افسانہ

انعام

سالک جمیل براڑ

فرید کے پاسپورٹ کوکھوئے ہوئے آج دودن ہوچکے تھے۔ اس نے تلاش کرنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوا۔ اب تواسے اُمّیدکی کوئی کرن بھی نظرنہیں آرہی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں مان لیاتھاکہ نئے پاسپورٹ کے لیے بھاگ دوڑکرنا ہوگی جواتنی جلدی ممکن نہیں۔ پچھلے تین دنوں سے وہ دیوانہ وار پاسپورٹ کی تلاش میں لگاہواتھا۔ اس نے پولیس اسٹیشن میں ایف۔ آئی۔ آر درج کروائی۔ سبھی بڑے اخباروں میں پاسپورٹ کی گمشدگی کے اشتہاردیئے اور پورے شہر کی خاک چھان ماری۔ افسوس کہ وہ ناکام رہا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ آخر پاسپورٹ کہاں گم ہوگیا۔ اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھاگیا۔ وہ کسی دوسرے شخص کے استعمال کی چیز بھی تونہ تھا۔

تین دن پہلے وہ بہت خوش تھا۔ اتناخوش کہ اس کے پاؤں زمین پرنہیں پڑرہے تھے۔ خوش ہوتابھی کیوں نہ آخر اس کی برسوں کی امریکہ جانے کی تمناکئی ماہ کی بھاگ دوڑکے بعد پوری ہونے جا رہی تھی۔ اس کے سپنے حقیقت میں بدلنے جارہے تھے۔ اس کی خوب پیسہ کمانے کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔ انہی معاملات اور مصروفیات میں فرید کاپاسپورٹ کہیں گم ہوگیا۔ اب پاسپورٹ کے بغیر اس کا امریکہ جاناناممکن تھا۔

تھک ہارکر فریدسڑک کے کنارے ایک طرف فٹ پاتھ پربیٹھ گیا اورگردن اٹھاکر آسمان کوگھورنے لگا۔ اسے ایسالگ رہاتھاجیسے وہ اپنی منزل تک پہنچ گیاہو۔ بس ایک قدم کاہی فاصلہ تھا کہ اچانک اس کاپاؤں پھسل گیا اور وہ چیختاہوا آسمان سے زمین کی طرف لڑھک گیا۔ فرید کے دل میں فوراً یہ خیال آیاکہ شایدشام کے اخبار میں اشتہار پڑھ کر کوئی پاسپورٹ دینے آگیاہو۔ اس کے پاؤں میں دردہورہاتھا۔ اس کے لیے ایک قدم بھی چلنادشوار تھالیکن اس کے باوجود وہ تیز تیز قدموں سے اپنے گھرکی جانب چل پڑا۔ فرید رحمان نگر کے لکشمی بلاک میں رہتاتھا۔ وہ تنہاتھا اور ایک پرائیوٹ کمپنی میں ملازمت کرتاتھا۔ اس کے والدین اس کے آبائی شہرمیں ہی رہائش پذیر تھے۔

اب وہ ایک شکست خوردہ سپاہی کی طرح بوجھل قدموں سے اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا جیسے ہی اس نے اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولاوہ خوشی سے اُچھل پڑا۔ اس کاکھویاہواپاسپورٹ دروازے کے نیچے پڑاتھا۔ اسے ایک لمحے کے لیے ایسامحسوس ہواجیسے وہ جاگتے ہوئے خواب دیکھ رہاہو۔

اس نے پاسپورٹ اٹھایا اوراسے کئی بارچوما۔ ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں اور دل ہی دل میں خداکاشکریہ اداکیا۔ خوشی سے اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اچانک اس کے دماغ میں ایک سوال نے جنم لیاکہ وہ مہربان کون ہے جس نے اس تک پاسپورٹ پہنچایا۔ اس  کے دل میں اپنے محسن سے ملنے کی تڑپ پیدا ہوگئی۔ وہ کسی بھی حالت میں اس فرشتہ صفت انسان سے ملناچاہتاتھا۔ اس کا شکریہ اداکرناچاہتاتھا۔ اب الجھن یہ تھی کہ اس سے کیسے اورکس طرح ملا جائے۔ فریداس مہربان سے امریکہ جانے سے پہلے ہر حالت میں ملناچاہتاتھا۔ اب الجھن یہ تھی کہ اس سے کیسے اور کس طرح ملاجائے۔ فریداس مہربان سے امریکہ جانے سے پہلے ہر حالت میں ملناچاہتاتھا۔ وہ سوچ رہاتھا کہ اگر وہ اس سے مل نہ سکا تو زندگی بھراس کے دل ودماغ پرایک بوجھ سا بنارہے گا۔ فریدنے سوچاکہ اس کے دوستوں اور پڑوسیوں میں سے تو کوئی ہونہیں سکتا کیونکہ ان سبھی کو تومیرے پاسپورٹ غائب ہونے کے بارے میں دودن سے ہی خبرتھی۔ وہ ضرور کوئی اجنبی ہے۔ کافی دیرسوچنے کے بعد اس نے اخبارمیں دوبارہ اشتہار دینے کے بارے میں فیصلہ کیا۔ فوراً اس نے اپنے ایک پریس رپورٹر دوست سے بات کی اور صبح کے سبھی اخباروں میں یہ اشتہار دینے کے لیے کہا۔ اشتہار میں اس نے پاسپورٹ اس کے گھرپہنچانے والے صاحب سے التجا کی تھی کہ وہ آج شام چھ بجے شالیمار ریسٹورینٹ میں اس کا انتظارکرے گا۔ فریدکے پاس وقت بھی بہت کم تھا۔ اس لیے اسے جوبھی کرناتھا فوراً کرناتھا۔

