افسانہ

ادھوری عورت

 شاداب کی ماں برسوں سے بستر مرگ پر پڑی گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی اور وہ پیروں کے پاس بیٹھی اس کے لیے دعا کر رہی تھی کاش خدا…… اتنے میں اس کی ماں نے شاداب کو اپنی جانب مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

 ’’بیٹا شاداب! اب میں زندگی کی آخری گھڑی گن رہی ہوں اب میرا کیا لینا دینا لیکن اس آخری لمحہ میں ایک بات میں تجھے کہہ رہی ہوں اسے میری آخری خواہش کی طرح مان کر اس پر عمل کرنا۔ بیٹا شاداب! ایک عورت کے چار روپ ہوتے ہیں بیٹی اس کا پہلا روپ ہوتا ہے دوسرا بہن تیسرا بیوی اور چوتھا روپ ماں جیسا ہوتا ہے اور ان چاروں روپ میں جب ایک عوت پوری اترتی ہے اور یہ چاروں خوبیاں ان میں موجود ہوتی ہیں تب جاکر وہ ایک مکمل عورت بنتی ہے جس عورت میں ان چار صفات میں سے کس ایک کی بھی کمی رہ جاتی ہے تو وہ کہیں کی بھی نہیں رہتی۔ مثال کے طور پر مجھے دیکھو!میں نے انہیں کیا دیا۔ ماں باپ بھائی بہن تجھے اور تیرے باپ کو یا اس سماج کو۔ ذرا سوچو تو انہیں میں نے کیا دیا سوائے بد نامی کے۔ میں بنائی گئی تھی ان کے سفید دامن کو صاف رکھنے کے لیے لیکن میں نے وہ نہیں کیا۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس ان کے دامن کوانگنت کالے دھبّوں سے بھر دیا اور تجھے بد نصیبی کا موہر۔ تاکہ تجھے پورا سماج کہتا پھرے کہ یہ اسی ذلیل و خوار عورت کی بیٹی ہے جس نے وہ وہ کار نامہ کیا ہے‘‘ اور ……اور اس نے اپنی زندگی کی کہانی سنانا شروع کر دی۔

 ’’ہاں بیٹی! اس کہانی کی شروعات اس وقت ہوئی تھی جب تو پیدا بھی نہیں ہوئی تھی اور میری شادی ہوئے چند ہی ماہ گذرے تھے۔ شادی کے بعد چند ماہ تک  ہماری زندگی خوب ہنسی خوشی گذری لیکن یکا یک میری قسمت نے پلٹا کھایا اور میرے علم و عقل کا غرور و تکبر میرے دماغ پر سوار ہوگیا اس وقت میرے والدین نے بھی میرا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ جس کے سبب دھیرے دھیرے میرا دل تیرے باپ اور ان کے گھر والوں سے اچاٹ ہوتا چلا گیا اور میں ان لوگوں سے نفرت کرنے لگی۔ اس درمیان میں بے ڈھرک بغیر کسی اجازت کے اپنے میکے آنے جانے لگی پھر ایک وقت وہ آیا جب میں مستقل طور پر اپنے میکے میں رہنے کے لیے آگئی اور کچھ دنوں کے بعد ایک پرائیویٹ نوکری کرنے لگی۔ اس درمیان تیرے باپ اور ان کے گھر والوں نے مجھے لاکھ سمجھایا کہ میں میکے کو چھوڑ کر سسرال میں رہوں لیکن میں نے ایک نہ سنی کاش ……کاش میں ایسی بھول نہ کرتی…‘‘۔

 ’’بیٹی! ایسی بھول کبھی مت کرنا ہاں کبھی بھی ایسی بھول مت کرنا باپ کے گھر سے جب سسرال کی ڈولی پر چڑھنا تو سوچنا بھی مت کہ تیرے باپ کا کوئی گھر تھا۔ باپ کا گھر عورت کے لیے ایک اسٹیشن ہوتا ہے منزل نہیں منزل تو شوہر کا گھر ہوتا ہے یہ دنیا ہے نا! دنیا اور سماج ایک دو دن کے لیے کسی زخم پر مرہم لگا سکتی ہے لیکن ہمیشہ کے لیے پٹی نہیں باندھ سکتی ہے۔سوائے شوہر کے۔ دنیا میں جس کا شوہر نہیں اس عورت کا کوئی وجود نہیں ہوتا ہے دیکھو۔مجھے دیکھو… مجھ سے سبق لو اس کی سنتی چلو، اس بد نصیب عورت کا آگے کیا کیا ہوتا ہے۔

