افسانہ

افسوس

حناشکیل

شام ہورہی تھی ۔ ہولے ہولے آسمان گھنے بادلوں میں لپٹتاچلاجارہاتھا ۔لوگ ایسے بھاگ رہے تھے کہ جیسے کوئی بدمست ہاتھی ان کا پیچھا کررہا ہو۔ہلکی ہلکی بوندیں بھی گرنے لگی تھیں۔پرندے بڑی تیزی سے اپنے گھونسلوں کی اور بھاگے چلے جارہے تھے ۔گاؤں کے ساری عورتیں برساتی لے کرادھر ادھر دوڑ رہی تھیں۔ کوئی کھلیان میں پڑی فصل کو ڈھک رہا تھا تو کوئی ایدھن کو بھیگنے سے بچا رہاتھا۔ہرطرف افراتفری کاعالم تھا۔رام فیکٹری سے نکلا ہی تھا کہ ہوا اور گردوغبار کے جھونکوں میں الجھ کر رہ گیا ۔جھونکے کا زورذرا کم ہواتو وہ کسی قدرقدم جماتے ہوئے سڑک کے کنارے دھیرے دھیرے چلنے لگا ۔ابھی تھوڑی دور ہی چلا تھا کہ تیزبارش کی بوندیںاس کے اوپر پوری آب وتاب کے ساتھ گرنے لگیں ۔ رام جیسے تیسے گھر پہنچا تو پورا بدن ٹھنڈ سے کانپ رہا تھا ۔ایسالگ رہا تھا جیسے تیزہوائیں اس کے شریانوں میں چل رہی ہوں۔تھوڑی دیر میں وہ ایک بوسیدہ کمبل میں لپٹا ہو ا دالان میں بیڑی جلارہاتھا۔بے قراری کے عالم میں دھکادھک دوچارمرتبہ پینے کے بعد پاس ہی کی ایک آرام کرسی میںنیم دراز ہوگیا ۔ اس کے چاروں طرف عجیب سی خاموشی تھی ۔رہ رہ کر آنے والی سائیں سائیں کی آوازیں ماحول کوڈراؤنا بنا رہی تھیں ۔مگران سب سے بے فکر رام دیکھتے ہی دیکھتے نہ جانے کب اورکہاںگم ہو گیا۔
’’ایسے کیا کر رہا ہے۔۔۔ ڈھنگ سے کر۔رام نے جھنجھلاتے ہوئے کہا،اور کھیل میں پھر سے مصروف ہوگیا۔
رام نے اسکول جانا چھوڑدیاتھا ۔اس کا من پڑھائی میں کسی بھی طرح نہ لگا اس کو کبھی شوق بھی تونہیں تھا۔راؤ جی نے رام کی پڑھائی پر خوب روپیہ پیسہ خرچ کیا جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔رام دن بدن کھیل ا ور باہر رہنے کا عادی ہوگیا ۔اس کے پاس کسی چیز کی کوئی کمی بھی تونہیں تھی ۔ راؤجی جیسے امیر باپ کابیٹا تھا ۔رام تواسی بات پرمطمئن تھا کہ باپ کے پاس اتنی ساری دولت ہے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ،کچھ بھی نہ کرے توبھی زندگی کی عیش میں کوئی خلل نہیں پڑے گا۔گاؤں میں راؤجی کی بہت عزت تھی۔سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا راؤ جی کوصرف رام کاان پڑھ رہ جانا دیمک کی طرح کھائے جارہا تھا ۔راؤ جی کے باقی دونوں بڑے بیٹے پون اورشیام پڑھنے میں اچھے خاصے تھے ۔ ان کو دلچسپی بھی تھی ۔راؤجی کی خواہش تھی کہ ان کے تینوں بیٹے خوب اچھے سے پڑھ لکھ جائیں ۔
رام کے دونوں بڑے بھائی پون اور شیام اعلیٰ تعلیم کے لیے ودیس چلے گئے ۔ گھر میں جلتے ہوئے چراغ کی لو مدھم پڑ گئی ۔اتنے بڑے گھر میں صرف دو لوگ ایک عجیب سی کیفیت تھی ۔
’’بھائی کتنا اچھا ہوتا اگر رام بھی ہمارے ساتھ آتا۔۔۔مطلب وہ بھی ہمارے ساتھ ہوتا‘‘شیام نے بڑے پیار سے کہا
