نظم

یادِ رفتگاں: بیادِ جانی واکر

احمد علی برقی اعظمی

جانی واکر جو ہنساتے تھے کبھی
اب نہیں ہیں تو رلاتے ہیں ہمیں

اُن کے کردار جو ہیں وِردِ زباں
اُن کی اب دلاتے ہیں ہمیں

ذہن میں زندہ دلی کے ہیں نقوش
آج بھی یاد جو آتے ہیں ہمیں

پردۂ فیلم پہ ان کے افکار
خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں ہمیں

بس میں کنڈکٹری کرتے تھے کبھی
اب بھی وہ راہ دکھاتے ہیں ہمیں

ہنستے ہنستے وہ اداکاری میں
قصۂ درد سناتے ہیں ہمیں

اپنی فیلموں میں اشاروں سے کبھی
ایسا لگتا ہے بلاتے ہیں ہمیں

ایسے فنکار تھے برقی اب بھی

کھلکھلا کر جو ہنساتے ہیں ہمیں

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close