نیم خوابیدہ

زندگی میں

زندگی میں جب یہ ہوتا ہے

جب پیار ہوتا ہے

پیار لفظوں میں؟

پیار لفظوں میں کہاں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close