افسانہ

بارشوں سے صلح

شہلا کلیم

بارش سے پہلے کا موسم اسے ہمیشہ اُداس کر دیا کرتا تھا، بارش کی آمد کے خبری آسمان پہ چھائے کالے بادل اور خنک ہوائیں اس پر گراں گزرتےـ قدرت کے اس دلکش تحفے سے وہ بھی محظوظ ہونا چاہتی تھی ـ ساون کے مہینوں میں جب کالی گھٹائیں امڈ کر بارشوں کے پیغام لے آتیں تب ’مور‘ اپنے پنکھ پھیلا کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔  رم جھم برستی بارشوں میں دنیا و ما فیھا سے بے خبر ناچتے ناچتے یک لخت پیروں کی بد صورتی پہ نظر پڑتی تو اُداسی ان کامقدر بن جاتی۔ ۔ ۔ پھر یہ حسین مناظر بھی انکے درد کا مداوا نہیں کر سکتے۔ موروں کی طرح وہ بھی گھنگھور گھٹاؤں میں جھوم جھوم جاتی مگر اپنے آشیاں پہ نظر پڑتے ہی بارشوں سے عداوت کر بیٹھتی ـ کیا خبر کہ اب کے ساون کی ہوائیں اسکے بدحال آشیاں کے ایک ایک تنکے کو اُڑا نہ لے جائیں گی؟ کیا سند کہ اب کی بارشیں ان بکھرے تنکوں کو بہا نہ لے جائیں گی؟

برسات سے پہلے ہی پرندوں نے تنکوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے ٹھکانے مضبوط شاخوں پر منتقل کر لئے مضبوط شاخوں پر بنے ان گھنے بسیروں میں اب نہ پانی کی رسائی ممکن تھی اور نہ تیز و تند ہواؤں کا خوف، پرندوں کی طرح اُسکی ماں بھی برسات کے استقبال کیلئے سرگرمیاں تیز کر دیتی اور وہ ماں کے ساتھ کچی چھت کی مرمت اور خستہ حال مکان کی لیپا پوتی میں جٹ جاتی اور ساتھ ہی ساتھ بارش نہ ہونے کی دعائیں کرتی۔ ۔ ۔ وہ کوئی پرندہ تو نہ تھی کہ ہر اگلے موسم میں شاخیں بدل لیتی۔ ۔ ۔ !

یہ ٹوٹا پھوٹا گھر ہی انکا کل سرمایہ تھا جس کے در و دیوار نے جانے کتنی برساتیں جھیلی تھیں اب مزید جھیلنے کی سکت باقی نہ رہ گئ تھی ہر بدلتے موسم میں از سر نو مرمت اس گھر کی قسمت تھی۔!

اُسے یاد تھی وہ رات بھی جب ساری رات بارش برستی رہی تھی، جھڑ لگے ہفتہ گزر چکا تھا مگر بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی کھلے آسمان تلے آنگن میں برسنے والی چھما چھم بارش کچھ دیر کو تھم بھی جاتی مگر کچی چھت سے ٹپکنے والی بوندوں کی رفتار میں کمی نہ آتی، جتنا پانی گھر کے آنگن میں جمع تھا اس سے کہیں زیادہ نشیب نما برآمدے میں بھر چکا تھا، بس فرق تھا تو اتنا کہ آنگن میں گرنے والا پانی صاف تھا جبکہ مٹی کی کچی چھت سے گرنے والا پانی گدلہ اور کیچڑ سے بھرا تھا۔ ۔ ۔ کچی چھت کی لکڑی سے بنی کڑیاں لچک کر گرنے کو بیتاب تھیں، جسے جگہ جگہ ٹیکن لگا کر روک دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ایک عدد کمرے اور برآمدے پر مشتمل اس مکان کی چھت میں کوئی جگہ ایسی نہ رہ گئ تھی جہاں سے پانی نہ ٹپکتا ہو، ایک مچان تھا جو پکا پلستر سے بنا تھا مگر وہ بھی اتنا وسیع و عریض نہ تھا کہ اپنے اوپر سے گزر کر نیچے گرنے والی پانی کی دھار سے اس گھر کے مکینوں کی حفاظت کر سکتا، اسکے اوپر رکھے سازوسامان کا کباڑہ ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ آخرکار ماں نے وہ برساتی رات کاٹنے کی تدبیر ڈھونڈ نکالی اور  پلاسٹک سے بنے برساتی ترپال کے ذریعے کچی چھت کے نیچے ایک دوسری چھت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ ۔ ۔ ۔ اس عارضی چھت کے نیچے ایک چارپائی پر اپنے تین چار بچوں کے ساتھ ترپال پر گرنے والی ٹپ ٹپ بوندوں کےگراں بار شور میں ماں نے رتجگا کیا۔ ۔ ۔

