نظم

یاد رفتگاں: بیادمنشی پریم چند

تاریخ تولد: ۳۱ جولائی ۱۸۸۰۔ تاریخ وفات : ۸ اکتوبر ۱۹۳۶

احمد علی برقیؔ اعظمی

اردو ادب کی شان تھے منشی پریم چند
اہلِ نظر کی جان تھے منشی پریم چند

اردو میں روح عصر ہیں ان کی نگارشات
خوش فکر و خوش بیان تھے منشی پریم چند

اجداد اُن کے گرچہ قدامت پسند تھے
پَر فکر سے جوان تھے منشی پریم چند

کرداروں کے وسیلے سے ان کی زبان میں
لوگوں کے ترجمان تھے منشی پریم چند

’گودان‘ ہو ’غبن ‘ ہو کہ ’بازار حُسن ‘ ہو
فنکار اک مہان تھے منشی پریم چند

بیحد عزیز تھی اُنھیں انسان دوستی
انسان مہربان تھے منشی پریم چند

سینے میں جن کے برقیؔ تھا اک دردمند دل
وہ حامئ کسان تھے لنشی پریم چند

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close