نظم

یاد رفتگاں: بیاد جمیل جالبی مرحوم

تاریخ وفات: ۱۸ اپریل ۲۰۱۹

احمد علی برقیؔ اعظمی

تھے جمیل جالبی ملکِ ادب کے تاجدار

جن کی تخلیقات ہیں عصری ادب کا شاہکار

ان سے جے این یو میں ملنے کا شرف حاصل ہوا

لوحِ دل پر مُرتسم ہے جس کی اب بھی یادگار

جملہ اصناف ادب پر ان کے رشحاتِ قلم

ندرتِ فکر و نظر کے ان کی ہیں آئینہ دار

معترف خدمات کے ہیں ان کی ارباب نظر

ان کے ہیں مداح اقصائے جہاں میں بیشمار

ان کی’’تاریخ ادب اردو‘‘ ہے گنجِ شایگاں

ان کی تخلیقی بصیرت ہے سبھی پر آشکار

ان کی معیاری کتب ہیں زیبِ تاریخ ادب

گلشنِ اردو میں ان کی ذات تھی مثلِ بہار

ہے ’’نئی تنقید‘‘ ان کی مرجعِ دانشوراں

بحرِ ذخارِ ادب کی ہے جو دُرِّ شاہوار

صدمۂ جانکاہ ہے سب کے لئے ان کی وفات

ان کی رحلت سے ہے برقیؔ اعظمی بھی سوگوار

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close