نظم

کسی خواب کی تعبیر ہوں میں

کسی عزم کی تکمیل ہوں میں

 اسماء طارق

 کسی خواب کی تعبیر ہوں میں

کسی عزم کی تکمیل ہوں میں

کسی داستان کا مرکزی خیال ہوں میں
کسی کردار کا مکمل حوالہ ہوں میں

کہیں  آغاز کہیں  اختتام ہوں میں
کہیں  سورج کہیں  چاند ہوں میں

کہیں  دھوپ کہیں  چھاوں ہوں میں
کہیں  آگ کہیں  پانی ہوں میں

کہیں  آسماں کہیں زمین ہوں میں
کہیں  دن کہیں  رات ہوں میں

کہیں  پرامن  کہیں اضطراب  ہوں میں
کہیں  آواز کہیں خاموش ہوں میں

کہیں سوچ کہیں  نظریہ ہوں میں
کہیں  ہم معنی  اور کہیں  متضاد ہوں میں

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close