نظم

کوئل

نظر عرفان

آج سنی جو کوئل کی صدا

اس صدا میں تھی اس کوئل کی صدا

یاد آنے لگیں وہ یادیں اور وہ باتیں

رات شبنمی

 وہ شبنمی راتوں کی ملاقاتیں

اور وہ موسم بہار اں ماہ پھاگن

بات جو تھی وہ ہوئی تھی باتوں باتوں میں

دوریاں بنی رہتی تھیں ان ملاقاتوں میں

پھر بھی جو بات تھی وہ بھولوں کیسے

 عداوت میں محبت والی باتیں

اور محبت میں عداوت والی باتیں

پھر بھی دوریاں تھیں اس محبت عداوت میں

وہ کوئل راگ والی باتیں

کہ میں بھولنا چاہا اور بھول ہی جاتا ہوں

پھر وہ موسم اور وہ مہینہ

 کوئل والی،کوئل کی کو کو والی

آۓ ہر سال

وہ بیتے دن یاد دلائے

 وہ صدا ،وہ گیت ،وہ غزل  کوکو والی

پیاری پیاری، نرالی نرالی،  کوکو والی

مدھر مدھم، مدھوبالا والی

اس کی صدا  سن کر

 کبھی تھا کوئل عجب کھائے اور گھبراۓ

وہ کومل کوکل وہ کوئلی باتیں

میں بھولوں، پر کیونکر بھولے یہ کوئل

اپنی  رت میں آۓ یہ کوئل

مجھے وہ سکھ بھرےدن یاد دلائے یہ کوئل

 اور میرے دکھ بھرےدن دیکھے دکھلائے یہ کوئل

میں چاہوں بھولوں ،پر بھولنے نہ دے یہ کوئل

اس کی صدا میں تھی یہ کوئل

اس کوئل کی صدا میں تھی وہ کوئل

ہر سال مرے گھر آئے یہ کوئل

اپنے راگ میں گائے یہ کوئل

مجھے گیت سناے یہ کوئل

پر راز کی بات کوئی سمجھ نہ پاۓ

پر میں سمجھوں اور سمجھے یہ کوئل

میں دیکھوں یا نہ دکھوں

 پر گیت گائے یہ کوئل

میرے وہ دن یاد دلائے یہ کوئل

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close