’’فالتو بولنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ہمیں یہاں لند ن میں آئے ہوئے ابھی ایک دن بھی نہیں ہوئے اورتم اس منحوس کانام لے رہے ہو۔۔۔ اپنی پڑھائی پر دھیان دینا شروع کرو۔۔۔فالتوباتوں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔مجھے اس سے کوئی ہمدردی نہیں۔۔۔ سمجھے تم ‘‘ ۔پون نے قدرے غصے میں کہا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔
پون سب سے بڑاتھا ، اس کے باوجود بھی رام کے چھوٹے ہونے اور پون کے بڑے ہونے میں کوئی فرق نہ تھا ۔دونوں ہر وقت ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ۔دونوں کے بیچ ٹانکا بھڑا رہتا ہے ۔دونوں خوب لڑتے ۔بات بات میں مار پیٹ ہوجاتی ۔لیکن اب اتنے بڑے گھر میں کوئی لڑنے والاتھااورنہ شور مچانے والا ۔سب کچھ تھم سا گیا تھا۔ہر جگہ خاموشی اپنا پہرا ڈالے بیٹھی تھی ۔رام کو تھوڑاسا احساس ہوامگرتادیر قائم نہیں رہ سکا۔
اچھا ہوئے چلے گئے منحوس کہیں کے ۔۔۔وہ پون تو۔۔۔ ہوں ۔۔۔اچھا ہوا۔رام نے رات کی تاریکی میں ٹمٹماتے ہوئے تاروں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔

آسمان میں بکھرے تارے حسن اورزندگی کافلسفہ سمجھا رہے تھے ۔فضامیں ایک عجیب سی خاموشی تھی ۔اتنی خاموشی کی رام کواپنے اندر کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ۔رام کڑوے بول بول کر دھیرے دھیرے نیند کے ڈھلکے میں ڈوبتا چلا گیا۔ صبح راؤجی بہت عجیب سی کیفیت میں مبتلاتھے ۔ خوشی اور نہ ہی غم ۔رام ہزار کوششوں کے باوجود راؤ جی کاچہرہ نہیں پڑھ سکا ۔تنگ آکر اس نے دریافت ہی کر لیا۔
’’ہاں باپوجی۔۔۔کابات ہے ۔۔۔کاہے پریسان ہو۔۔۔ایسی شکل کیوں بنائی ہے ؟۔بلا سانس توڑے رام کئی ایک سوال کرگیا
’’کچھ نہیں۔۔۔تھوڑی دیر پہلے تمہارے بھائیوں کا پھون آیا تھا۔۔۔ پہنچ گئے ہیں ۔۔۔کھیریت سے ہیں ۔‘‘راؤ جی نے آہستہ سے کہا
’’توپریسان کاہے ہورہے ہو۔۔۔ٹھیک تو ہے۔۔۔کھاہ مکھاہ پریسان ہورہے ہوــ‘‘۔ ۔رام نے عاجزانہ لہجے میں کہا۔اورباہر کی اوربھاگ گیا
راؤجی ایک دم تنہا ہوگئے ۔بے قراری بڑھی تو اٹھے اورسیدھا اپنے کمرے کی طرف چل دئیے ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی انھوں نے صندوق سے ایک تصویر نکالی ،یہ تصویر رام کے ماں کی تھی ۔اس تصویر کے نیچے کی جانب چھوٹے چھوٹے حروف میں ’’للیتادیوی ‘‘لکھاتھا۔للیتارام کی ماں تھیں۔للیتا دیوی کی ایک حادثہ میں موت ہوگئی تھی ۔پندرہ سال گزر جانے کے باوجود راؤجی نے کبھی دوسری شادی کے بارے میں نہیں سوچا۔وقت بہت آگے نکل چکا تھا اوراب وہ ہنستی کھیلتی زندگی نہیں تھی جو پندرہ سال پہلے تھی ۔آج صرف ہاتھوں میں اس زندگی کی تصویر تھی ۔
