نظم

ہائے اُن کوشہید کر ڈالا

سالک ادؔیب بونتی

(قُندوز میں حادثئہ شہادتِ حفاظِ قرآن پرقلبی احساسات)

کتنےمعصوم تھے نرالےتھے
اپنےفرداکےجواجالے تھے

ہائےان کوشہیدکرڈالا
زندگی سے بعیدکرڈالا

یہی معمارِ قوم تھےصاحب
یہی غمخوارِ قوم تھے صاحب

ہائےان کوشہیدکرڈالا

جن کےسینےمیں تیس پارےتھے
وہی ملت کےچاند،تارےتھے

ہائےان کوشہیدکرڈالا

خواب کتنےسجاکےنکلےتھے
دل پہ قرآں بساکے نکلے تھے

ہائے ان کوشہیدکرڈالا

تم بھی ترسو گے روشنی کےلیے
بھیک مانگوگے زندگی کےلیے

ہائے اُن کوشہیدکرڈالا

تم کوخودپربھی اختیارنہیں
ننّھےبچوں سے تم کوپیارنہیں

ہائے ان کوشہیدکرڈالا

تم کواک اک حساب دیناہے
سوچ لو کُل جواب دیناہے

ہائےان کوشہید کرڈالا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close