انگلش میڈیم اسکول

آپ انڈر میٹرک ہیں یا اندر سے میٹرک ہیں، ایک ہی بات ہے۔ لہٰذا فکر کی کوئی بات نہیں۔ ڈگری یافتوں کی طرح بے روزگاری کا رونا مت روئیں۔ خود روزگار سکیم کے تحت سکول کھول لیں۔ باہر والے بورڈ پر سکول کے نام کے نیچے "انگلش میڈیم” ضرور لکھوائیں۔ کونے والے بے کارکمرے میں بحساب مبلغ گیارہ سو روپے فی نگ تین عدد خراب کمپیوٹر خرید کر رکھ دیں۔ اِس طرح سکول کے نام کے ساتھ چھوٹی بریکٹوں میں "کمپیوٹرائزڈ ” یا "جدیددور کے تقاضوں سے ہم آہنگ” لکھا جاسکے گا۔ طلبہ کی سکول یونیفارم ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹوں کی وردیوں سے مشابہ مقرر کریں۔ طالبات کیلئے کم از کم میڈیکل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم لیڈی ڈاکٹروں جیسی وردی پہننا ضروری قرار دیں۔ اِس طرح سکول کسی معروف کیڈٹ کالج کا بغل بچّہ نظر آسکے گا۔ سکول کے نام کے آخر میں "اینڈ اکیڈمی”لکھنے کے فوائد سے آپ خُوب آگاہ ہیں۔ مطلب سکول ٹائم ختم ہونے کے بعد طلبہ و طالبات پھنسے پھنسائے مرغوں کی طرح اضافی فیسیں ادا کر کے شام کوٹیوشن پڑھا کریں گے۔ چاہے تو اکیڈمی کے لفظ کو اکادمی لکھ کر اکادمی ادبیات کا سا تاثر دیجئے ۔کسی سستے پینٹر سے سکول کی دیواروں پر ہاتھی، گھوڑوں، بطخوں اور زرافوں کی تصاویر پینٹ کروانا لازم ہیں۔ اگر زرافے کی لمبی گردن بنانے کیلئے دیوار پر جگہ نہ بچے تو گدھے سے ملتی جُلتی پینٹنگ بنوا لیں۔فن شناس گدھانما زرافہ سمجھ کر زیادہ داد دیں گے۔

کھلونوں کے لنڈا بازار سے پندرہ بیس باگڑ بِلّے اور بھالو وغیرہ لا کر سامنے کے کمرے میں بکھیر دیجئے۔ اِس کمرے کا نام Activity based لرننگ سنٹر رکھ لیں۔ اپنے محلّے کے مولوی صاحب کو 20روپے روزانہ کا مشاہرہ ادا کردیں تو مولوی صاحب مارننگ اسمبلی میں جناح کیپ اور واسکٹ پہن کر تلاوت کردیں گے۔ آپ سکول کے اشتہاروں میں اُن کی ایک آدھ تصویر کے ساتھ "دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بالکل مفت” کے جملے بھی شامل کر لیجئے۔ دائیں بازو والوں کو تعلیم کی ترغیب دینے میں آسانی ہو گی۔ آپ کو انگریزی پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔ ٹینشن نہ لیں۔ بلکہ اِس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ ملک کی اکثریت کے نمائندے ہیں۔ آپ انگریزی کے لفظ Horseکو حارث ہی پڑھاتے رہیں۔ آپ سے پہلے ماسٹر قائم دین صاحب Cupکو کَپ کی بجائے سَپ (سانپ) پڑھاتے تھے، تب کیا فرق پڑا تھا؟ بس ایک دفعہ کلاس رومز کے باہر روزانہ کا ٹائم ٹیبل پکّے پینٹ کے ساتھ انگریزی میں لکھوا لیجئے۔ لکھوانا کیا ہے،اِس بابت کسی بی اے پاس سے پوچھ لیں۔ میڈیم کا فرق صاف نظر آئے گا۔

سکول کھولنے کے ساتھ ساتھ اگر آپ کسی پگڑی اُچھال قسم کے "قومی ” مجلّے کے اعزازی نامہ نگار بھی لگ جائیں تو سونے پر سہاگہ ہے۔ اپنے اخبار میں سکول کے جہازی سائز اشتہار چھاپ کر سہراب کی سائیکل پر سوار ہو جائیے ۔ پھر پرنٹ کی گئی گیارہ کی گیارہ کاپیاں نائی کی قریبی دکان، چائے کے کھوکھے، سبزی کے ٹھیلے اوربرف کے پھٹے وغیرہ پر بدستِ خود تقسیم کر آئیے ۔ سکول کی شہرت متعدی مرض کی طرح چار دانگ پھیل جائے گی۔کیبل ٹی وی کے اشتہاروں میں بھی یہی باور کروائیے کہ آپ کے سکول کے سارے بچّے پڑھ لکھ کر بڑے آدمی ہی بنتے ہیں۔ عملی طور پر اگر 92 فیصد آٹھویں کے امتحان میں تین چار بار فیل ہو کر گدھا گاڑی پر جانوروں کا چارہ ہی ڈھوتے رہیں تو بھلا انگلش میڈیم سکول کا کیا قصور؟
بغیر پڑھے پڑھائے بچّے پاس کیسے ہوں گے؟ یہ مشکل سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے۔حل سیدھا سادہ ہے۔ امتحان کے دوران تمام سوالات مع جوابات بورڈ پر لکھ دیجئے ۔بچّے نقل کرکے لکھ لیں گے۔ سو فیصد رزلٹ اے پلس گریڈ کے ساتھ پھر کیسے نہیں آئے گا۔ یہی تو آپ کے سکول کا ماٹو ہے۔ رزلٹ والے دن ہر طالبِ علم کے گلے میں سونے کا پانی چڑھے خالص پلاسٹک کے چار پانچ میڈل طوق کی طرح لٹکا دیجئے۔ ساتھ میں دو دو تین تین کپ بھی تھما دیجئے۔ مثلاََ غبارے پھاڑنے کے مقابلے میں اوّل آنے کا کپ، صابن ملے پانی کے بلبلے بنانے میں پہلی پوزیشن کا کپ، سارا سال کتابیں اور کاپیاں صاف ستھری رکھنے (یعنی ایک بھی دفعہ کھول کر نہ دیکھنے) کا کپ، وغیرہ۔ پھر جہاں تک پڑھانے کاتعلّق ہے تو انگریز شاعر جین ٹیلر کی نرسری کے بچّوں کیلئے لکھی نظم "دی سٹار” کے اشعار ٹوِنکل ٹوِنکل لِٹل سٹار آخر کس مرض کی دوا ہیں؟ پانچویں کلاس تک تو اتنا ہی کافی رہے گا۔