’’ہاں تو اس دن کے بعد سے آج تک میں سسرال نہیں گئی اس بیچ تیرا باپ مجھے سمجھانے کے لیے کئی بار آیا۔ لیکن میں نے ایک نہ سنی بلکہ اسے ہر بار دھتکارتی رہی وہ شخص نوکری کرتا تھا اور آج بھی نوکری کرتا ہے جب بھی وہ ہفتہ مہینہ میں گھر آتا تو مجھے سمجھانے منانے اور اپنے گھر لے جانے کے لیے ضرور آجاتا تھا لیکن تھک ہار کرایک دن وہ ایسا گیا کہ پھر دوبارہ اس نے اس دروازے کا منہ نہ دیکھا …‘‘

 ’’وہ شخص شریف تھا مولوی جیسا آدمی، بلاک میں کام کرنے والا اس کے گھر والے بھی بہت شریف تھے تبھی تو وہ مجھے اجتماع میں بیاہ کر اپنے گھر لے گئے تھے ان کے گھر والے بھی لالچی نہیں تھے بس ایک شخص تھا بدمعاش لالچی سازشی اور وہ اسی کی روٹی کھاتا تھا ترے باپ کا چچا اس کی آنکھ بلی جیسی تھی اور چیچک کا داغ اس کے چہرہ کو خوفناک بنانے میں کافی مددگار تھا۔ ہاں تو میں اسی شخص کی سازش کا شکار ہوگئی اس نے اسی سازش میں وہ وہ کارنامہ انجام دیا کہ میں خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی‘‘۔

 ’’جب میں یہاں رہنے لگی تو اس کے چند ہی دنوں کے بعد تیری دادی کی طبیعت خراب ہوگئی اور سبھی لوگ ان کے علاج میں لگ گئے لیکن میں انہیں ایک بار بھی دیکھنے نہیں گئی ان کی حالت ایسی خراب ہوئی کہ لاکھ علاج کے باوجود وہ دوبارہ صحت یاب نہ ہوئیں۔ وہ لوگ انہیں کہاں کہاں نہ لے گئے مگر وہ لوٹ کر گھر نہیں آئیں۔ دہلی کی مٹی انہیں اپنے دامن میں سمیٹ لے گئی اور ترے باپ اور ان کے گھر والے خالی ہاتھ گھر لوٹ آئے چند لوگوں کے علاوہ کسی نے ان کا منہ تک نہیں دیکھا۔

 ’’اس کی خبر ملتے ہی اس شخص نے میرے گھر فون کر کے ان کی موت کے بارے میں بتایا ساتھ ہی مجھے اور میرے گھر والوں کو سسرال جانے کے لیے منع کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم لوگوں کے جانے کی وجہ سے معاملہ خراب ہو جائے ہم لوگوں نے بھی یہی سمجھا کہ ہو سکتا ہے کوئی ایسی بات ہوگئی ہو اب جاکر محسوس ہوا کہ ہم لوگوں نے اس وقت بڑی غلطی کی تھی ہم لوگ تیری دادی کی عیادت میں بھی نہیں گئے تھے تو مجھ پران لوگوں کا غصہ ہونا بھی لازمی تھا لیکن ہم لوگوں سے غلطیوں پہ غلطیاں ہوتی چلی گئی اور بات آگے بڑھتی ہی گئی‘‘۔

 ’’  معلوم نہیں! اس ظالم نے میرے والد کو کیا کیا سمجھایا اور پڑھایا کہ میرے والدہ چند ہی دنوں کے بعد بالکل تنہا کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا …کسی کوبنا بتائے ان کے گھر چلے گئے وہاں جانے کے بعد ان کے درمیان نہ جانے کیا کیا باتیں ہوئیں مجھے معلوم نہیں اس کے بعد بات پہ بات بڑھتی گئی اور پھر میرے والد نے تیرے باپ سے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن انہوں نے لاحول پڑھا‘‘۔

