نظم

گر ایک خواب  ہے ٹوٹا، تو کیا ہوا

اسماء طارق

گر ایک خواب ہے ٹوٹا ، تو کیا ہوا

گر روٹھی ہیں کچھ خواہشیں، تو کیا ہوا

گر نم ہیں  آنکھیں، تو کیا ہوا

گر الجھے ہیں راستے، تو کیا ہوا

گر انجان ہے منزل، تو کیا ہوا

گر دل ہے جل رہا، تو کیا ہوا

سنبھال کہ دل  اپنا پھر سے

سجا لیں گے آنکھوں  میں کچھ سپنے نئے

 اور بسا لیں گے  کچھ خواہشیں نئی

دل کے اداس  گھروندے میں

 ڈھونڈ  لیں گے پھر سے  اک راستہ نیا

اور دھیرے دھیرے پہنچ جائیں گے منزل کو اپنی

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close