نظم

ہم ہندی متوالے ہیں

چندہ مکھ اجیالے ہیں

جمالؔ کاکوی

ہم ہندی متوالے ہیں

چندہ مکھ اجیالے ہیں

دشمن تک ،فولادی گھونسے

 ویسے بھولے بھالے ہیں

چودہ والے دور ہوئے

ہم سب پندرہ والے ہیں

دھن کے پکّے قول کے سچّے

ہند کے ہم ر کھ والے ہیں

کوئی اپنا دین دھرم ہو

 ہم گورے چاہے کالے ہیں

ہندی سارے بھائی بھائی

ہند پہ مرنے والے ہیں

رام بگھت سب اس دھرتی کہ

ہم بندے اللہ والے ہیں

سکھ عیسائی اور بھی دوجے

کل بھارت ماں کے پالے ہیں

گیت وطن کا گانے والے

میاں جمالؔ دل والے ہیں

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close