نظم

یاد رفتگاں: بیاد معروف ناظمِ مشاعرہ و ممتاز سخنور انور جلال پوری

احمد علی برقیؔ اعظمی

انور جلال پوری بھی دنیا سے چل بسے
شعرو ادب کا ہے یہ خسارہ عظیم تر

بزمِ ادب کا ہوگا نہ پُر یہ کبھی خلا
جس میں ہمیشہ رہتے تھے تا عمر جلوہ گر

تھے ناظمِ مشاعرہ اس دور کے عظیم
عہدِ رواں کے تھے وہ سخنور بھی معتبر

بیٹی کے انتقال کا صدمہ نہ سہہ سکے
سوہان روح ان کے لئے جس کی تھی خبر

درجات ان کے خلد بریں میں بلند ہوں
فضل کرم خدا کا رہے ان کی روح پر

اس بات کا زمانے کو شاید نہ علم ہو
والد سے میرے ملنے وہ آتے تھے میرے گھر

بیدار مغز تھا جو سخنور نہیں رہا
برقیؔ جہاں سے اُٹھ گیا ایک اور دیدہ ور

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

ایک تبصرہ

  1. 2 جنوری 2018 ” بھگوت گیتا ” کا منظوم ترجمہ کرنے والے مشہور شاعر اور ناظم مشاعرہ انور جلال پوری صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ ان کا علاج لکھنؤ میں کنگ جارج میڈیکل کالج (کے جی ایم ایم یو) میں چل رہا تھا۔ برین ہیمریج کے بعد ان کواسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔کل صبح تقریبا 10 بجے انہوں نے آخری سانس لی۔انور جلالپوری کو آج دوپہر کی نماز کے بعد امبیڈکر نگر کے جلالپور میں سپرد خاک کیا جائےگا۔ پسماندگان میں ان کی اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ قبل ان کی ایک بیٹی کا انگلینڈ میں انتقال ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ بے حد مغموم تھے۔ انور جلالپوری کی موت سے ادبی دنیا میں ماتم کی لہر دوڑ گئی ہے-
    انور جلال پوری مشاعروں میں اپنی نظامت کے لیے مشہورتھے ۔ابھیشیک چوبے کی فلم ,,ڈیڑھ عشقیہ,, میں بھی وہ ناظم مشاعرہ کے رول میں نظر آئے تھے ۔انہوں نے مشہور ٹی وی سیریل ,اکبر دی گریٹ, کا مکالمہ بھی لکھاتھا۔1982میں انہوں کے ,بھگوت گیتا, کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کے لیے اودھ یونیورسٹی فیض آباد میں رجسٹریشن کروایا تھا ،لیکن وہ یہ کام موضوع کی طوالت کی وجہ سے مکمل نہیں کر سکے۔2015میں اردو شاعری میں گیتا کے لیے ان کو یش بھارتی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ان کی شاعری کا رنگ جداگانہ تھا وہ عصری مسائل پر براہ راست خوش اسلوبی کے ساتھ شعر کہتے تھے؛

    جلائے ہیں دیے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھو

    یہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھا دیں گے
    * * *

    تم پیار کی سوغات لیے گھر سے تو نکلو

    رستے میں تمہیں کوئی بھی دشمن نہ ملے گا

    (6 جولائی 1947 پیدائش ) انور جلا پوری نے بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ اردو اور ہندی میں کیا تھا۔انھوں نے اپنے اس ترجمے کواردو شاعری میں ’گیتا‘ کا نام دیا ہے۔ انور جلال پوری کا کہنا تھاکہ انھوں نے یہ ترجمہ دونوں زبانوں ہندی اور اردو جاننے والوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا ۔ ان کے انتقال پراردو کے معروف نقاد شارب ردولوی نے کہا ہے کہ
    انور جلال پوری بہترین شاعر اورناظم کے علاوہ ایک لاجواب انسان تھے۔ ان کا جانا اردو کے ساتھ ساتھ انسانیت کا بھی نقصان ہے ، انور جلال پوری کا گیتا کا ترجمہ اب تک کا سب سے بہترین ترجمہ ہے۔ وہ انگریزی، اردو، فارسی اور ہندی زبان اچھی طرح جانتے تھے۔

    پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے
    متاع زندگانی ایک دن ہم بھی لٹا دیں گے

    تم اپنے سامنے کی بھیڑ سے ہو کر گزر جاؤ
    کہ آگے والے تو ہرگز نہ تم کو راستہ دیں گے

    جلائے ہیں دیئے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھو
    یہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھا دیں گے

    کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے
    زمیں سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں گے

    گلہ شکوہ حسد کینہ کے تحفے میری قسمت ہیں
    مرے احباب اب اس سے زیادہ اور کیا دیں گے

    مسلسل دھوپ میں چلنا چراغوں کی طرح جلنا
    یہ ہنگامے تو مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے

    اگر تم آسماں پر جا رہے ہو شوق سے جاؤ
    مرے نقش قدم آگے کی منزل کا پتا دیں گے

متعلقہ

Close