نظم

چلے آؤ… اور تیز تیز آؤ

تبسم فاطمہ

سیاست کی خوفناک آندھیوں کے درمیان اور خونی بازار میں

جہاں غیر مہذب عدالتیں

ایک ننگے اور کچلے ہوئے جسم پر

ناجائز فیصلے دیتی ہوئی عدلیہ کے وقار کو مجروح کررہی ہوں/

جہاں سیاسی حکمرانوں کے زہریلے فتوے

سانپ کے زہر اور بچھوؤں کے ڈنک سے ایک مہذب سماج کو بیمار بنا رہے ہوں/

چلے آؤ… اور تیز تیز آؤ…

میں تمہیں محبت کے غیر مذہبی احساس میں، سمندر ہو جانے کی دعوت دے رہی ہوں…

جہاں فرقہ پرست خونخوار، وحشی اور زبان لپلپاتے ہوئے بھیڑیے/

انسانی خون آلودہ کھالوں میں مذہب کے کھلونے تلاش کررہے ہوں/

راکٹ لانچرس، اے کے 47 اور کلو شنکوف سے زیادہ

خوفناک زبانیں اور آوازیں

ایک بیمار اور مردہ معاشرے کو موت کا فرمان سنا رہی ہوں/

چلے آؤ … اور تیز تیز آؤ

میں تمہیں محبت کے غیر مذہبی احساس میں، سمندر ہو جانے کی دعوت دے رہی ہوں…

جہاں عبادت گاہوں کے جسم ہر روز گولیوں سے چھلنی ہوتے ہوں/

جہاں آنکھوں میں تیرتی معصوم فاختاؤں کا گلہ گھوٹ کر

قد آور ڈائنا سور اور بھیانک آگ اگلتے جنگلی درندوں کو

انسانیت کے قتل اور کبھی نہ ختم ہونے والے جشن کی ذمہ داری دی گئی ہو/

چلے آؤ … اور تیز تیز آؤ

میں تمہیں محبت کے غیر مذہبی احساس میں، سمندر ہو جانے کی دعوت دے رہی ہوں…

حیوان صبحوں، وحشی دوپہر،  درندہ شام اور خونی رات کے چنگل سے

اگر ہوسکے تو معصوم فاختاؤں کو نکالنے کا انتظام کرو/

اگر ہوسکے تو تہذیب کے قدیم اور چیتھڑے جسم پر

آخری کیل ٹھوکنے سے پہلے

فتح آدم کے لیے ایک چھوٹی سی محبت کا تحفہ لے کر آجاؤ…

چلے آؤ … اور تیز تیز آؤ/

میں تمہیں محبت کے غیر مذہبی احساس میں،سمندر ہو جانے کی دعوت دے رہی ہوں…

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close