آفیسرز آن سپیشل ڈیوٹی

کیبل ٹی وی کے اینکرز اُبھرتی یااُبھارتی ہوئی بھارتی اداکاراؤں کو تو اپنی اور کیمروں کی آنکھ سے مناسب کوریج دیتے دیکھے سُنے گئے ہیں۔ ماضی کے دبنگ افسر اور فی زمانہ سرکاری ہیڈکوارٹروں میں لائن حاضر آفیسرزآن سپیشل ڈیوٹی یعنی افسرانِ بکارِ خاص کو مگرکوئی لفٹ نہیں کرواتا۔نام نہاد آزاد میڈیاکی طرف سے اپنے ہم جِنسوں کی یُوں نظر اندازی جیسے اہم قومی معاملے پرازخودنوٹس لیتے ہُوئے اُن کے پتلے حالاتِ کاربابت یہ حقائق نامہ شائع کیاجاتاہے تاکہ طبقاتی امتیاز کے خاتمے کی جدوجہد میں نیلسن منڈیلامرحوم کی تحریک کا عملاََساتھ دیاجاسکے۔

حقائق یہ ہیں کہ خضاب لگی جعلی ڈراؤنی مونچھوں والے پیادے ، صاحب بہادروں کی چمچماتی کار پر دفتر آمد کے موقع پر بڑے گیٹ سے باہر آ کر خُوب ہٹو، بچو، کرتے ہیں ۔ شوروغُل کی وہ تقریب سرکاری دفتر کے روزمرہ کا گویا کار آمد واقعہ ہوتی ہے ۔ کبھی کبھی یہی صاحب بہادر اپنے سے کُچھ زیادہ بہادر کی شفقت کا شکار ہو کرافسر بکارِ خاص المعروف اوایس ڈی مقرر ہو کر بے کار ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں ہمہ یاراں اوایس ڈی جو کبھی ایک دوسرے کا جنازہ پڑھنے کو تیار نہ تھے قومی اتفاقِ رائے پیدا کر کے سمجھوتہ ایکسپریس کا انتظام کرلیتے ہیں ۔ عقل سے پیدل قاری سمجھوتہ ایکسپریس کوامن کی آشا مارکہ پاک بھارت ریلوے سمجھیں گے۔ حالانکہ اِس سے مراد کسی دُور اندیش کی بھلے وقتوں میں خرید کردہ800 سی سی گاڑی نُما مشین ہے جو مخدوش نوکریانہ حالات میں سی۔ ون۔ تھرٹی۔ سے زیادہ کُشادہ اور با عزّت سواری ہے اور جِس میں درجن بھر اوایس ڈیز کُھلے ڈُلے پورے آجاتے ہیں۔ ڈبل سواری پر عدم پابندی والے دِن ڈاک مُنشی کے موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ بھی نیم سمجھوتہ ہی ہے ایکسپریس بھلے نہ سہی۔ اب اِس بات کا بے محل تذکرہ غیبت نہیں تو اور کیا ہے کہ بھلے وقتوں میں اُن میں سے ہرصاحب اتنا بڑا صاحب رہا ہُوا ہوتا ہے کہ 3000 سی سی جِیپ کے کم گریڈ ڈرائیور کے پیچھے اُلٹی سمت میں واقع صاحبوں والی نشست پر بمشکل پُورا آتا ہے ۔باقی جہاں تک "بھلے وقتوں” کا تعلّق ہے تواِس سے خلیفہ مامون الرشید کا عہد نہیں بلکہ مراد وہ سُنہری دور ہے جب آج کے اوایس ڈی گُُذرے کل کے انگریز جیسے صاحب ہُوا کرتے تھے، کاٹھے ہی سہی، تھے تو۔

اوایس ڈی کی کئی اقسام بڑے حکومتی دفاتر میں معقول تعداد میں دستیاب رہتی ہیں۔ سیاسی دورمیں اِن کی مارکیٹ خُوب پَھلتی پُھولتی ہے۔ مشہور قِسم بسیار گو المعروف تقریری ہے ۔ اگرچہ سائیں چُپ شاہ کے پیروکارصُوفی اوایس ڈی بھی قلیل تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ بسیار گو حضرات کو مالیخولیا سے مِلتی جُلتی ایک بیماری لاحق ہوتی ہے جو اگرچہ بعداز ریٹائرمنٹ زیادہ شِدّت سے حملہ آور ہوتی ہے مگر نوکری کے بکار خاصی عرصے کے دوران بھی اِس مرض کا حملہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اِس بیماری کا مریض اپنے تابناک ماضی اور پیشہ ورانہ فتوحات بابت نان سٹاپ داستانیں ہیڈکوارٹرکے کلرکوں کو سُنا کر انھیں متاثر کرتا ہے جِس دوران اُن کے کانوں کے علاووہ دماغ کے خُلیے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ عام سائلین کوتاریخی "نہ” کرنے جیسے متعدد قِصّے اِن داستانوں کا حرفِ آخر ہوتے ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے دفتر پہنچنے کے بعد پہلا مرحلہ حاضری لگانے کا ہے۔ صاحبانِ حال کیلئے رجسٹر حاضری چپڑاسی حضرات سجے سجائے دفتروں میں لے جاکر برائے دستخظ پیش کریں گے۔ اوایس ڈی کو حاضری لگانے کیلئے سُوت کی رسّی سے نظرکا چشمہ لٹکائے ایک حاضر دماغ شخص کے حضوراصالتاََ پیش ہو کر یک طرفہ گپ شپ کے دوران آٹھ منٹ لیٹ آنے کی معقول وجہ خوش خلقی کے ساتھ بیان کرنا ہو گی۔ آس پاس موجود حاسد ین اظہارِاخلاق کوجان بُوجھ کر خوشامد قرار دیں توایسے شرپسندانہ ریمارکس کوکاروائی سے حذف کرنا ہوگا۔

