نظم

یاد رفتگاں: کلدیپ نیر کے سانحۂ ارتحال پر منظوم تاثرات

تاریخ وفات : ۲۳ اگست ۲۰۱۸

احمد علی برقی ؔ اعظمی

شخصیت کلدیپ نیر کی تھی اک تاریخ ساز
رہتی دنیا تک کرے گا ہر صحافی جن پہ ناز

عہدِ حاضر میں تھے وہ اردو صحافت کا ستون
اس صحافی کی صحافت کو تھا حاصل امتیاز

نبضِ دوراں پر بہت مضبوط تھی اُن کی گرفت
اُن کی ہر تحریر تھی سود و زیاں سے بے نیاز

اُن کے رشحاتِ قلم تھے ایک ایسا آئینہ
مُنعکس ہوتا تھا جن میں زندگی کا سو ز و ساز

عمر بھر تھا اُن کا حق گوئی و بیباکی شعار
تھا اسی میں اُن کی مُضمِر عالمی شہرت کا راز

گنگا جمنی ہند کی قدروں کے تھے وہ پاسباں
کرتے تھے وہ پیار سب سے مثلِ محمود و ایاز

مِٹ نہیں سکتے کبھی اُن کی صحافت کے نقوش
تھے وہ برقی ؔ اعظمی قول و عمل میں پاکباز

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close