پانی پانی….!

محمد حسین ساحل، ممبئی

imageہمارے یہاں پانی کی فراوانی گھر گھر نظر آتی ہے۔ ہم پانی کی قلت کے تعلق سے زور و شور سے تقریر کرتے ہیں ، خواتین خالی برتن لیکر سڑکوں پر اُتر آتی ہیں ۔یہی لوگ گھر میں شیونگ یافیش واش دھوتے وقت نل سے مسلسل پانی بہاتے ہیں۔ نل بالکل لا پرواہی سے کھلا رکھ دیتے ہیں۔ پانی شاید ہمارے پاس اتنا ہے کہ اسے کس طرح استعمال کیا جائے یہ ہمارے سامنے ایک مسلئہ ہے۔ اس کے لئے خواتین بھی کافی مدد کرتی ہیں۔ اسی لئے آج نل میں پانی آیا نہیں ایسی شکایتیں باورچی خانہ سے سننے میں آتی ہیں۔ اسی وقت عورتیں ایک دن پہلے کا پانی پھینک کر تازہ پانی بھرنے کیلئے تازہ دم نظر آتی ہیں۔ کچھ اصول سماج میں صرف خلاف ورزی کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ گھر کے مالک یا مالکن اگر اس طرح کی حرکت کرے تو پھر کام والی بائی کیسے پیچھے رہ سکتی ہے۔ وہ چائے کی پیالی دھونے میں نل کا پانی اتنی مقدار میں بہا دیتی ہے کہ اس دوران پانی سے ایک بالٹی بھر جائے گی۔ کپڑے دھوتے وقت نل سے پانی اس طرح بہتا رہتا ہے کہ کسی سنگیت کے سنائی دینے کا گمان ہوتا ہے گویا گھر گھر پانی بہانے کا مقابلہ چلتا ہو۔

ماہرین آب و ہوا کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی عالمی جنگ ہوئی تو اس کی وجہ صرف پانی ہی ہوگی۔ اس وقت انھیں ہمارے گھروں میں جھانکنے مشورہ دینے کو جی چاہتا ہے(ویسے دوسروں کے گھروں میں جھانکنے کی شرعاً بھی اجازت نہیں ہے) ہمارے گھروں میں پانی کو اس طرح غیرذمہ داری سے بہایا جاتا ہے پھر ماہرین آب و ہوا اس طرح کی باتیں کہاں سے دریافت کرتے ہیں، اس تعلق سے تعجب ہوتا ہے۔ اشیاٹک ڈیولپمنٹ ونگ کے مشہیر راجن تھین نے پانی کے تعلق سے لوگوں کو یہ کہہ کر خوفزدہ کردیا تھا کہ پانی کا فضو ل استعمال کرنا اگربند نہیں ہوا تواناج کے پیداوار پر اس کے بُرے اثرات پڑنے کی امکانات ہیں۔ ہمیں ماہرین کو یہ بات بتانا چاہیے کہ ہمارے کھیتوں پر نظر ڈالیں ہمارے طریقہ آبپاشی میں ہم سے کوئی سبقت نہیں لے جاسکتا ، ہم نہر کا پانی کھیتوں میں چھوڑتے ہیں اور پیڑ کے نیچے بیٹھ کر کنکر پھینکتے ہیں۔ ’ڈب ڈب‘ آواز آنے پر سمجھ لو پودوں کو پانی پلانے کا کام ہوگیا اور ان کے پاس آبپاشی کی یہ بہترین آئیڈیا ہونے تک اناج کی پیداوار کم ہونے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا اشیاٹک ونگ کی رپورٹ صر ف ڈر و خوف پیدا کرنے کیلئے شائع کی گئی ہے؟یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔

شہروں میں ہرسال ۹۲ ارب مربع میٹر پانی (جس کی قیمت 63 کروڑ کے لگ بھگ ہے) سپلائی کے وقت برباد ہوتا ہے۔ مہاراشٹر میں اس طرح برباد ہونے والا پانی کا تناسب 4 سے 5 فی صد ہے۔ مگر اس کا فائدہ انھیں نظر آئے گا تو پھر یہ ماہرین کس کام کے؟ پائپ لائن سے اگر پانی رسنا بند ہوجائے تو پھر اس کے آس پاس سبزیاں کیسے اُگے گی، جانور گھاس کہاں سے کھائیں گے۔ بلکہ اس طرح کے شہروں کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا جانا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ندیوں اور نالوں کو صاف رکھنا چاہیے۔ پھر ہمارے گھروں کے سنڈاس کا پانی کیا گھروں میں جمع کرنا ہوگا۔ کارخانوں کا گندہ پانی کیا ٹینکوں میں جمع کریں۔ ہمارا گندہ پانی بہا لیجانے کیلئے یہ ندی نالے بہترین ذریعہ ہے۔ پھر ندیوں کا پانی خراب ہونے پر کیوں شو مچایا جاتا ہے۔ یہی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ بلکہ ندیوں میں گندہ پانی بہنے سے پانی کے تعلق سے ہونے والے جھگڑے اب ختم ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کیونکہ ندی میں جب صاف پانی بہتا تھا تو ہرصوبہ میں اس پانی پر سے جھگڑا فساد ہوتا تھا۔ ندیوں کوگندہ کرنے سے نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔اتنی اہم بات اگر سمجھ میں نہیں آتی تو پھرانھیں ماہرین آب و ہوا کیسے کہا جاسکتا ہے۔ ایشائی ممالک میں استعمال کا پانی ندیوں میں چھوڑا جاتا ہے ، یہ بات ماہرین آب و ہوا نے پیش کی ہے۔ ندی کے پانی کی وجہ سے ہونے والے پانی کے جھگڑوں سے اگر ہمیں بچنا ہے تو اس تناسب کو 100 فی صد تک کیسے پہنچایا جائے اس تعلق سے ہمیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، اس کا دوسرا فائدہ استعمال شدہ گندہ پانی اس طریقہ عمل سے شہروں میں ہونے والے غیر ضروری اخراجات سے بچا جاسکتا ہے اور یہ رقم دیگر ترقی کے کاموں میں خرچ کی جاسکتی ہے۔

