طنزو مزاح

شاباش بیٹا شاباش!

ابو عمارہ

(آکوٹ)

"ابو”

"جی بیٹا "

 ” آج تو میں آپ کو اخبار پڑھ کر نہیں سنا سکتا.”

 "کیوں بیٹا۔؟”

 "ابو ، میں کیا بیان کروں، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ھے۔ "

 "آخر کیا بات ھے بیٹا ؟”

 "ابو مجھے معاف کیجیےُ ،  میں انکل سے کہدیتا ھوں، وہ آپ کو آج کا

"اخبار پڑھ کر سنا دیں گے۔”

"کوئی بات نہیں بیٹا۔۔۔۔! "

اور انکل حاضر ھو گئے

 ” بھیا آج آپ اخبار نہیں پڑھے۔”

 ” ارے میاں، آج تو بیٹا کا بڑا عجیب موڈ تھا،اخبار پڑھ کر سنانے کو تیار نہیں۔ میں تو آنکھوں  سے معذور ھوں، روز تو بیٹا ہی پڑھتا ھے ۔۔لیکن آج۔۔۔”

 "ہاں بھیا آج وہ نہیں پڑھ سکا، وہ آپ کے سامنے   شرم کے مارے  اپنی  زبان سے  یہ خبر نہیں  پڑھ سکتا تھا ، "

” ہاں ! کہہ تو رہا تھا، ابو میں آج تو آپ کے سامنے نہیں  پڑھ سکتا ،آخر کیا خبر ھے؟”

 "بھیا , بس یہ سمجھ لو قیامت قریب ھے۔”

"کیا  مطلب؟”

 "مطلب یہ ھے کہ بس خدا ہمیں اب یہ دن نہ دکھائے،  اچھا ھے کہ ہمیں اٹھالے۔”

” ارے میاں کچھ بتاؤ گے بھی،؟”

 ” تو سنئیے اور سر دھنیئے۔، خبر ھے کہ سپریم کورٹ نے اسے گناہ تسلیم نہیں کیا۔۔۔۔”

” کسے گنا  تسلیم نہیں کیا ؟    آگے تو  پڑھیئے ۔”

 "بھیا سچ کہتا ھوں ایسی  بے حیا بات زبان پر لاتے ہویے شرم آتی ھے۔ "

"ایسی کیا بات ھے ؟”

 ” اور آپ جیسے شریف اور نیک انسان کے سامنے تو واقعی  مجھے بھی تکلف ھورھا ھے۔  بیٹا بھی اسی لیے شرما رہا تھا،”

"آخر کچھ بولو گے بھی ؟”

"تو سنیئے۔   سپریم کورٹ نے  عورت کو یہ آزادی دے دی ھے کہ اگر وہ اپنے شوہر کے علاوہ بھی کسی غیر مرد کے ساتھ رھے تو شوھر اسے منع نہیں کرسکتا، مرد کی وہ غلام نہیں ھے ۔ اس کا یہ فعل قابل جرم نہیں ہوگا۔”

"ارے ۔۔ارے۔۔ تم کس دیش کی بات کر رہے ھو ، ۔۔۔۔۔یہ   یہ   قانون  ؟؟”

"بھیا ، اپنے ھی دیش میں اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ھے کیا۔  اور اسی طرح ،عورت کو بھی شوھر پر اعتراض کرنے کا حق نھیں وہ بھی کسی کی بیوی یا کسی غیر عورت کے ساتھ رہ سکتا ھے۔”

"چھی چھی۔۔۔۔۔۔یہ   کیسے ہوسکتا ھے،   ؟”

 "ھو رھا ھے۔۔۔۔؟  کیا نہیں ھورھا ھے، مرد مرد کے ساتھ میاں بیوی کی طرح اور عورت ۔۔عورت  کے ساتھ۔ رہ سکتی ھے۔۔۔ اور شادی کے بغیر لڑکا لڑکی ایک ساتھ اپنی مرضی سے رہ سکتے ہیں۔۔۔؟”

 ”  آف خدایا ۔۔۔  آخر مرتے مرتے مجھے یہ سب  سننا پڑھے گا۔ آخر کیا ھوگا میرے پیارے دیش کا۔ اتنی سڑان اور گندگی ھو گی یہاں۔۔میں تو سن رہا تھا، صاف صفائی کا دور آرہا ھے۔ نہیں  نہیں   ھماری تہذیب کا، ھمارے کلچر کا ، ھماری  عزت کا جنازہ اٹھ رہا ھے یہاں،  اگر یہ قانون  بن رہا ھے، تو عورت کی عزت خاک میں مل رہی ھے ۔ آہ! خدایا، کاش یہ صدا میرے کانوں میں نہ پڑتی۔۔۔۔۔ کیا ھوگا ھماری اولادوں کا۔  ھماری نسلوں کا  ۔ ۔۔۔۔ "

 اور اور   بیٹا آگیا۔۔۔۔

"ابو، ابو   ابو    ارے ابو آپ رو رھے ہیں۔۔۔ ابو آپ کے ان بہتے ہویے آنسوؤں کی قسم   آپ کا یہ غیرت مند بیٹا ، آپ کے آنسوؤں کی لاج رکھے گا۔ اور آخر دم تک اس قانون کی مخالفت کرتا رھے گا۔

  نہیں بننے دونگا یہ قانون نہیں بنے دونگا۔۔۔۔!!!

” شاباش بیٹا شاباش….!!.مجھے تم سے یہی امید تھی ۔۔۔۔۔۔ اب میری آتما کو شانتی ملے گی۔۔۔”

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close