نظم

یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے

تم ہو غنچہ و گُل کے آج پاسباں اس کے

احمد علی برقی اعظمی

یہ چمن تمھارا ہے تم ہو باغباں اس کے
تم ہو غنچہ و گُل کے آج پاسباں اس کے

فرض جو ہمارا تھا کردیا ادا ہم نے
ہیں تمہارا سرمایہ آج نوجواں اس کے

تم امین ہو جس کے وہ مری امانت ہے
میہماں ہوںمیں جس میں تم ہو میزباں اس کے

یاد ہے تمہیں بھی کیا ان کی یہ فداکاری
آج جتنے چہرے ہیں زیبِ داستاں اس کے

کیا کبھی تَرَس آیا تم کو ان کی حالت پر
خوشنوا عنادل کیوں اب ہیں نوحہ خواں اس کے

قافلے کاکیوں اس کے منتشر ہے شیرازہ
اس لئے بنے تھے کیا میر کارواں اس کے

زد پہ آج برقی کا کیوں ہے آشیاں ان کی
اِرد گِرد رہتی ہیں صرف بجلیاں اس کے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close