نظم

یقین خدا ہے

ڈاکٹر طارق قمر
یقین خدا ہے
نہ مسجدوں میں نہ مندروں میں
نہ منبروں پرنہ سیڑھیوں پر
نہ گنگاجمنا کے ساحلوں پر
کہیں بھی اس کا پتہ نہیں ہے
خدا نہیں ہے
اگرخداہے توزندگی کوترستی آنکھوں میں بے یقینی کے خواب کیوں ہیں
مہاجرینِ وفاکے قدموں سے کیوں لپٹتی ہے بے زمینی
مسافرینِ خدا کےحق میں عتاب کیوں ہیں عذاب کیوں ہے
اگرخداہے توآدمی کے لہوکاسیلاب کیوںرواںہے
اگرخداہے توشام وکوفے میں کیوں اسیروں کا کارواں ہے
اگرخداہے تودستِ سفاک تتلیاں کیوں مسل رہے ہیں
اگرخداہے توکیوں یہ جگنوسیہ ضمیری کی مٹھیوں میں مچل رہے ہیں
اگرخداہے توحق پرستوں کے حق میں زنجیرکس لئے ہے
اگرخداہے تو قید خانے میں ایک بچی کی فغانِ شب گیرکس لئے ہے
اگرخداہے توپھریہ تعبیرخواب کیوں
بندشِ آب کیوں ہے
ہزاروں شمرویزید اب تک ہمیں ہی کیوں پیاسا مارتے ہیں
لہوکے چڑھتے ہوئے سمندریہ کس خدا کو پکارتے ہیں
مگرخداہے
مگرخداہے وہ ایک لمحہ جوعقل ودانش سے ماورا ہے
جسے سمجھنے کی جستجومیں زمانہ صدیاں لگاچکا ہے
وہ ایک آنسوجوظلمتوں کاجواب بن کرکسی کی آنکھوں سے گرپڑا ہے
وہ ایک جذبہ جوزیرخنجربشکلِ سجدہ ادا ہوا ہے
بتارہا ہے
کہیں خدا ہے
یہیں خدا ہے
یقیں خدا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید دکھائیں

طارق قمر

ڈاکٹر طارق قمر

متعلقہ

Back to top button
Close