’’ میری للیتا آج میں بالکل اکیلا ہوگیا ہوں ۔۔۔بیٹے اپنی اپنی جندگیوں میں کھوس ہیں ۔۔۔ میں تمہارے بغیر بالکل اکیلاہوگیا ہوں ۔۔۔ میرے ساتھ کوئی سمئے بتانے والا بھی نہیں۔۔۔اب تم مجھے بھی اپنے ہی پاس بلا لو۔ڈبڈبائی آنکھوںکے ساتھ راؤ جی نے تصویر کودیکھتے ہوئے کہا ۔
پون کاڈاکٹری اور شیام کا وکالت میں داخلہ ہوگیا ۔یہ خبر سن کر راؤ جی نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی ۔راؤجی اپنے بچوں کی کامیابی پربہت خوش تھے ، مگر رام کواس میں کوئی خاصی دلچسپی نہیں تھی ۔وہ اس خوشی میں شریک بھی نہیں ہونا چاہتا تھا ۔دن ہفتے ،ہفتے مہینوں اور مہینے سال میں تبدیل ہوتے چلے گئے، مگر رام اور راؤ جی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی البتہ ان کے بدن اور ساخت میںکافی اتارچڑھاؤ نظر آنے لگے تھے ۔رام ایک دم گٹھلیلاجوان اورراؤ جی خاصے بوڑھے ہوچکے تھے ۔ زندگی کاچہرہ اور بدہیئت ہوچکاتھا ۔خاموشی ،لاتعلقی ، اجنبیت اوراکیلے پن نے رہی سہی کسربھی ختم کردی تھی ۔
سالوں بعد لندن سے فون آیا۔
ہیلو۔۔۔کون۔راؤجی نے ریسیورکو کان میںلگاتے ہوئے پوچھا
باپومیں پون بول رہا ہوں۔۔۔اچھا ۔۔اچھا۔۔راؤجی نے کہا
’’راؤ جی میری لندن میں نوکری لگ گئی ہے ۔۔۔جس کی وجہ سے گھر آنا مناسب نہیں ۔۔۔نئی نئی بات ہے اس لئے جلدی گھر آنے کی کوئی امید نہیںہے ۔۔۔مجھے آپ کاتارملاتھا ۔۔۔ آپ چاہتے ہیں گھر آؤں مگر اب توناممکن ہے ۔۔۔ویسے میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا۔۔۔اچھاٹھیک ہے ۔۔۔رام رام ۔‘‘اتنا کہہ کرپون نے فون کاٹ دیا
راؤ جی بناکچھ کہے اپنے کمرے میں چلے گئے اور معمول کے مطابق تصویرنکال کر اپنے دکھوں کابوکھ ہلکا کرنے لگے۔
’’باپو یہ دونوں کب آرہے ہیں۔۔۔ پچھلی بار تو صرف ایک دن کے لیے ہی آئے تھے۔۔۔ اب کب آرہے ہیں ؟رام نے باپو کے چہرے کو بھانپتے ہوئے پوچھا ۔
’’وہ یہاں کبھی نہیں آئیں گے ۔۔۔کبھی نہیں ۔۔۔ہاںکبھی نہیں ،راؤجی نے قدرے توقف کے بعد کہا
رام کامنھ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا ۔تھوڑی دیرکے لیے وہ ٹھہر سا گیا۔
ایسے کاہے کہہ رہے ہو ۔پھون آیا تھا ؟رام نے شک اور تجسس بھرے لہجہ میں پوچھا ۔۔۔ہوں ۔۔۔پون کی نوکری لگ گئی ہے اور شیام کی ٹریننگ چل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ نہیںآسکتے ۔۔۔باپ کے لئے بھی وقت نہیں ہے ۔۔۔کیا کہا جاسکتا ہے ۔راؤ جی نے بڑبراتے ہوئے کہا ۔
ایک طرف گاؤں میں راؤجی کا بول بالا تھا ۔ہرکوئی ان سے خوف کھاتا تھا ۔سب ان کی عزت کرتے تھے ،مگران کی اولاد ہی ان کے لیے دردسر بنی ہوئی تھی ۔ وہ جھک گئے تھے ،کسی اور کے نہیں بلکہ اپنی اولاد کے سامنے ،کسی لالچ میں نہیں ،صرف محبت پانے کے لیے، میٹھے بول سننے کے لیے ۔
شام ہوچکی تھی۔ ہر طرف اندھیراپھیل رہا تھا۔ رام کھیل ختم کرکے جلدی جلدی دوڑتا ہواگھرپہنچا۔گھر میں داخل ہوتے ہی سیدھا راؤجی کے کمرے میں گیا ۔راؤ جی کسی ادھیڑ بن میں بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔
