نظم

یومِ تسخیر قمر

یومِ تسخیر قمر(۲۰ جولائی ۱۹۶۹)  کی مناسبت سے ایک  موضوعاتی نظم

احمد علی برقیؔ اعظمی

۲۰ جولائی کا دن ہے یومِ تسخیرِ قمر

ابنِ آدم نے قدم جب اپنا رکھا چاند پر

ناہ شق ہونے کی تھی تصویر میں واضح لکیر

معجزہ شق القمر کا آگیا سب کو نظر

روح پرور ہے شبِ معراج کی روداد جب

طے کیا محبوبِ رب نے عرشِ اعظم کا سفر

کُھل رہے ہیں ذہن کے تازہ دریچے آج کل

کرتی ہے سائنس اسرارِ ازل سے باخبر

کررہا ہے اب یہ ثابت اپنی ایجادات سے

مایلِ پرواز سوئے عرش ہے نوعِ بشر

ہیں وسیلے آج عصری آگہی کے بے شمار

پڑھنے کو ملتی ہیں خبریں نِت نئی شام و سحر

ہوگئے ہیں فاصلے سب خرم قُر ب و بُعد کے

ملِ جامِ جَم ہے اِنٹرنٹ سے برقیؔ اپنا گھر

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close