شام کے چھ بج چکے تھے۔ ریسٹورینٹ میں اس نے ایک ٹیبل بک کروالی تھی اوربے صبری سے اپنے مہمان کا انتظارکررہاتھا۔ اس کی نگاہیں گیٹ پرجمی تھیں۔ لیکن افسوس کہ وہ اپنے محسن کوپہچان بھی تونہیں سکتا تھا۔ اس نے گیٹ مین کوسب کچھ بتادیاتھا۔ ہوسکتاہے اس کا مہمان آئے ہی نہ۔ وہ اپنے ساتھ ایک گفٹ بھی لایاتھا۔ پہلے وہ نقد دیناچاہتاتھالیکن پھریہ سوچ کر اس نے ارادہ ترک کردیاکہ کہیں اس کامہمان برُانہ مان جائے۔ نہ جانے کس قسم کا آدمی ہو۔ اُس پر انتظار کاہرلمحہ بھاری پڑرہاتھا۔ وہ لگاتارگھڑی دیکھ رہاتھا۔ اسی بیچ ایک ادھیڑ عمرکاآدمی جوسرمئی پینٹ کوٹ پہنے ہوئے تھا ریسٹورینٹ میں داخل ہوا۔ اس نے ہال کا سرسری ساجائزہ لیااورفرید کی طرف بڑھا۔ اب وہ اس کے بالکل قریب آچکاتھا۔

’’ہیلو فرید……آئی ایم انل شرما۔ ‘‘اس آدمی نے فریدکی طر ف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔

’’پہچانانہیں !اوسوری، پہچانوں کی بھی کیسے ہم توپہلی بارملے ہیں۔ مجھے ۲۵ نمبربس میں سے آپ کا پاسپورٹ ملا تھا۔ پھراخبارمیں اشتہار دیکھا۔ جتنی جلدی ہوسکااخبار میں لکھے پتے پرمیں نے پاسپورٹ پہنچادیا۔ ‘‘

’’پلیز سر بیٹھئے۔ ‘‘فریدنے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔

’’سوری سر………میں نے آپ کو تکلیف دی اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔ ‘‘ اُس نے کہا۔

’’نہیں فرید صاحب یہ تومیرااخلاقی فرض تھا۔ آپ نے بلاوجہ تکلیف کیا۔ ‘‘

’’لیکن سر……یہ توغلط ہوگاکہ جس انسان نے میرا اتنا بڑاکام کیا ہومیں اُس سے شکریہ کے دوالفاظ تک نہ کہوں۔ ‘‘ فرید نے ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا۔

فرید نے دیکھا وہ آدمی بہت ہی شریف اوردلچسپ تھا۔ اس نے بتایاکہ وہ سرکاری ملازم ہے۔ اس وقت وہ سیدھا آفس سے ہی آرہاہے اوربہت جلدی میں ہے کیونکہ گھر میں اس کی بیوی اوربچے انتظار کررہے ہیں۔ وہ ایک کپ چائے پینے کے لیے بڑی مشکل سے راضی ہوا۔ جب وہ جانے لگا توفرید نے گفٹ اس کی طرف بڑھادیا۔

’’سر……ایک چھوٹاسا تحفہ آپ کے لیے………انکارمت کیجیے گا۔ میری نشانی سمجھ کر رکھ لیں۔ ‘‘

اس آدمی نے مسکراتے ہوئے گفٹ قبول کرلیااور وہ اجازت لے کر چلاگیا فرید گھر لوٹ آیا۔

کالونی کے مین گیٹ سے ہوتے ہوئے فرید تیز تیز قدموں سے گنگناتاہوااپنے فلیٹ کی طرف بڑھ رہاتھا کہ ایک آوازنے اس کے قدم روک لیے۔ یہ کالونی کے پارک کے مالی شیرو کی آوازتھی۔

’’فریدبیٹا!آپ کا پاسپورٹ مل گیا؟‘‘

’’جی دادا(شیروکوکالونی کے سبھی لوگ داداکہتے تھے)‘‘

’’مجھے پتہ چلاہے کہ تم اس کے لیے بہت پریشان تھے۔ یہ سب میرے بیمارہونے کی وجہ سے ہوا۔ اس رات جب میں گھرجارہاتھا تومجھے یہ مارکیٹ میں بیکری کی دکان کے سامنے پڑا ملاتھا۔ بیٹا تمہیں تومعلوم ہی ہے کہ مجھے رات کوذراکم ہی دکھائی دیتا ہے اورپھررات بھی کافی ہوگئی تھی۔ میں نے سوچا جس کاہوگا صبح کو دے دوں گا۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میں رات کو اتنا زیادہ بیمارہوجاؤں گا۔ دودن بعد میری طبیعت ذراٹھیک ہوئی توبڑی مشکل سے یہاں تک آیا۔ دیکھا تم گھرپرنہیں تھے۔ اس لیے میں نے پاسپورٹ دروازے کے اندرہی ڈال دیا۔ ‘‘

بوڑھا مالی شیروکھانستے ہوئے نہ جانے کیاکیابولے جارہاتھا۔ فرید آنکھیں پھاڑے اپنے حقیقی محسن کودیکھ رہاتھااوراس شخص کے بارے میں سوچ رہاتھا جواحسان جتانے کے بعد انعام بھی پاچکاتھا۔

مزید دکھائیں

سالک جمیل براڑ

نوجوان افسانہ نگار و شاعر سالک جمیل براڑ کا تعلق پنجاب کے شہر مالیرکوٹلہ سےہے۔ آپ نے بچوں کے لیےکہانیوں کی متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ سالک کی کہانیوں پر انہیں بھاشاوبھاگ کی طرف سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ ان دنوں سالک پنجابی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔

متعلقہ

Close