نظم

یادِ رفتگاں : بیادِ بابائے اردو مولوی عبدالحق مرحوم

تاریخ وفات ۱۶ اگست ۱۹۶۱

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

کررہا ہوں پیش میں بابائے اردو کو سلام
اُن کے علمی کارنامے آج ہیں نقشِ دوام

تھے وہ اپنے عہد کی اِک شخصیت تاریخ ساز
اردو کی تاریخ میں روشن رہے گا اُن کا نام

ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں اُن کی عظمت کے نشاں
قایم و دایم رہے گا اُن کا تُزک و احتشام

گلشنِ اردو میں اُن کی ذات تھی مثلِ بہار
اُن کا اربابِ نظر میں ہے بہت اعلٰی مقاما

فکروفن،اردولغت، تنقید، تاریخِ ادب
کون سی وہ صنف ہے جس میں نہیں ہے اُن کا نام

اُن کے علمی کارناموں کے سبھی ہیں معترف
اُن کی ادبی شخصیت ہے لایقِ صد احترام

اُردو کی تریج میں سرگرم تھے وہ عمر بھر
تھا یہی اُن کا مشن اور تھا یہی اُن کا پیام

گلشنِ اردو ادب سرسبز اور شاداب ہو
اِس سے بہتر اُن کی نظروں میں نہیں تھا کوئی کام

مٹ نہیں سکتے کبھی اُن کے نقوشِ جاوداں
جاری و ساری ہے برقی اُن کا اب تک فیضِ عام

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close