کیا ہوا باپو۔۔۔ ایسے کاہے بیٹھے ہیں ۔۔۔کھانا کھایا ۔۔۔رام نے پوچھا

نہیں ۔۔۔راؤ جی نے نفی میں سر ہلا دیا
چلو اٹھو مجھے بھی بھوک لگی ہے ۔۔۔ساتھ کھانا کھاتے ہیں ۔رام نے قدم بڑھاتے ہوئے کہا
راؤجی نے پھر نفی میں سر ہلا دیا ۔رام پھر ٹھہر گیا۔بالآخرراؤجی کے انکار پر رام کااصرار غالب آگیا ۔تھوڑی دیر میںباپ ،بیٹے کھانا کھارہے تھے
’’باپو ان کی اپنی جندگی ہے۔۔۔ دل کریں آئیں ۔۔۔ دل کریں نہ آئیں۔۔۔ اب ان کے آنے نہ آنے سے جندگی تھوڑی رک جائے گی۔۔۔ویسے بھی اتنے دنوں سے نہیں تھے تو کیاپھرک پڑ گیا ۔رام نے بڑے ہی نرم لہجہ میں سمجھاتے ہوئے کہا ۔
ایک دن صبح صبح راؤجی برآمدے میں بیٹھے منھ ہاتھ دھل رہے تھے ۔اچانک ڈاکیہ آیا اور ایک چٹھی تھماگیا۔ راؤجی پڑھ کردنگ رہ گئے ۔ان کا چہرہ پیلا پڑگیا ۔ان کا گلارندھ گیا۔
کا ہواباپو ۔۔۔کابات ہے ۔۔۔ کاہے پریسان ہو ۔پاس ہی بیٹھے رام نے پوچھا
راؤجی نے رام کوخط پکڑایا اور اپنے کمرے میں چلے گئے ۔ رام کو خط میں صرف چند کالی اور قدرے ٹیڑھی لکیروں کے سواکچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ بھاگتا ہوا راؤجی کے پاس گیا ۔
کیا لکھا ہے باپو ۔۔۔سب ٹھیک تو ہے نا۔رام نے جھنجھلاتے ہوئے پوچھا۔
ہاں سب کھیریت ہے ۔۔۔ پون نے سادی کر لی ہے ۔۔۔لڑکی کانام ’’سوکنیا‘‘نام ہے۔۔۔آشیروادچاہتے ہیں۔۔۔راؤجی نے کچھ تھکے ماندے ہوئے مسافر کے انداز میں کہااور چلے گئے۔
’’کمینے نے سادی کرلی ۔۔۔وہ بھی بنا بتائے ۔۔۔حرامی ۔۔۔باپو سے بھی نہیں پوچھا۔۔۔باہر جانے کا یہ متبل تھوڑی ہوتا ہے کہ سب بھلادو۔۔۔ ریت رواج بھی کچھ ہوتاہے۔۔۔ حد ہے کمینے سے ۔۔۔پہلے آنا بھی نہیں چاہتاتھا ۔۔۔اب سادی بھی کرلی ۔۔۔اچھا بہانہ ہے ۔رام غصے میں بڑبڑاتا ہوا چلا گیا ۔
دن یوں ہی گزرتے رہے ۔سردیوں کے موسم نے دستک دی ۔مسلسل چاروں طرف سے بدن کوتھرتھرادینے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ئیں چلنے لگی تھیں ۔ راؤ جی کی طبیعت بھی کچھ خراب رہنے لگی تھی ۔رات بھر کھانسی کی وجہ سے وہ سونہ پاتے تھے ۔صبح اٹھتے تو ان کے چہرے پر نیند کی کیفیت طاری رہتی تھی ۔
آج پھر سے رات بھر نہ سو پائے ۔رام نے پوچھا
’’ہوں ! ۔۔۔کیا کروں کمبکھت کھانسی جاتی ہی نہیں‘‘۔راؤجی نے پہلو بدلتے ہوئے کہا
دوا لی تھی یا نہیں ؟راؤ جی نے نفی میں سر ہلا دیا ۔
’’غلطی خودکئے ہوتو بھکتو۔۔۔کوئی کا کرے ۔۔۔ہم پاگل ہیںجو دوا لائیں اور تم سے کھائی بھی نہ جائے ‘‘۔رام نے ایک ہی سانس میں سارے شکوے کر ڈالے مگر راؤ جی چپ چاپ سنتے رہے ۔
