افسانہ

اُردو

مصباحیؔ شبیر

یونیورسٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر بطور مہمان خصوصی مدعو پروفیسر نسیم صاحب کو ” ہندوستان میں اُردو کے مستقبل ”کے موضوع پر توسیعی خطبہ دینا تھا اُردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل ہونے کی وجہ سے پروفیسر نسیم صاحب کے اس خطبہ کاطلبہ کو بے صبری سے انتظار تھا اور اس پروگرام کے حوالے سے طلبہ میں ایک بے چینی سی صاف محسوس کی جارہی تھی۔ پروگرام کے دن جب پروفیسر صاحب خطبہ دینے آئے تو طلبہ پوری دل جمعی کے ساتھ ان کا خطبہ سن رہے تھے۔ توقع کے مطابق پروفیسر صاحب نے بھی بچوں کے ذوق کو محسوس کرتے ہوئے اُردو کی اہمیت پر زوردار تقریر فرمائی اور کہا کہ ” اُردو کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے بچوں کو اُردو پڑھانا ہوگا، اور اس زبان کی مٹھاس و لطافت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر کوئی بلا تفریق مذہب وملت کھڑے ہوں تاکہ کہیں ہندوستان جیساملک اُردو جیسی پیاری زبان کے لسانی مٹھاس سے فیضیاب ہونے میں کسی سے پیچھے نہ رہ جائے ”ان کی تقریر کے ایک ایک لفظ سے ان کی اُردو کے تہیں محبت جھلک رہی تھی۔ طلبہ ان کے منفردانداز ِتکلم و معلومات بھرے خطاب سے محظوظ ہوئے اور جامعہ میں کہیں دنوں تک ان کے اس خطاب ِدل پذیر کے چرچا ہو رہے تھے کہ انہی دنوں اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ ہندوستان کے رہنے والے ایک اُردو پروفیسر کے اکلوتے بیٹے نے برطانیہ کی اکسفورڈ یونیورسٹی سے انگریزی مضمون میں گولڈ میڈل جیتا ہے۔ اور یہ بات ہندوستان میں اُردو بولنے والے طبقے کے لیے باعثِ فخر ہے۔

   ’’ ہیرے کی پہچان‘‘

’’امام صاحب آپ ایک بار ڈاکٹر سنگیتا جی سے ضرور مشورہ لیں وہ ان امراض کی اسپیشلسٹ ہیں۔ ‘‘

محلے کے سب سے بزرگ مقتدی نے امام صاحب کو مشورہ دیا۔

دوسرے دن جب امام صاحب ڈاکٹر سنگیتا کے کلینک پہنچے تو کلینک میں بہت بھیڑ تھی تمام لوگ قطار میں بیٹھے اپنے نمبر کا انتظار کر رہے تھے۔

ٹکٹ کاونٹر سے امام صاحب بھی ٹکٹ لے کر قطار میں بیٹھ گئے۔ اتنے میں کاونٹر میں بیٹھا لڑکا اندر ڈاکٹر کے کمرہ میں گیا اور باہر آتے ہی امام صاحب کے پاس آکر کہنے لگا ”مولوی صاحب ڈاکٹر صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں۔ ۔

” امام صاحب جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو ڈاکٹر سنگیتا نے آداب کہتے ہوئے بیٹھنے کو کہا۔ ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹر سنگیتا بولی ”مولوی صاحب یہ کچھ ٹیسٹ ضرور کروا لیں۔ ”

 نسخہ لے کر امام صاحب ٹسٹ کرانے باہر آئے تو کاونٹر پر بیٹھے لڑکے نے فیس بھرنے کو کہا، فیس کی رقم کا سن کر امام صاحب چکرا سے گئے۔ کچھ سوچنے کے بعد بولے” رہنے دیجئے میرا ٹکٹ واپس کریں مجھے ٹسٹ نہیں کرانے ہیں۔ ۔۔ ویسے بھی یہ کوئی خاص بیماری نہیں ہے۔ ”

”نہیں مولوی صاحب بیماری کو آپ چھوٹی نہ سمجھیں اگر بھگوان نہ کرے بیماری بڑھ گئی تو آپ کو مشکل ہو جائے گا” کمپاونڈر لڑکے نے بڑی نرمی سے امام صاحب کوسمجھایا۔

”پھر آپ ایسا کریں میڈم جی سے کوئی سستا والا ٹسٹ لکھوائیں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ”