اگلا مرحلہ افسرانہ اُٹھک بیٹھک کیلئے کسی دفتر میں بس ایک کُرسی کی تلاش ہے۔ اِس کیلئے بڑے صاحب کے پی اے کا کمرہ موزوں رہے گا۔ ادھر کسی نہ کسی کرسی کا خالی پایا جانا بعید از قیاس نہیں۔ کسی سائل کی خالی کردہ نشست پرہی ہاتھ صاف کئے جا سکتے ہیں۔ پھر وہاں بیٹھنے کے کئی فائدے ہیں۔ مثلاََ پی اے کے سامنے بڑے صاحب کی اُن خوبیوں کاحسبِ موقع بیان جو خود اُن پر بھی تا حال ظاہر نہیں ہوئیں۔ کیا عجب پی اے کی رپورٹ پرکہیں چھوٹا موٹا صاحب لگنے کی اُمیدپیدا ہوجائے۔

کُرسی کے بند و بست کے بعد مسئلہ سات گھنٹے بغیر کام کئے بیٹھے رہنے کا ہے۔ صرف جماہیاں لیتے اور بڑے صاحب کی پوشیدہ صلاحیتوں کے بیان میں آخرکتنے دِن گذریں گے ؟مسئلے کے کئی حل آئے روز کے بکارِ خاص مقررین نے تجویز کئے ہیں ۔( مقررین میں مقرر کا لفظ تقریر اور تقرر دونوں سے مآخذ سمجھا جائے) ۔ ایک طریقہ تو تین چار اردو اخبارات کا الف تا ے مطالعہ ہے۔ اِس دوران گردوپیش میں موجود سائلین اور کلرکوں کے سامنے عالمانہ گفتگو کر کے اچھا خاصا دانشور قرار دیئے جانے کا چانس نکل سکتا ہے ۔ خاص موضوعات جِن پربآوازِ بُلند غوروفکر کر کے تعمیری وقت گزاری ممکن ہے اُن میں اُردو کودفتری زُبان قراردینے، اقرباء پروری کے خاتمے اور میرٹ کی بالادستی وغیرہ موقع اور محل کی مناسبت سے فِٹ بیٹھیں گے۔ تام چینی کی نیلی کیتلی میں پی اے کیلئے منگوائی گئی چائے میں سے آدھا کپ ہمراہ ایک بسکٹ او ایس ڈی کو بھی یقیناََ مِل جائے گا۔ ہو سکتا ہے دیگر دنیاوی حاجات بھی کسی قدر پُوری ہو رہیں۔

سرکاری لائبریری سے مُلحقہ کاٹھ کُباڑ والا سٹور بطور دفتراوایس ڈی کو الاٹ ہو ہی جائے توافسری کو کما حقہ ‘ قائم کرنے کا نیا مسئلہ درپیش ہوگا۔ آپ نے بالکل ٹھیک سمجھا، یعنی دفتر کیلئے اردلی کا انتظام ۔ ڈیوٹی کی خاص نوعیّت اور اہمیّت کے پیشِ نظر اوایس ڈی کو عام طور پر ایک پرہیزگار صورت شخص بطور اردلی عطا کیا جاتا ہے۔ یہ متّقی بندہ مگر دیوار کے ساتھ کان لگا کر غیبت سیشن کی مکمل رپورٹ زمانہ حال کے صاحبوں کو بصورتِ چُغلی دے کر اُن سے بطور انعام دو ماہ کی چُھٹی منظور کروانے کے چکروں رہتا ہے۔ دیسی مٹیریل سے بنے اِس کے کان کے پردے صرف اصلی صاحبوں کی گھنٹیاں سُن کر تھرتھراتے ہیں۔ اوایس ڈی صاحبان دفتری کال بَیل اٹھا کر اردلی کے کان کے ساتھ لگا کر بجائیں ، عزت بچاؤ سکیم کے تحت دُبکے بیٹھے رہیں یا پھر اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی فضیلتوں سے فیض یاب ہوں، پسند اپنی اپنی ، نصیب اپنا اپنا ہے۔ مزید حقائق کی ٹوہ لگائی جا رہی ہے۔



⋆ طارق بابر

طارق بابر