اپنے یہاں شہری لوگوں پر تنقید کرنے کا چلن شروع ہوگیا ہے، ممبئی کے پاش علاقوں میں جتنا پانی بیت الخلاء میں Flush فلش کے راستے بربادکیا جاتا ہے اس پانی کی مقدار سے مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ایسا بھی کہا جارہا ہے کہ پونہ شہر میں لوگ جس مقدار میں پانی کا استعمال کررہے ہیں اس مقدار سے دوسرے شہروں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کی واقعی ضرورت ہے کیونکہ مہاراشٹر میں زیادہ سے زیادہ بیرونی ممالک کے لوگ ممبئی میں ہی آتے ہیں،انھیں اپنی خود کفیلی اور خوشحالی تو نظر آنی چاہیے، ورنہ Foreign Investment کیلئے وہ مہاراشٹر کے بجائے گجرات کا رخ کرلیں گے۔ حکومت کے ترقی کے اس نقطہ نظر پربنا غور و فکر کے تنقید کرنا کہا ں کی شرافت ہے۔ ہوٹل والے بھی اپنی ایک نئی چھاپ پیدا کرنے میں کوشاں ہیں،چھوٹی چائے کی دوکان پر چھوٹے سے گلاس میں اگر ہم پانی کا ایک گھونٹ مار کر گلاس ٹیبل پر رکھتے ہی چائے والا اسے اٹھاکر اس کا آدھا پانی پھینک دیتا ہے۔ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں نل سے گرم پانی آنے کیلئے نل کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے چار پانچ بالٹی پانی مفت میں برباد کیا جاتا ہے، اس کے پس پشت جو مقصد ہے اسے نظر انداز کیا جاتا ہے اور خوامخواہ تنقید کی جاتی ہے۔ ہمیں اس طرح کی طرز زندگی اپنائے رکھنے پر ہمیں پرانے دنوں کی یاد دلائی جاتی ہے کہ پہلے ہمارے ملک میں پانی کی عزت جاتی تھی اور اسے برباد کرنا ایک گناہ سمجھا جاتا تھا، راجستھان کے ریگزار میں ایک لوٹا بھر پانی میں کپڑا بھگو کر نہایا جاتا تھا۔ اگر حقیقتاً نہانا ہوتا تھا تو نہانے کا پانی موری کے راستے برتن میں جمع کرلیا جاتا تھا اور ا س پانی کو کپڑے دھونے میں استعمال کیا جاتا تھا، کپڑے دھونے کے بعد اس پانی کو گوبر سے لیپا پوتی کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا، اس طرح یہاں اُس دور میں پانی کی بچت کی جاتی تھی۔ پانی بچت کا سلسلہ شاید یہی سے شروع ہوا تھا۔ یہی نہیں گاندھی جی نے بھی اپنے شاگرد کو آدھا گلاس پانی پھینکنے کی پاداش میں کافی ڈانٹا تھا۔ مگر یہ سب پرانے لوگوں کی پرانی باتیں ہیں،اب زمانہ بدل گیا ہے، پانی کاتھوڑا بہت اسراف ہونے ہی والا ہے۔ اب پانی کی بچت، معقول طریقے سے اس کا استعمال وغیرہ جیسی باتوں پر بحث کرنے کے بجائے Out of Box thinking کریں۔ پہلے پانی کو زندگی کہا جاتا تھا، تو پھر کیا ہم بھی یہی کہہ کر اپنی پسماندگی کا مظاہرہ کرتے پھریں؟ آج پانی اپنی دولت ہے، اسلئے وہ کسی بھی طرح سے استعمال کرنا ہمارا پیدائشی حق ہے۔ چاہیے ہم جتنا پانی استعمال کریں ، جیسا استعمال کریں یا اس کی بچت کریں یا اس کی ایسی تیسی کردیں، میری مرضی….!



⋆ محمد حسین ساحل