نظم

کربلا کے جاں نثاروں کو سلام

بھوکے پیاسے غم کے ماروں کو سلام

احمد علی برقیؔ اعظمی

کربلا کے جاں نثاروں کو سلام

بھوکے پیاسے غم کے ماروں کو سلام

سرخرو ہیں اپنی قربانی سے جو

دین حق کے پاسداروں کو سلام

ہوگئے جو حُرمتِ دیں پر نثار

اُن بہادر دینداروں کو سلام

جن سے تھا سرسبز گلزارِ بتول

ان خزاں دیدہ بہاروں کو سلام

جن کا کوئی بھی نہ تھا پُرسانِ حال

احمدَ مُرسل کے پیاروں کو سلام

زیبِ تاریخِ جہاں ہے جن کا نام

اُن چمکتے ماہ پاروں کو سلام

وہ جو برقی بِں کِھلے مُرجھا گئے

گُلبدن اور گُلعذاروں کو سلام

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close