نظم

چلو چھوڑ دیتے ہیں 

شیخ داؤد ابن نزیر

(ہندوارہ کشمیر)

چلو چھوڑ دیتے ہیں

اب ہم تم سے رُخ اپنا

موڑ دیتے ہیں

یہ دل لگی یہ تشنگی

اب یہ دیوانگی

ھم سب چھوڑ دیتے ہیں

میرے ہمدم مجھے تو ہی بتا

ہمیں اس دشت میں

ملا ہی کیا ؟

سوائے تیری بے رخی کے

بے دلی کے

ہم سے نہ ہوتا وہ بیان

میرا حال ہے سب پہ عیاں

یہ اداسی یہ نمی

جس میں جھلکتی تیری کمی

شاید ہم ہی نہیں قابل تیرے

پر یہ بھی تو سچ ہے

تھے تو عاشقِ صادق تیرے

پھر کیوں اُن وعدوں سے مکرنا

ہم سے کنارہ پکڑنا

کیا یہی ملتا یہاں

تن سے ایسے بچھڑنا

چلو ہم ہی یہ جان دیتے ہیں

اس دنیا کو اب ہمیشہ

تیرے خاطر چھوڑ دیتے ہیں!!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close