افسانہ

آؤ!  نیکی کرتے ہیں

فریدہ نثار احمد انصاری

دوحہ، قطر

     اب اس نے کھانا بنانا بھی چھوڑ دیا تھا.. لگتا تھا کہ گھر سے لذیذ پکوان کی خوشبوئیں ہی غائب ہو گئ تھیں۔ لیکن وہ کرے بھی تو کیا کہ اب ہاتھ نے ساتھ چھوڑ دیا تھا.. آج دل کر رہا تھا کہ  زردہ بنایا جائے۔ کسی طرح خود کو تیار کیا۔ باورچی خانے میں جاکر پتیلی نکالی.. گھی گرم کیا۔ الائچی بھی ڈال دی۔۔روا بھی ڈال تو دیا لیکن چمچ نے پتیلی میں چلنے سے انکار کر دیا۔ دھیمی آنچ ہونے کے بعد بھی روا جلنے لگا… یاسر کو اس کا احساس ہوا.. اور فوراً سمجھ گیا کہ جمعے کا دن ہے۔ امی کو محبت سے وہاں سے ہٹایا اور بیگم سے میٹھا بنانے کی فرمائش کی.. بیگم بچے کو دودھ دے رہی تھی۔ کہا۔۔ ہاں ہاں امی جان ابھی بنا دیتی ہوں بس ذرا گڈو کو دودھ دے دوں.. امی نے مسکرا کر دیکھا اور کمرے میں چلی گئیں۔ جیسے ہی فریسہ اٹھنے لگی کہ گڈو نے قے کردی۔ اب صفائ کا مرحلہ کہ بچے کو بھی صاف کرنا اور کمرے کی صفائ بھی۔ اس دیرپا کام کو سرخروئ تک پہنچانے میں وہ تقریبا بھول گئ.. کہ بچے کے دوسرے کام تھے وہ بھی آڑے آگئے۔ اور یوں میٹھا ایک خواب نا تمام بن گیا۔
نماز سے واپسی پر بیٹا جب گھر آیا اور جیسے ہی اسے لگا کہ میٹھا بنا نہیں فوراً بیگم کو سخت سست سنانے لگا۔۔۔ امی نے جب دونوں کی تلخ گفتگو سنی وہ کمرے سے باہر آئ اور بس یہ کہا۔۔
” بیٹا!  میں تیری ذمہ داری ہوں۔ بہو کی نہیں.. مجھ سے بہت محبت ہے نا تو تو مجھے میٹھا بنا کر کھلا۔ اس کی ذمہ داری میرے لئے نہیں۔ پھر بھی وہ آگے پیچھے میرے لگی رہتی ہے لیکن تو اپنا کام اپنا سبق بھول گیا۔ صرف حکم چلانا لا حاصل ہے کچھ کر کے بتانے میں ہی بات بنتی ہے۔ بہو کی پہلی ذمہ داری گڈو ہے۔۔ سمجھے۔۔ ”
فریسہ بھی آنے والے لمحات کی گود میں پہنچ گئ کہ ساس کا جواب اس کے لئے بھی مستقبل کا آئینہ تھا۔
یہ دنیا کی ریت۔۔ یہ رشتہ داریاں۔۔ وفائیں عجب نہیں ہیں کہ اللہ رب العزت نے جہاں مرد کو قوام بنایا ہے تو وہیں اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کی ضروریات کاخیال رکھے۔ یہ اس پر فرض عین ہے..قوام کے معنی ہی ایک چوکیدار کے ہوتے ہیں..ہر ایک اپنے کام سے فارغ ہو سکتا ہے لیکن کیا ایک چوکیدار اپنے فرض سے دست بردار ہو سکتا ہے؟
اسی لئے تو اللہ پاک نےایک قصاب کو حضرت موسیٰ علیہ السلام  کا ساتھی بنایا کہ اس نے ماں کی دعاؤں کے اجر میں پیغمبر کا ساتھ پایا۔
ذمہ داری اور نیکی کے  درمیان بس ایک ریشمی ڈور سا فرق ہے۔ ایک پردہ حائل ہو جو ہلے تو اپنا ,نہ ہلے تو پرایا.. صراط مستقیم کی راہ۔ اتنی آسانی سے طے نہیں ہوتی.. اس پر سے بآسانی گزرنے کے لئے دنیا میں کہیں آسان تو کہیں مشکل مراحل سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ بزرگوں کی ذمہ داری اس گھر کے قوام پر ہے.. بہو پر بھی یہ عائد ہوتی تو ہے پر اتنی نہیں.. وہ جو خدمتیں کرے وہ اس کی نیکیاں ہیں۔۔۔ تو پھر آئیں کچھ نیکیاں کرتے ہیں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھ کر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے نیکی کی ہے.. جب کہ یہ تو بندگی کا حق ادا کرنا ہے اور وہ بھی دیکھئے تو سہی کہ کتنا خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں.  اللہ عزوجل اس کے اجر سے ہمیں نوازے گا۔ یہ تو اس کی رضا پر مبنی ہے۔ اس لئے نیکی کرنے کے مواقع تلاش کیجئے.. چاہے چھوٹی ہی کیوں نہ ہو.. ہو سکتا ہے کسی کی مسکراہٹ۔ کسی راستے کے پتھر کو ہی ہٹانا.. کسی کو دیا گیا چھوٹا سا تحفہ۔ کسی کی دعا ہی رب کائنات کی رضا پانے کا سبب بن جائے.. تو چلئے نیکیاں ڈھونڈتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی چڑیا کی چھوٹی سی نیکی جو اس نے اپنی ننھی سی چونچ سے پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی اس آگ کو بجھانے کے لئے کی تھی۔ جس کو دھکانے کے لئے کئ ایام نذر ہوئے تھے.. تب چڑیا سے سوال پوچھا گیا تھا کہ اتنے سے پانی سے کیا اتنی بڑی آگ بجھائ جائے گی.. چڑیا نے فقط یہ ہی جواب دیا تھا کہ میں نے اپنے حصے کا کام کیا.. اب اللہ جانے کہ یہ نیکی مجھے کہاں پہنچائے۔
عینی مشاہدے گواہ ہیں کہ ہم بڑی بڑی نیکیوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں لیکن آنکھ کے عین سامنے کی بہ ظاہرچھوٹی چھوٹی نیکیاں نظر ہی نہیں آتیں۔ اور سوچتے ہی رہ جاتے ہیں۔ اس لئے آئیے آج سے اپنے حصے کی اس ننھی منی چڑیا سی نیکیاں تلاش کرتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close