نظم

ہم ووٹ اسے دیں گے

جمالؔ کاکوی

قاتل کو نہیں دیں گے
ظالم کو نہیں دیں گے
غدار کو مخبر کو
ہم ووٹ نہیں دیں گے
ہم ووٹ نہیں دیں گے
بھارت کا جو دشمن ہے
کردار کا راون ہے
غاصب ہے جو رہزن ہے
دومنھ کا جو گوھمن ہے
ہم ووٹ نہیں دیں گے
جو عقل کا مارا ہے
مجرم جسے پیارا ہے
ہر ظلم گوارا ہے
بھارت کاخسارہ ہے
ہم ووٹ نہیں دیں گے
غدار کی سازش ہے
انسان کا بٹوارا
ابلیس کی منڈلی ہے
شیطان کا گہوارا
با بانگ دہل اٹھ کر
جمال ؔ نے للکارا
ہم ووٹ نہیں دیں گے
ہاں تم بھی بدل جاؤ
ہاں تم بھی سنبھل جاؤ
ہم ووٹ نہیں دیں گے
ہم ووٹ نہیں دیں گے

ہم ووٹ اسے دیں گے

بھارت پہ جو مرتا ہے
انصاف جو کرتا ہے
ظالم سے نہ ڈرتا ہے
کہ کر نہ مکرتا ہے
ہم ووٹ اسے دیں گے
رہبر جو ہمارا ہے
مشکل میں سہارا ہے
دل صاف جو رکھتا ہے
انسان جو پیارا ہے
جو یار سبھی کا ہے
غم خوار سبھی کا ہے

ہم ووٹ اسے دیں گے

ڈی این کا جو انساں ہے
جو امن کا خواں ہے
سرحد کا نگہباں ہے
دشمن ہے جو ظلمت کا
اک نئیرِ تاباں ہے
غربت سے پریشاں ہے
خوشحالی کو کوشاں ہے
ہوگا جومرانیتا
بدکار نہیں ہوگا
مکار نہیں ہوگا
خوں خوار نہیں ہوگا
اے جمالؔ ہم سے تو
جی سرکار نہیں ہوگا

ہم ووٹ اسے دیں گے
ہم ووٹ اسے دیں گے

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close