’’کل تم دوا لائے تومگر اپنے ہی کمرے میں رکھ چھوڑی ۔۔۔میں رات گئے دوا لینے گیا تھامگر تم سو رہے تھے ۔۔۔ مجھے دوا ملی نہیں ۔۔۔تم بہت گہری نیند میں تھے ۔۔۔میں نے سوچا ایک دوا کے لیے تمہاری نیند کیوںکھراب کروں۔۔۔ واپس چلا آیا‘‘ ۔قدرے توقف کے بعدراؤ جی نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی جانب چل دئے ۔
رام یہ سنتے ہی ایک دم سناٹے میں رہ گیا ۔اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے پیروں تلے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔ وہیں کھڑاکا کھڑا رہ گیا ۔نہ جانے کتنی دیر تک کھڑا رہا۔رام کوراؤجی کی باتوں نے جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا۔اب اس کو راؤ جی سے کچھ محبت سی ہونے لگی تھی ،لیکن کچھ دنوںبعدپھر اس کارویہ جیوں کاتیوںہوگیا۔وہ شاید سب کچھ بھول گیا تھا۔
’’میرے کپڑے کہاں ہیں۔۔۔اور کھانا بھی نہیں آیا ابھی تک ۔۔۔کا بات ہے ‘‘۔رام نے پوچھا
راؤجی نے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نوکرکو کھانا لانے کا حکم دیا ۔رام کوگھر میں کوئی دلچسپی نہ تھی،نہ ہی کسی چیز کی فکر تھی ،جوتھی وہ راؤ جی کو ہی تھی ۔
اچانک فون کی گھنٹی بجی ۔
ہیلو ۔۔۔راؤ جی ۔پون نے کہا

نہیں ۔۔۔میں رام
راؤ جی ۔۔۔اؤ ۔۔۔راؤجی ۔۔۔پھون ہے ۔۔۔کس کا پھون؟ ۔۔راؤجی نے پوچھا
تمہارے لاڈلے ۔۔۔اتنا کہہ کررام پاس ہی کی ایک کرسی میں بیٹھ گیا۔
ہیلو پون بیٹا
راؤ جی۔۔۔ میں پون بول رہاہوں ۔۔۔کیسے ہو آپ ؟۔۔۔میں ٹھیک ہوں تم کہو پھون کیسے کیا؟۔۔۔راؤجی آپ تو جانتے ہی ہیں ۔۔۔گھما پھرا کر بات کرنی مجھے نہیں آتی اور میں سیدھے سادھے انداز میں بات کرتا ہوں ۔۔۔ہاں تو کہہ کیا کہنا چاہتا ہے ؟۔۔۔راؤ جی وہ مجھے اپناحصہ چاہئے۔۔۔ گھراورجائیداد دونوںمیں سے ۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی گاؤں بھی واپس آؤں گا۔۔۔ وہاں زندگی بھی تو نہیں جی جاتی ۔۔۔ اگرحصہ دے دیا تو میں یہاں گھر بنالوں گا ۔راؤ جی نے بنا کچھ کہے ہی فون رکھ دیا ۔
کا ہو اباپو۔۔۔ اب کیاکیا حرامی نے ۔۔۔کچھ نہیں۔اتناکہہ کر راؤ جی آگے بڑھ گئے ۔
ان کی مایہ جانے ۔رام نے منھ بنایا
اس دن راؤجی نے رام سے بہت ساری باتیں کی ۔اسے بچپن کے بہت سارے یاد گار قصے سنائے ۔بہت ساری نئی باتیں بھی بتائیں۔نہ جانے کیوںآج پہلی بار رام بہت غور سے سن رہا تھا ۔باتوں باتوں میں راؤ جی نے گھر کی جائیداد کا بھی ذکر کیا ۔
رام تجھے بھی تیرا حصہ چاہئے ۔؟راؤ جی نے پوچھا
باپو سب ہمارا ہی تو ہے اس میں حصے کی کیا بات ہے۔ رام اچانک کے سوال سے چونک گیا
دونوں حصہ مانگ رہے ہیں ؟۔رام نے پلٹتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں۔۔۔راؤ جی نے کہا
بیٹا میں چاہتا ہوں تو بھی اپناحصہ لے لے ورنہ میرے جانے کے بعدیہ تیری عیش کی زندگی چھین لیں گے ۔اگر تو پڑھ لیتا تو کتنا اچھا ہوتا ۔اپنے پیروں پر کھڑاہوتا ۔
