افسانہ

باب الابواب

قیصر تمکین
اس نے بڑے پھاٹک پر دستک دی اور اعلان کیا۔ میں اتنے گناہ کرچکا ہوں کہ اب معصوم ہو گیا ہوں۔
اگر اس کا کہا سچ ہوتا تو اس نئے باب کی دوسری طرف کی خموشیاں شکست ہو جاتیں، گھنٹیاں بجنے لگتیں۔ مگر ہوا یہ کہ کچھ بھی نہیں ہوا۔
وہ ان کا سگا اجنبی تھا۔ زندگی کی لگ بھگ ستر بہتر منزلیں طے کرنے کے بعد اس نئے باب پر پہنچا تھا۔ تب تک اس کے بال جو شانوں تک لمبے تھے سن کی طرح سفید ہوچکے تھے۔ اس کی داڑھی بھی بالکل سفید تھی۔ اس کے ساتھ وہ بہت ہی نفیس اور قیمتی سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ اس نئے باب پر دستک لگانے کے بعد وہ اس کی بازگشت کے انتظار یا امکانات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
پھاٹک، گیٹ اور دروازے مختلف جسامت اور ہیئت کے ہوتے ہیں۔ ان کے نام مختلف ہوتے ہیں مگر ان کی نوعیت کے بارے میں کوئی معقول اصول نہیں ہوتا ہے، ویسے عام طور پر پھاٹک اور دروازے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ لیکن ان الفاظ کو لوگ اپنی اپنی مرضی کے مطابق معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً دلی گیٹ، پھاٹک حبش خاں، یا گول دروازہ جیسے ناموں میں کسی خاص معنویت پر زور نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ ان کے آس پاس کی دنیائیں بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ نادر علی کی زندگی میں پھاٹک، دروازے یا گیٹ کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان ناموں سے اس کی کوئی خاص کمزوری وابستہ رہی تھی۔ چنانچہ اس دن اس بند اور پر اسرار دروازے کے باہر وہ طرح طرح کی باتیں سوچ رہا تھا۔
بڑے پھاٹک والے اپنی بد دماغی اور غرور کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ ملکہ گیتی کے پھاٹک کے آس پاس سود خور پشاوری رہتے تھے۔ جو ہینگ، افیون اور خشک میوہ بیچتے تھے اور اپنی وضع قطع سے ٹیگور کے کابلی والا کے مرکزی کردار کی یاد دلاتے تھے۔ پھاٹک حبش خاں پر اس رسالے کا دفتر تھا جس کے اڈیٹر نے تیرہ سالہ نادر علی کو ادیب مانا تھا۔ ایک پیالی چائے پلائی تھی اور اس کی کہانی کا نقد معاوضہ پندرہ روپے دیا تھا۔ اور اب دنیا کے بیسیوں پھاٹکوں سے ہوتا ہوا نادر علی وہاں ایک بہت پرانے، یعنی نئے باب پر کھڑا ہوا دعویدار تھا میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کہ معصوم ہو گیا ہوں۔
