پاسنگ مارکس

اماں حضور کی ناقابلِ تبدیل رائے میں ان کی تینوں صاحبزادیوں کے شوہر انتہائی کنجوس، بدزبان اور ڈھیٹ قسم کے افراد ۔تقدیر کا مسئلہ۔ چنانچہ ہر سہ سلیقہ شعار خواتین کی زندگی بس جہنم کا نمونہ ۔ البتہ تینوں کی اولادانتہائی لائق فائق اور ماؤں کی فرمانبردار۔ اماں کے نواسوں کی بیویاں پریوں سے زیادہ حسین اور فرشتوں سے بڑھ کر معصوم ۔تاہم ان کے دونوں بیٹے جورو کے غلام اور ان کی بیویاں نہایت میسنی اور اپنے شوہروں کو پٹیاں پڑھانے کے فن میں طاق۔ جبکہ خالہ ثریا کی تمام بہویں اور بیٹے ان کی انگلی کے اشاروں کے منتظر۔اماں حضور بیمار ، لاغر اور سِن رسیدہ مگر بہو رانی کے کپڑوں ، چلنے پھرنے کے سٹائل ، پڑوسنوں اور سہیلیوں کے ساتھ ہنس ہنس کر مشکوک گفتگو کرنے اور دن بھر کے مشاہدات کی مکمل رپورٹ شام کو بیٹے کے گوش گزار کرنے میں چاک وچوبند۔ ادھر بہو رانی اپنے بھائیوں اور بھابھیوں کی نیکوکاریوں کو بڑھ چڑھ کر نمایاں کرنے اور نندوں کے آنے کی خبر سنتے ہی ڈپریشن کا شکار۔ان کا فرمانِ عالی شان کہ محض اماں کے رویے کی وجہ سے ان کی ساری خود اعتماد ی ختم ہوگئی ۔ گزرے بیس بائیس برسوں میں ناشکرے خاندان کیلئے اتنی قربانیاں دے چکیں کہ عید قربان پر بھی کیا دی گئی ہوں گی ۔ رہا ہر دو خواتین کے درمیان سینڈوچ بنا آدمی، تو موصوف کا ایمان کہ ان سے نیک سیرت فرزند اور لائف پارٹنر چراغ لے کر ڈھونڈو، نہ ملے۔ تو جب تینوں فریق اپنی اپنی جگہ سچے ہیں تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

آٹھ سالہ فرزندِ ارجمند اور بارہ سالہ دخترنیک اختر کو گلہ کہ ابو سال میں بس ایک دفعہ چڑیا گھر، مینارِ پاکستان اور شاہی قلعہ ہی دکھاتے ہیں۔ زیادہ تیر مارا کیا تو تین چار ماہ بعد کتابوں کی دکان سے "سچی کہانیاں ” خرید لائے ۔ پتہ نہیں ان کھنڈر عمارتوں اور نام نہاد سبق آموز کہانیوں میں رکھا کیا ہے؟ البتہ ابا حضور کو پختہ یقین کہ ان جیسا حکیم الامت قسم کا باپ فی زمانہ عدم دستیاب۔ وہ تو بس اولاد کی اچھی تربیت کے خیال سے "آوارہ ” گھومنے پھرنے اور بیہودہ انگریزی ناول پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے تاکہ ان کی پڑھائی کا حرج نہ ہو۔یہاں بھی فریقین اپنی اپنی جگہ سچے ہیں ۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