’’اچھا ہوا نہیں پڑھا ۔۔۔پڑھ کر یہی سب کرناتھاتو اچھا ہوا میںان پڑھ ہوں۔ رام نے غصے میں کہا
’’میری جندگی کا کیا بھروسہ ہے ۔۔۔دن رات کھانستا رہتا ہوں ۔۔۔پون اور شیام کا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔وہ تو کسی لائک ہیں ۔۔۔توبھی جو کچھ کر لے گا یا پڑھ لے گا وہی کام آئے گا۔۔۔یہ دولت ،پیسہ کچھ کام نہیں آئے گا‘‘ ۔راؤ جی نے بڑے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی ۔
کیاباپو۔۔۔چھوڑو۔۔۔تم سے کتنی بار کہاکہ مجھ سے یہ سب باتیں نہ کیا کرو۔۔۔ان باتوں میں کچھ بھی نہ رکھا ہے ۔۔۔کھاہ مکھاہ میرادماگ کھراب کر دیتے ہو۔رام غصے میں بڑبڑاتا ہوا باہر چلا گیا۔
باہر ابھی تھوڑی دورہی گیا تھا کہ گلی کے کونے پرچند دوست نظر آئے ۔رام بھی وہیں بیٹھ گیااور تاش کھیلنے لگا مگر آج وہ صرف ہارتا جارہا تھا۔ نہ جانے کیوں اس کادل عجیب سا ہورہا تھا۔ کھیل میں بھی اس کادل نہیں لگ رہاتھا ۔
ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔رام ۔۔اے رام ۔۔۔رام ۔۔۔تجھے راؤ جی بلا رہے ہیں ۔رام نے کوئی توجہ نہیں دی ۔برابر کھیل میں مصروف رہا ۔ دوتین لڑکے بلانے کے لیے آئے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔رات بارہ بجے کے آس پاس رام گھر لوٹا۔گھر میں داخل ہوتے ہی اسے چاروں طرف سناٹاملا۔ ہر طرف عجیب سی خاموشی تھی۔ راؤ جی کو آوازدی مگر کوئی جواب نہ ملا۔مجبوراًدانت پیستے ہوئے راؤ جی کے کمرے میں گیا،لیکن کمرے میں پہنچ کر ایک دم دنگ رہ گیا۔اس کاچہرہ پیلا پڑگیا ۔پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ۔راؤ جی زمین پرپڑے تھے ۔ ان کی چپل ان کے پیروں سے نکل کر اوندھی پڑ ی تھی ۔وہ پگڑی جو کبھی سر سے نہ اتری تھی آج پیروں میں تھی ۔
رام بدحوسی کے عالم میں ادھر ادھر پھر رہا تھا ۔اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ وہ کیا کرے ۔ذراساہوش سنبھلاتو راؤ جی کوجیسے تیسے اسپتال لے کر بھاگا۔ڈاکٹروں نے راؤ جی کو فوراایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کردیا ۔
ڈاکٹر باپو کو کیا ہوا ۔۔۔اچھے توہوجائیں گے نا۔رام نے پریشانی اور بدحواسی کے عالم میں چہرے کاپسینے کو پوچھتے ہوئے پوچھا ۔
’’کچھ نہیں کہہ سکتا ۔۔۔دل کادورہ پڑا ہے اور کھانسی سے گلے کی ایک نس خراب ہوگئی ہے ۔۔۔سانس لینے میںدقت ہورہی ہے ۔بس اب تم ان کے لیے پرارتھناکروباقی ہم دیکھ رہے ہیں ۔ڈاکٹر قدر ے دھیمے لہجے میں کہتا ہوا چلا گیا ۔

رام نے جلدی سے شیام اور پون کو فون کیا اور باپوسے متعلق سارا قصہ ایک ہی سانس میں کہہ سنایا ۔سارا ماجرا سن کر شیام اور پون نے جلدہی آنے کا وعدہ کیا اور فون رکھ دیا ۔گھنٹوں بیت گئے مگر راؤ جی کی کوئی خبر نہیںملی ۔اسپتال میں چاروں طرف ایک عجیب سا سناٹا تھا ۔اس کے دل کی کیفیت بہت عجیب تھی ۔نہ جانے کیوں اس کے دل میں عجیب وغریب خیالات منڈلا رہے تھے ۔
