نظم

یاد رفتگاں َ بیاد مجروح سلطانپوری

احمد علی برقی اعظمی

شخصیت مجروحؔ کی ہے نازشِ سلطانپور

جن کے گلہائے سُخن ہیں باعثِ کیف و سرور

ہو گئی ادبی فضا ہموار اُن کی ذات سے

فلمی دنیا کے اُفق پر جب ہوا اُن کا ظہور

فکری اور فنی روایت کے ادب میں تھے نقیب

جلوہ گر اشعار سے ہے اُن کا تخلیقی شعور

بیشتر نظمیں ہیں عصری آگہی سے ہمکنار

سوز و سازِ عشق کا غزلوں میں ہے اُن کی وفور

وہ سپہرِ فکرو فن پر تھے درخشاں اس طرح

مطلعِ انوار ہے رنگِ سخن کا اُن کے نور

لوحِ دل پر مُرتسم ہیں اُن کی یادوں کے نقوش

یاد آئیں گے ہمیشہ اہل دل کو وہ ضرور

جنت الفردوس میں اُن کو ملے ابدی سکون

سایہ گستر ہو ہمیشہ فضلِ رحمٰن و غفور

فکرو فن پر تھی اُنہیں برقیؔ مکمل دسترس

جملہ اصنافِ سخن پر تھا اُنہیں حاصل عبور

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close