نظم

ہے داستانِ ارض فلسطین خونچکاں

کیوں بے خبر ہے اس کے مصائب سے یہ جہاں

احمدعلی برقیؔ اعظمی

ہے داستانِ ارضِ فلسطین خونچکاں

کیوں بے خبر ہے اس کے مصائب سے یہ جہاں

کیا یومِ قدس ذہن میں ان کے نہیں  رہا

بیحس ہیں کتنے مشرقِ وسطی کے حکمراں

صیہونیت کے ظلم و ستم سے ہیں  باخبر

پھر بھی تماش بیںہیں وہ، جیسے ہوں بے زباں

مرتے رہیں گے کیا یونہی معصوم شیر خوار

امن و سکوں کے اب وہ علمدار ہیں کہاں

ذہنی سکوں نصیب میں ان کے نہیں ہے کیا

صیہونیت کی زد پہ ہیں جو زیر آسماں

ظلم و ستم کے اپنے ہی گھر میں ہیں اب شکار

بچے ہوں سن رسیدہ ہوں یا ہوں وہ نوجواں

پرسان ِ حال کیوں نہیں ان کا کوئی ہے آج

ہیں اب کہاں حقوقِ بشر کے وہ خطبہ خواں

مُہرہ ہیں اہلِ غرب کے شطرنج کا جو آج

ایک ایک کرکے سب کا مٹائیں گے وہ نشاں

ہے وقت اب بھی کام لیں عقلِ سلیم سے

برقیؔ ملاتے رہتے ہیں ان کی جو ہاں میں ہاں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close