”آپ یہاں بیٹھ جائیے میں ابھی ان سے پوچھ کر آتا ہوں ”

کمپاونڈر لڑکا امام صاحب کا نسخہ لے کرڈاکٹر کے پاس گیا اور ان سے امام صاحب کی مجبوری کا ذکرکیا۔ یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحبہ نے انہیں ہدایت دی  ” آپ مولوی صاحب کے سارے ٹسٹ کر لیں نناوے فیصد چھوٹ کے ساتھ لیکن انہیں احساس نہیں ہونا چاہیے کہ تم ایسا کر رہے ہو، ابھی ان سے اتنا کہنا کہ یہ سارے ٹسٹ سستے والے ہیں۔ ۔ ”

 امام صاحب کے سارے ٹسٹ ہوگئے اور ایک ماہ کی دوائیاں لے کر وہ وہاں سے رخصت ہوئے۔ایک مہینے بعد ڈاکٹر صاحبہ کے نام ایک خط آیا۔ جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔

محترمہ سنگیتا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آداب

سستے ٹسٹوں کے نام پرآپ نے جو میرے سارے مہنگے ٹسٹ کروائے تھے ان کی بدولت میں آج صحت مند ہوں۔ لیکن مجھے سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ آپ نے مجھ پر اتنی دیا کیوں کی۔۔؟

ڈاکٹر مسز سنگیتا کا جو جوابی خط امام صاحب کو ملا اس میں آداب کے بعد صرف اتنا لکھا تھا۔۔

” کیونکہ آپ اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جواپنے امام و مولوی صاحبان کی بہت عزت و قدر کرتی ہے۔اور میں نے آپ کے لباس سے اندازہ لگایا کہ آپ کوئی مولوی یا امام صاحب ہیں ”؟؟؟؟

 شکستا بیساکھی

’’راشد!  بیٹا آج بازار جانا تو میری دوائیاں لیتے آنا۔۔”

”ٹھیک ہے پا پا ضرور۔۔۔۔۔ ”

”دیکھو بیٹا بھول مت جانا اگر اس طرح دوائیاں لینے میں ناغہ چلتا رہا تو پھر میری بیماری اور بڑھ جائے گی۔ ”

”نہیں پاپاجی ضرور اس بار ضرور لیتے آوں گا۔ ”

صبح گھر سے نکلتے ہوئے راشد اپنے پاپاکو سلام کرکے جانے کے لیے نکلا تو بیوی نے بھی چند چیزوں کی فرمائش کی۔۔۔ بچوں نے بھی اپنی چندچھوٹی چھوٹی چیزوں کی فرمائشی لسٹ راشد کو تھاما دی۔

شام کو جب راشد گھر لوٹا توان کے پا پانماز پڑھنے میں مشغول تھے۔۔۔

جب تھوڑی دیر کے بعد بھی پاپانہیں آئے تو بہو نے جا کر ان کے کمرے میں دیکھا…  پاپاجی تو وہاں موجود نہیں تھے البتہ ان کی چارپائی پر ایک سفید کاغذ پڑا ہوا ملا۔

وہ راشد کے نام ایک خط تھا جس میں کچھ یوں لکھا ہواتھا۔

پیارے راشد۔۔۔۔۔۔

اللہ تجھے ہمیشہ خوش رکھے۔ اور خاص کر میری بہو کو جس میں میں اپنی بیٹی کی ساری خصوصیات پاتا ہوں۔ ۔  مجھے اپنی پیاری بہو کے گھر کو

 چھوڑتے ہوئے تکلیف تو ہو رہی ہے۔ لیکن اب میں اس راشد کے گھر میں نہیں رہ سکتا جو صرف میری چیزیں لانا بھول جاتا ہے۔ اور پیاری بہو آپ دیکھ لیں آج بھی صرف میری دوائیاں لانا راشد صاحب بھول گئے ہوں گے۔ فقط

  آپ کا  باپ

بھاگتے ہوئے وہاں سے نکل کر بہو نے راشد کے بیگ کی تلاشی لی تو واقعی راشد کے بیگ میں وہ ساری منگوائی گئی چیزیں موجود تھیں جو گھر والوں نے انہیں کہا تھا سوائے پاپاکی ضروری دوائیوں کے۔

مزید دکھائیں

مصباحیؔ شبیر

دراس کرگل لداخ جموں و کشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close