’’تمہارے باپو کوہوش آگیا ہے ۔۔۔لیکن وہ ابھی خطرے سے باہر نہیں ہیں۔۔۔ مل سکتے ہومگران سے ایسی کوئی بات نہ کرنا جس سے ان کوتکلیف ہو۔ڈاکٹر نے باہر آتے ہوئے کہا
رام فورا راؤ جی کے کمرے میں گھس گیا۔پہنچتے ہی اس نے راؤ جی کاہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔وہ روئے جارہا تھا اور کہے جارہا تھا۔
’’باپو جی مجھے ماف کردیں۔۔۔مجھے ماف کردیں۔۔۔مجھ سے بہت بڑی گلتی ہوگئی۔۔۔ مجھے ماف کردیں۔سسکیوں اورآہوں کے درمیان رام نہ جانے کب سے ایک ہی جملہ بار بار دہرائے جارہا تھا۔
’’ارے اب چپ بھی ہوجا۔۔۔مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں ۔۔۔ مافی کس لیے مانگ رہا ہے جب کہ تیری گلتی بھی نہیں ہے ۔۔۔چل اب چپ ہوجا ۔راؤ جی نے کھانسنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔
’’ میری طبیعت بگڑ رہی تھی بس اس لئے تجھے بلا رہا تھاورنہ میں نے بھی تجھے بہت پریسان کیا ہے ۔۔اور۔۔۔اور ۔۔اور ۔۔اور بس تیری چنتا ہورہی تھی۔اوہ ۔۔اوہ۔۔ راؤ جی نے کھانستے ہوئے دل پر ہاتھ رکھااورکچھ کہتے ہوئے رک گئے ۔
تھوڑی دیر بعدراؤ جی نے رام کاہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے کہا ۔چل وعدہ کر ۔’’میں وعدہ کرتا ہوں ،میں وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔تم کہیں نہیں جاؤ گے باپو۔۔۔۔ابھی تو مجھے اور بھی اچھی باتیںسیکھنی ہیں ۔۔۔نہیں باپو میں تمہیں نہیں جانے ۔۔۔۔‘‘اچانک راؤجی کی سانسیں پھولنے لگیں۔
رام فورا ڈاکٹر کو بلانے کے لیے باہر کی طرف دوڑ ا۔ڈاکٹر ۔۔۔ڈا۔۔۔ڈاکٹر ۔۔۔وہ باپو۔ڈاکٹر باپوکو ۔۔۔رام نے ہڑبڑاتے ہوئے کہا ۔ڈاکٹر فوراکمرے کی اور دوڑے ۔رام بھی ان کے پیچھے دوڑا۔ڈاکٹر نے کمرہ بند کرلیا اور رام باہر بے بس کھڑا رہ گیا ۔رام باہر کھڑا بس پرارتھنا کئے جارہا تھا ۔آج اس کوایشور سے کچھ مانگنے کی عجیب سی تڑپ تھی ۔
’’اے بھگوان مجھے میرا باپو دے دے ۔۔۔اسے صہت دے دے۔۔۔میں آج تجھ سے اپنے باپو کی جندگی مانگتا ہوں۔۔۔میں وادہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں کوئی پاپ نہیں کروں گا۔۔۔بھگوان میں ہر منگل کو دیوی کے مندر پرسادچڑھاؤں گا۔۔۔بھگوان میرے باپو کو بچا لے ۔۔۔بھگوان میں مہوں کو سال بھر میں دوبار بھوجن کراؤں گا ۔۔۔بھگوان ۔۔۔میں ۔۔۔میںتیرے لیے سب کچھ کروں گا بھگوان ۔۔۔بس۔۔۔بس آج میرے باپوکی جندگی بکھش دے ۔‘‘
اچانک ڈاکٹر باہر آیا ۔
باپو کیسے ہیں ۔۔۔رام نے تڑپ کر پوچھا۔
ڈاکٹر نے غمگین ساچہرہ بناتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا ۔یکایک رام کی نیند ٹوٹ گئی۔۔۔۔۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close