وقتاََ فوقتاََ سکول میں سرخ دِن (ریڈ ڈے) اور مالٹا دِن (اورینج ڈے) وغیرہ منانے کا خُوب انتظام رکھیں۔ اِن رنگوں کی عملی تفہیم کیلئے فی بچّہ دو کلو سرخ انار اور تین درجن اچھی کوالٹی کے مالٹے لانے کی ہدایات ڈائری میں لکھوا بھیجیں۔ تعلیم کی تعلیم، پارٹی کی پارٹی ۔ ڈائری سے یاد آیا کہ سکول کی کاپیاں، کتابیں اور جرابیں آئے روز تبدیل کرنے کی پالیسی پر ہر صورت گامزن رہیں۔ اور یہ تو آپ پہلے سے جانتے ہیں کہ طلبہ و طالبات کو کتابیں، کاپیاں ، سٹیشنری اور یونیفارم وغیرہ ون ونڈو آپریشن کے تحت سکول کے اندرایک ہی چھت تلے مہیّا کرنا انگلش میڈیم والوں کی پرانی روایت ہے۔ یہ کوئی سرکارکے پیلے سکول تھوڑے ہیں جہاں کتابیں کاپیاں مفت فراہم کرنے کی ریاکاری کی جاتی ہے۔ آپ ریاکاری جیسے گناہِ کبیرہ سے بچتے ہوئے کچھ بھی مفت فراہمی کا مت سوچیں ۔ مالِ مفت دل بے رحم کوئی یوں ہی تو مشہور نہیں ہو گیا ۔طلبہ وطالبات میں سے ہر ایک کو وردی کے اوپر نیلی پیلی پٹیاں پہنا کررکھیں ۔ اِن پٹیوں پر بڑے بڑے عہدے طِلّے کی کڑھائی میں درج ہونے چاہیئیں ۔ فی پٹی قیمت مبلغ اٹھارہ سو روپے نقد رکھیں۔ پٹیاں دیکھ کر سادہ لوح والدین مطمئن رہیں گے کہ اُن کا بچّہ سکول سے فارغ التحصیل ہوتے ہی براہِ راست ملکی نظم ونسق سنبھال لے گا۔ آپ بس فی پٹی قیمت آئے روز بڑھاتے رہیں۔ یہ ضرور ہے کہ جب ساری کلاس ہی پٹیاں پہن کر مانیٹر بن جائے گی تو اِس بات کا پتہ لگانا خاصا مشکل ہو گا کہ مانیٹرنگ کرنی کس کی ہے۔

سکول کے استقبالیہ دفتر میں کسی روشن لباس پری چہرہ کو گلابی اردو اور کاٹھی انگریزی کے چند فقرے سکھا کربٹھا دیجئے ۔ اِس طرح کہ انگریزی میڈیم سُنائی دے تو دکھائی بھی دے ۔ سکول میں چھٹی اور تفریح کے اوقات کو بالترتیب ہوم ٹائم اور بریک ٹائم کہنا ہو گا۔ دودھ کومِلک اور سیب کو ایپل کہہ پکاریں۔ اُستانی صاحبہ مَیم یا مِس کہلوائیں گی تو بزعمِ خود بڑے بڑے دانشور بھی آپ کے سکول کا میڈیم پہچان لیں گے۔ ماشااللہ، آپ ایک تسلیم شُدہ "ادارے” کے مالک بن چکے ہیں۔ چاہے تو ہر سال ایک برانچ ہراگلے محلّے میں قائم کرتے جائیں اور یوں (عبرت کا) درس دینے اور "تعلیمی” انقلاب برپا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اِس قدر انگلش میڈیم اقدامات کے باوجود کوئی حاسد خواہ مخواہ آپ کے سکول پر "کوّا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا” جیسے فقرے کستا پھرے تو ایسے زبان دراز کی زبان بندی صرف نظر بندی سے ہی ممکن ہے۔



⋆ طارق بابر

طارق بابر