 ’’ابھی شادی ہوئے سال سے اوپر ہی ہواہوگاکہ میں ماں بن گئی اور تو میری گود میں چہکنے لگی اس وقت میں اپنے والدین سے خوش اور سسرال والوں سے ناراض تھی یہاں تک کہ میں ان سے نفرت کرنے لگی تھی تیری پیدائش کی خبر ملتے ہی انہوں نے خط لکھ کر تجھے خوب دعائیں دی تھیں اور تجھے ہمیشہ سبز و شاداب رہنے کی دعا کی تھی یہ وہی لفظ’’ شاداب‘‘ ہے جسے میں نے تیرا نام دے چکی ہوں‘‘۔

 ’’کچھ دنوں کے بعد اسی سازشی کا ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ تیری پیدائش سے وہ لوگ بہت ناراض ہیں شاید اسی وجہ سے وہ تجھے دیکھنے بھی نہ آسکے اس وجہ سے ان لوگوں پر مجھے خوب غصہ آیا۔ خصوصاً ترے باپ کے اوپر اتنا غصہ آیا کہ جو اپنی اولاد کا نہیں ہوسکتا ہے وہ میرا کیوں کر ہوگا لیکن میرے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا کہ ان کی ماں کی موت ہوگئی پھر بھی ہم لوگ ان کے دورازے پر نہ جا سکے تو پھر وہ اپنی بیٹی کو دیکھنے اس دورازہ کا رخ کیسے کرسکتے ہیں اس دروازہ کو تو ہم لوگوں نے ہی ان کے لیے بند کر دیا ہے تو پھر وہ کیوں آئے یہاں وہ بھی تو کسی ماں کی اولاد ہے‘‘۔

 ’’دیکھو بیٹی!اس علیحدگی میں تیرے باپ کا کوئی قصور نہیں تھا میں ان سے نفرت کرتی تھی لیکن وہ ہم لوگوں کے لیے تڑپتے رہے اور میں انہیں ہمیشہ تڑپاتی رہی۔ وہ کئی بار تجھے دیکھنے آئے لیکن میں تم دونوں کے درمیان رکاوٹ کی دیوار بنی رہی۔ جانتی ہو وہ گڑیا جسے تو ہمشہ ڈھوتی پھرتی ہو یہ اس بدنصیب شخص کی ایک نشانی ہے اس دن وہ ڈھیر سارے کھلونے لے کر آئے تھے اور نکڑ والے ماما کے ذریعہ انہوں نے تیرے لیے بھیجاتھا اور تجھے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اس وقت وہ نکڑ پر تیرا انتظار کر رہے تھے میں وہاں جا پہنچی اور سارے کھلونوں کو ان کے منہ پر دے مارا اور انہیں اپنے پیروں سے روند دیا۔ لیکن وہ چپ چاپ اسے دیکھتے رہے ایک بات بھی نہیں بولے۔  چپ چاپ سب کچھ سنتے رہے اور میرے سامنے ہی وہاں سے وہ اٹھ کر چلے گئے پھردوبارہ ادھر کا رخ نہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔کاش میں ان کی اس خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کرتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا…‘‘

 ’’اور پھر وہ منحوس گھڑی آگئی جب میں نے ان لوگوں کے خلاف جہیز کے مطالبے کے الزام میں کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دے دیا جس کے سبب ہم دونوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ گئی اور تو اس درمیان پستی رہی اس کے بعد ایک دن ان کا ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا۔کہ

 ’’تم میرے پاس لوٹ آؤ۔ اپنی خاطر نہیں، میری اور سماج کی خاطر نہیں ،تو کم از کم اپنی بیٹی شاداب اور اس کی زندگی کی خاطر تم اب بھی لوٹ سکتی ہو ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوسکتا ہے میں کہہ نہیں سکتا۔ تم لوٹ آؤ نہیں تو تمہیں بہت پچھتانا ہوگا اور اس دن کوئی بھی کام نہیں آئے گا یہاں تک کہ تیرے ہم سفر بھی نہیں‘‘۔