دفتری ماتحتوں کا خیال کہ افسر سخت گیر ، تند خُواور خود سر ۔خود ماتحت ہڈ حرام پختہ کار ڈھیٹ ۔ بہانہ موجود کہ صاحب کے لیول کی ورک کوالٹی کہاں سے لاؤں؟چنانچہ صاحب موصوف نے کام کو خود پر سوار کیا ہوا اور ماتحت صرف چغلیاں کھانے میں مصروف ۔دوسری طرف صاحب بہادر اچھی طرح جانتے ہیں کہ دفتر میں ان کے علاوہ سب حرام خور، کام چوراور بدعنوان ، جنھیں سبق سکھانا ان کی قانونی واخلاقی ذمہ داری۔ صرف میرٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے خیال سے ہر مثبت فقرے کا آغاز بھی ” نہیں” سے کرتے ہیں۔ دبنگ افسری میں پکے مگر کانوں کے کچے ۔ ماتحت حرام خور کو پستی میں دھکیلنے کی جدوجہد میں فشارِ خون کی بلندی کا شکار۔ بڑے بڑوں کو تاریخی "نہ” کرنے کی عادت یوں پختہ ہوئی کہ عملاََ عوام الناس پر بھی دفتر کے دروازے بند کئے ہوئے۔چنانچہ ظاہر ہے کہ مسئلہ موجود۔ اور اس طرح کے از خود طاری کئے ہوئے پیچیدہ مسئلے سماج کو چہار سو گھیرے ہوئے۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ شوہرِ نامدار صرف زن مریدی میں ٹاپ کرنے کو چھوڑ کر کبھی کبھار بیگم صاحبہ کے مقابل ماں کی بات کو بھی درست سمجھ لے۔دوسری طرف یہ بھی ذہن میں رکھے کہ جنت ماؤں کے قدموں تلے مگر متاعِ دنیا میں سب سے بہتر نیک بیوی ہے۔چنانچہ ہردو انتہاؤں کے مابین بیلنس کر کے مسئلے کے حل کی جانب بڑھنا ممکن۔ اگر اماں حضور کرموں سڑی صاحبزادیوں کی طرح کبھی کبھی کلموہی بہو کو بھی اچھے لفظوں میں یاد کر لیں اور بہو رانی کسی کسی دن اماں کے پاس بیٹھ کر نندوں کی کسی ایک آدھ خوبی کو اجاگر کر دے تو مسئلہ کی شدت میں کمی کا امکان۔ قانون کے پاسدار صاحب بہادر اگر سیلف سٹائلڈ "قانون ” کبھی کبھار ذرا ڈھیلا کر کے کسی سائل کو "ہاں” کر دیں تو آسمان گرنے کا نہیں۔ ادھر ناراض ماتحت غصہ تھوک کر اگر چغلیوں کے ساتھ اپنے کام پر دھیان دے کر روٹی حلال کر لے تو ماحول کا تناؤ کم ہو نے کا روشن چانس ۔ ابا میاں جنھوں نے اولاد کو آوارگی سے بچا کر گھر کی چار دیواری میں قید کر رکھا ہے، اگر مہینے میں ایک دو بار انہیں گھر سے باہر کی دنیا دکھا لائیں اور بدیشی مصنفین کے دو چار ناول لے دیں تو بدبخت اولاد کے بگڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں۔

صاحبو اور میڈمو! بات سیدھی ہے۔ بیشک غیبت، بدگمانی، بہتان تراشی، کام چوری، عیب جوئی اور ہٹ دھرمی کے بغیر کھانا ہضم کرنامشکل ۔ تاہم کسی بھی 70سالہ حکیم درویش باوے یا ڈاکٹر ولمار شوابے نے بدہضمی سے بچنے کیلئے ان مشغلوں میں 100فیصد نمبر لینا ضروری قرار نہیں دیا۔ سرکاری سکولوں میں آج بھی 33 فیصد والا پاس ہوتا ہے ۔ اگر ان دلچسپ مضامین میں صرف پاسنگ مارکس اور کبھی کبھی کمپارٹمنٹ لینے پر قناعت کر لی جائے تو بلڈ پریشر کم کرنے کو ایک ایزی ڈے روزانہ نہ کھانی پڑے ۔ اگر آپ مسئلے کے مندرجہ بالا حل سے متفق نہیں تو کوئی بات نہیں۔ اپنی جگہ اکڑ ے بیٹھے رہیں۔ لوگ بھی اپنی پوزیشن چھوڑنے کو نہیں۔ البتہ اپنی اپنی جگہ اکڑے رہنے سے لکڑی ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ گارنٹی ہے کہ اگر کچھ موم آپ شامل کریں تو کچھ ربڑ لوگ بھی لے ہی آئیں گے۔ اس طرح لچک پیدا کر کے خواہ مخواہ کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ باقی پتہ سب کو ہے کہ کرنی آپ نے اپنی مرضی ہے۔ علی الصبح ایک گولی ایزی ڈے اور ہٹ دھرمی کا پرنالہ وہیں پر!



⋆ طارق بابر

طارق بابر