نادر علی کے لڑکپن میں صرف ایک ہی سڑک اس کی جولان گاہ تھی۔ اس لگ بھگ ایک میل لمبی سڑک کے دونوں سروں پر بہت اونچی محرابوں کی شکل میں دو دربنے ہوئے تھے۔ شمالی در کو گول دروازہ کہا جاتا، اور جنوبی در اکبری گیٹ کہلاتا۔ فرق دونوں میں زیادہ نہ تھا۔ دونوں تقریباً ایک ہی وضع کے اور ایک ہی قسم کے گارے چونے سے بنے تھے۔ مگر گول دروازے سے اکبری گیٹ تک ایک رنگا رنگ دنیا آباد تھی۔ ایک سرے پر سونے چاندی کا کاروبار ہوتا اس کو صرافہ کہا جاتا اور دوسرے سرے پر عورتوں کے جسموں کے سونے چاندی کا بیوپار ہوتا۔ اس کو بازار حسن کہا جاتا۔ یہاں کوٹھوں پر چھم چھم کرتی طوائفیں داغ دہلوی اور ثاقب لکھنوی کی غزلیں گاتیں اور پاس پڑوس میں عورتوں کی خارجی و داخلی تزئین و آرائش کا سامان اور شوقین مزاج مردوں کی مرمت اور تعمیر کی جڑی بوٹیوں کی دوکانیں تھیں۔
اکبری گیٹ کے قریب نادر علی کے بچپن کے زمانے کی سب سے خوب صورت عمارت حنا بلڈنگ تھی۔ وہ لوگ اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے اور اس کے سامنے سے گزرتے وقت عمارت سے نکلنے والی خوشبوئوں سے مفت میں فیض یاب ہوتے۔ انھوں نے سنا تھا ایسی خوب صورت عمارت بمبئی اور لندن تو کیا پیرس میں بھی نہیں تھی۔ کسی نے تو یہ بھی کہا تھا کہ اس عمارت میں بننے والے عطر حنا کا دنیا میں کوئی جواب نہیں تھا۔ اس نے یہ بھی سنا تھا کہ لندن اور پیرس میں بڑے بڑے لاٹ لوگوں کی میم صاحب یہ عطر منگاتی اور استعمال کرتی تھیں۔
گول دروازے اور اکبری گیٹ کے بالکل بیچ میں چاندی سونے کے ورق بنانے والے کتابی شکل کی دبیز جلدیں کوٹا کرتے اور آس پاس کے علاقوں میں یہ آواز اگر موسیقی کی طرح نہیں تو کم از کم ایک قابل قبول آہنگ کی طرح تو ضرور ہی زندگی کی ہما ہمی کا احساس دلاتی رہتی۔ ان دبیز جلدوں سے بال سے بھی باریک سونے اور چاندی کے ورق نکلتے، جن میں لپیٹ کر حلوہ جات اور کشتے کھائے جاتے۔ غلام نبی کی کھیر اور عبداللہ شیرینی فروش کی امرتیوں اور لڈئووں پر بھی یہ سنہرے روپہلے ورق جھلملاتے رہتے۔
اسی طرف وہ محلہ بھی تھا جس کو بڑا پھاٹک کہا جاتا، جو نادر علی کا نانہال تھا۔ اس میں رہنے والے شرع ترہ کے پابند، پلائو خور مولانا لوگ تھے۔ جو قورمہ آلود لہجوں میں بہت مرغن عربی اور فارسی بولتے اور تفرقات و فسادات کے لئے فضا ہموار کرتے اور بڑی نفاست و تہذیب سے مخالف فرقوں کو غلیظ ترین گالیاں دیتے۔ اس بڑے پھاٹک سے الگ کوئی پانچ میل دور پر مغرب میں ایک اور محلہ تھا جس کو صرف پھاٹک کہا جاتا۔ یہ لوگ نادر علی کے دادھیالی اعزا تھے جو پابندی سے نمازیں پڑھتے، روزے رکھتے۔ سعید اور فرماں بردار مثالی میاں لوگ ایک ایک ببول اور کیکر کے درخت پر مقدمے لڑتے، سود پر لین دین بھی کرتے اور وہیں ان سب کی چچی جان رہتیں۔ جو روپے دو روپے کے لئے سگے بھتیجوں سے رسید لکھوا لیتیں۔ اللہ اللہ کیا اچھے زمانے تھے۔ کیا محبتوں کے لوگ تھے۔ اب کہاں یہ مثالی محبتیں اور یہ دل نواز جھگڑے۔۔۔۔۔۔۔۔ آہ! نادر علی نے ہر پھاٹک پر لڑ جھگڑ کر داخلہ حاصل کیا تھا۔ اس نے ان تمام کوٹھیوں اور محلات اور حویلیوں میں جہاں دیواریں نہیں بلکہ باقاعدہ فصیلیں کھڑی تھیں۔ بے حیائی، بدتمیزی اور بیہودگی سے زبردستی جگہیں حاصل کی تھیں اگر کوئی فصیل سد راہ ہوئی، کوئی پھاٹک نہ کھل سکا تو وہ دیواریں توڑکر، فصیلیں پھاند کر دروازوں میں شگاف کرکے بڑے بڑے لوگوں کی عظمتوں کو سیندھ لگا کر ان کی محفلوں کو درہم برہم کرکے چلا آیا۔ سب سے اہم معرکہ تو بڈالنگ عبور کرکے دیوار چین کے آخری سرے پر کھڑے ہوکر اس کا یہ اعلان تھا کہ اگر چاند کی سطح سے واقعی دیوار چین دکھائی دیتی ہے تو پھر وہ فلک پیما اس کو بھی دیکھنے پر مجبور ہوگا۔ دونوں ہی دعوے مہمل تھے۔ اس کو تو صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ اس کی زندگی میں کوئی ایسا دروازہ نہیں آیا جس کے دربان اس کو دھتکار نے میں واقعی کامیاب ہوسکے ہوں کوئی دیوار ایسی نہیں ملی جس کو توڑ پھوڑ کر جائز ناجائز طریقے پر وہ حرم محترم میں داخل نہ ہوسکا ہو۔ لیکن اب یہ دوسری بات تھی کہ اس دن وہ اس پر اسرار گیٹ پر کھڑا ہوا ایک ناقابل فہم کش مکش میں تھا۔ اس نے دستک دی اپنا موقف دہرایا اور بازگشت کا انتظار کرنے لگا۔
کہتے ہیں کہ پہلے شہر میں داخلے کا مرکزی دروازہ یہی تھا۔بعد میں جب اس اہم شاہراہ پر بنی ہوئی قیام گاہیں مسمار ہوگئیں کلیسا منہدم ہوگیا تو اس کے ساتھ ہی اس دروازے کہ اہمیت بھی ختم ہوگئی۔ اب یہ شہر سے باہر ہے۔
نیا شہر برابر ترقی کر رہا ہے اور دو تین سمتوں میں برابر پھیل رہا ہے اس کے قریب کے کئی مواضعات اور دیہات تو اس میں ضم ہوکر چھوٹے چھوٹے محلے بن کر رہ گئے ہیں۔ صرف دروازے کی طرف کوئی تعمیر ترقی نہیں ہورہی ہے۔ اب تو اس کو محکمہ آثار قدیمہ نے تاریخی آثار کا تحفظ عطا کردیا ہے۔ لہذا ادھر تعمیرات کا کوئی امکان ہی نہیں رہ گیا ہے۔ یہ دروازہ تو محض رسمی طور پر کہا جاتا ہے۔ اصل معنوں میں تو اس کو پھاٹک ہی کہا جائے گا جیسے شاہ عالمی گیٹ یا اجمیری گیٹ۔
اس کی ساخت چار مینار کی طرح ہے۔ چلیپائی شکل میں چار اونچی محرابیں ہیں۔ ایک سڑک مغرب سے مشرق کی طرف جاتی ہے جس سے ہوکر پرانے زمانے میں صلیبی جانباز بیت المقدس کی طرف جاتے تھے اور دوسری سڑک شمال سے آتی ہے جو اس دروازے سے ہوتی ہوئی جنوب کے ساحلی علاقوں کی طرف نکل جاتی ہے۔ آخری صلیبی جنگ کے بعد مغرب سے مشرق کے طرف جانے والی سڑک کا در بند کردیا گیا۔ اس پر چار خانے کی وضع کا ایک دیو ہیکل آہنی چوکھٹا لگا دیا گیا۔ یہ عام طور پر بند ہی رہتا ہے اس طرف کا در اتنا مضبوط ہے کہ بکتر بند گاڑیوں اور دبابوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔
شمال سے جنوب کی طرف جانے والی سڑک ہمیشہ کھلی رہتی ہے کیوں کہ یہ شہر کے وسط سے گزرتی ہے اور پھر وہاں سے جنوب مغرب کے چمکیلے سنہرے ساحلوں تک جاتی ہے۔ بعد میں نئی نئی سڑکوں اور قومی شاہراہوں کے کھل جانے سے اس کا بھی زمانہ ختم ہوچکا ہے۔ اب تو یہ اس طرح ٹوٹی پھوٹی رہتی ہے کہ مواضعات کی کچی سڑکوں کی یاد آجاتی ہے۔
نادر علی پہلی بار وہاں اس وجہ سے گیا کہ شہر کے کنارے ایک قدیم تاریخی اہمیت کی درس گاہ ہے جس میں داخلے کے لئے دو دروازے سے ذہین طالب علم آتے ہیں۔ ان میں مقابلہ ہوتا رہتا ہے اور ہزار بارہ سو میں سے صرف پچاس ساٹھ امیدوار چنے جانے ہیں۔ ان میں اول چار کو اعلی ترین نمبر لانے پر تمام اخراجات سے مستثنی کردیا جاتا ہے۔ ان کے رہنے سہنے کا انتظام ہوتا ہے فیس معاف ہوتی ہے اور ان چار خوش نصیبوں کو نقد وظیفہ بھی ملتا ہے۔ ان چار طلباء کا رتبہ پرانے زمانے کے آئی سی ایس افسروں کی طرح ہوتا ہے۔
وہ جب اسکول جاتا تو یہ ضرور سوچتا کہ کسی دن یہاں کے عہد عتیق کے قلعے کی باقیات دیکھنے ضرور جائے گا اور وہ شکستہ رومی مندر بھی دیکھے گا جس کی بنیادوں میں ایک ہزار کنواریوں کا جیتا جاگتا خون شامل کیا گیا تھا۔ اس نے یہاں کے قدیمی دروازے کو کھلوانے کا بھی عہد کر رکھا تھا جس کے بارے میں طرح طرح کی دیو مالائی کہانیاں سننے میں آتی رہتی تھیں۔ اس گیٹ کے اس طرف ایک سوئی سوئی سی دنیا آباد تھی۔ کہتے ہیں کہ اس طرف کے لوگ بہت عجیب ہیں۔ وہ سب لوگ مذہبی پناہ گیر ہیں۔ وہ سب بوڑھے بچے اور مرد عورتیں اس مرتی مارتی دنیا سے الگ ایک گمنام گوشئہ عزلت میں مگن ہیں۔ وہ سب خاموشی سے مسیحا کی آمد کے منتظر ہیں۔
نادر علی نے اس دروازے کو کھلوانے کے لئے بہت سے اہم واقف کاروں سے تعلقات پیدا کئے۔ لیکن اس سے گزرنے کا خیال ہی مقامی لوگوں کی نظر میں محض پاگل پن کی دلیل تھا اور اب تو یہ مشہور ہو گیا تھا کہ کوئی خاکی گناہ گار اس دروازے سے گزر ہی نہیں سکتا تھا۔ دنیا کا معصوم ترین فرد جب اس کے نیچے سے گزرے گا تو یہ پھاٹک گر پڑے گا اور کہتے ہیں تبھی قیامت آجائے گی۔
نادر علی نے دنیا تیاگ دی تھی۔ اس نے چین، لنکا اور برما کے قدیم ترین مندروں میں گھنٹے بجائے تھے۔ عظیم ترین اور قدیم ترین عبادت گاہوں میں باجماعت سجدہ کناں ہوا تھا۔ دنیا کی تقریباً ہرقابل ذکر زیارت گاہ اور تیرتھ استھان پر حاضری دی تھی۔ اس نے ان تمام مقدس چشموں میں غسل کیا تھا جو راہ نجات کے ضامن تھے اس کو دروازے کے پار جانے کی دھن تھی۔ شروع میں اس نے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھاٹک کے دوسری طرف کی دنیا دیکھنے کی کوشش کی۔ پھر اس نے گلائیڈر کلب کی رکنیت اختیار کی۔ ہوائی جھولوں اور غباروں کے ذریعے وہاں اڑا۔ لیکن کسی خرابے کی طرح دہشت زدہ علاقے میں اس کو بجز چند تکونے ٹیلوں کے کچھ نظر نہ آیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے بید کے بنے ہوئے ٹوکرے الٹ کر ڈال دئے گئے ہوں۔ ہاں اس خرابے میں ایک بھورے رنگ کا ٹوٹا پھوٹا کلیسا بھی تھا۔ اس کے آس پاس سیاہ فرغل میں ملبوس ایک معمر پادری کبھی کبھی دکھائی دے جاتا۔ وہ بھی سال کے آخر میں۔ جب وہ عبادت گاہ کاگھنٹہ بجاتا اور ایک نئے سال کے آغاز کا اعلان ہوتا۔
کافکا کے ایک طالب انصاف کی طرح جو حصول انصاف کی دھن میں آخری حد تک پہنچ گیا تھا۔ نادر علی نے اس پھاٹک کو کھلوانے اور اس کے پار جانے کی تمام کوششیں کر ڈالی تھیں (وہ تمھارے ہی مورث اعلی تو تھے جنہوں نے درہ خیبر اکھاڑا تھا؟) اور آخر میں درس گاہ کی قریب المرگ معلمہ نے بتایا کہ پرانی لائبریری کے پرانے محظوطات کے پرانے حصے میں جاکر سب سے قدیم کتاب ڈھونڈو۔ اسکے پہلے ہی صفحے پر کسی عمل، کسی وظیفہ یا طریقہ کار کا ہدایت نامہ مل جائے گا۔ وہ معلمہ جس کی عمر مقامی داستانوں کے مطابق سو برس سے بھی اوپر تھی، ایک طوفانی برف باری کے موقع پر چل بسی اور نادر علی کو اپنی تلاش اور چھان بین میں تین برس اور لگ گئے۔
تب تک مسیح ناصری کے مصلوب ہونے کی داستان پورے دو ہزار سال پرانی ہو چکی تھی اور ایک نیا ہزارہ شروع ہو رہا تھا۔
اس نئی صدی اور ایک نئے ہزارہ کی ابتدا پر نادر علی نئے اشتیاق و جذبے کے ساتھ اس دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ اس نے پورے اعتمادو یقین کے ساتھ بتایا کہ ۔۔۔۔۔۔ میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کہ اب بالکل معصوم ہوگیا ہوں۔ دروازہ کھولو۔۔۔۔۔!
ٹھیک بارہ بجے چاروں طرف روشنیاں جگمگا اٹھیں۔۔۔۔۔۔ گھنٹے بجنے لگے۔۔۔۔۔ آتش بازی کے رنگا رنگ مظاہروں سے پورا آسمان گلنار ہوگیا۔۔۔۔ایک نئی صدی طلوع ہورہی تھی۔ وہ کوئی نیا دور، نیا زمانہ آرہا تھا، جس کے تصور میں ادیبوں، شاعروں، فن کاروں، موسیقاروں نے گیت لکھے تھے۔ کہانیاں گڑھی تھیں اور رنگ و نور کے مرقعے بنائے تھے۔
نادر علی نے پھر آواز لگائی۔ مگر جواب میں اس سوئی سوئی بستی میں کوئی پتہ بھی نہ کھڑکا۔
برف باری شروع ہوچکی تھی۔۔۔۔۔تمام جتن کرنے کے بعد بھی نادر علی ناکام ہی تھا۔ لیکن واپسی کا تو اب تصور بھی محال تھا۔ چنانچہ وہ اس تیز برف باری میں بیٹھ کر مسیح موعود کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close