 ’’ پھر انہوں نے دوسری شادی کر لی اور ان کی قسمت جاگ گئی وہ کیس جیت گئے لیکن مجھے وہ جیتنے میں ناکام ثابت ہوئے میری نوکری بھی ختم ہوگئی اس کے بعد میرا باپ مجھ سے بجھا بجھا رہنے لگا بھائیوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور ہر کوئی مجھے ہی کوسنے لگا اور برا کہنے لگا اس وقت میں بالکل اپاہج بے سہارا اور بے بس کی زندگی گذارنے پر مجبور ہو گئی‘‘۔

 ’’ایک دن تیرے نام سے منی آرڈر آیا میں نے اسے قبول کر لیا لیکن اس میں کسی اجنبی کا نام لکھا تھا مجھے وہ بات سمجھ میں نہ آسکی اور پھر ہر ماہ پابندی کے ساتھ منی آرڈر آتا رہااور میں اسے میں قبول کر تی رہی اور اسے تیری تعلیم و تربیت و پرورش میں خرچ کرتی رہی‘‘۔

 ’’بیٹی یہی کہانی ہے اس بد نصیب ماں اور بیٹی کی بلکہ اس ادھوری عورت کی بیٹی! میں چاہتی ہوں کہ میں ترے باپ سے ملوں اور ان سے ہزار بار معافی طلب کروں لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں ان کے سامنے جاسکوں اور جاؤں بھی تو کیسے۔ وہ بھی کیا کہیں گے بیٹی! تو میری بات مان تو انہیں جلد سے جلد بلالے لیکن خیال رہے کہ میرے بارے میں ایک بات بھی مت بتانا صرف اتنا کہنا کہ تو ان سے ملنا چاہتی ہے مجھے امید ہے کہ وہ تجھ سے ملنے ضرور آئےگا‘‘۔

 اور جب شاداب نے اسے فون کیا تو اس نے جواب دیا کہ وہ فوراً اس کے گھر آرہا ہے۔

 تھوڑے دیر کے بعد گھنٹی بجی شاداب نے دروازہ کھولا اور چندلمحوں تک وہ حیران وششدد اسے دیکھتی رہی اس کے ساتھ ایک عورت کھڑی تھی اس نے شاداب کو چھیڑتے ہوئے کہا کہ کیا ’’ ہم لوگوں کو اندر آنے کے لیے نہیں کہو گی؟‘‘ یہ سنتے ہی وہ ان کی بانہوں سے لپٹ کر رونے لگی اس کے باپ نے اس کی ماں کے بارے میں پوچھا تب ان دونوں کو لے کر وہ اندر چلی گئی جہاں اس کی ماں بستر مرگ پر پڑی تڑپ رہی تھی۔

 جب ان لوگوں نے وہاں قدم رکھا تو اس کی ماں شاداب کو کہہ رہی تھی’’ بیٹی تیرا باپ ضرور آئےگا تو اسے مت چھوڑنا اس شخص سے بہتر اور اچھا انسان دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے بیٹی! اب میں ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں تو اپنے باپ کے پاس چلی جانا اس کے علاوہ دنیا میں تیرا کوئی نہیں ہے وہاں تجھے ماں بھی مل جائے گی اس سے خوب پیار کرنا۔ بیٹی! ایک بات اور سن تو ہمیشہ عورت بن کر رہنا اس سے ایک انچ پیچھے مت ہٹنا اور نہ ہی آگے بڑھنا یہی تیرا زیور ہے نہیں تو میری طرح تجھے بھی ہمیشہ پچھتانا ہوگا‘‘ اور اس کی گر دن لڑھک گئی اسوقت اس کے ماں کی گردن شاداب کے باپ کے ہاتھوں میں اور شاداب اس نئے چہرہ والی ماں کے سینے سے لپٹ کر روئے جا رہی تھی۔

’’ دیکھو تیری ماں میری گود میں کتنی آرام کی نیند سو رہی ہے پگلی کہیں کی‘‘ یہ کہہ کر اس نے شاداب کو چپ کرنے کی کوشش کی پھر آہ بھرتے ہوئے ایک مرادانہ آواز فضا میں گونج اٹھی ’’کاش اسے پہلے ہوش آتا۔‘‘

مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close