وہ رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب پانی کے وزن سے پلاسٹک کا ایک چھور کھل کر اس گھر کے مکینوں کو نہلا گیا۔ ۔ ۔ اندر کی یہ بارش باہر کی بارش سے کہیں زیادہ تیز رفتار تھی۔ ۔ ۔ جیسے بالٹیاں بھر بھر کر اُنڈیل دی گئیں ہوں، مگر اب انہیں بھیگنے کا کوئی غم نہ تھا کیونکہ جسم پر لپٹے ایک عدد سوکھے کپڑوں سے بھی پانی نچڑنے لگا تھا پھر بقیہ رات بڑی خاموشی سے گزری۔ ۔ ۔ اگلی صبح اُسی ترپال سے ماں نے گھر کے آنگن میں چھت بنانے کا تہیہ کیا کیونکہ آنگن کی چھت سے گرنے والا پانی کم از کم کیچڑ بھرا تو نہ ہوگا۔ ۔ ۔!

کہتے ہیں ایک مدت بعد کوڑے کے ڈھیر کے بھی بھاگ بدل جاتے ہیں۔ ۔ ۔ وقت نے کروٹ لی، حالات نے پاسا پلٹا اور وقت کی گردش کے ساتھ اس جھونپڑی نے ایک بلند عمارت کا روپ لے لیا جس کی بالکنی میں کھڑی وہ اب پہلی بارش کی منتظر تھی۔ ۔ ۔

گھٹائیں بھی بڑے جوش و خروش سے نئے گھر میں پہلے ساون کی آمد کا پیغام دینے آئی تھیں۔ ۔ ۔ اب کے نہ ہواؤں میں تنکے بکھرنے کا خوف تھا اور نہ بارشوں میں بہہ جانے کا اندیشہ، سو اُس نے موسلا دھار بارش کی دعا کی کیونکہ اب بارشوں سے صلح ہو چکی تھی۔ ۔ ۔ اب پیر بھدے نہ تھے جسے دیکھ کر وہ اداس ہو جاتی۔ ۔ ۔

نم ہوا کا کوئی جھونکا اسے چھوکر گزرتا تو شرارتا اسکی زلفوں کو بکھیر کر دوپٹا بھی اُڑانے کی اٹھکیلیاں کر جاتا ایک ہاتھ سے زلفیں کانوں کے پیچھے اڑستی دوسرے ہاتھ سے دوپٹا سمیٹتی وہ اطراف کا جائزہ لینے لگی۔ ۔ ۔ آسمان میں بادل گھنے ہوتے جا رہے تھے، پکے گھروں کی عورتیں بارشوں سے لطف اندوز ہونے کی خاطر انواع و اقسام کے کھانوں کی تیاریوں میں مصروف تھیں جبکہ کچے گھروں کے مکین پانی کی رسائی کے تمام تر شگاف بند کرنے کیلئے ٹوٹی پھوٹی کھپریلوں کو سیاہ پلاسٹک کے ترپال سے ڈھکنے میں منہمک تھے۔ ۔ ۔ بستی سے دور ایک غیر آباد علاقے میں یہ بنجاروں کا ایک چھوٹا سا محلہ تھا ایک زمانہ ہوا کرتا تھا جب اکا دکا گھروں سے ہی یہ خوشبو نکل کر بارش میں گھل مل جایا کرتی تھی مگر جیسے جیسے جھونپڑے پکے گھروں میں تبدیل ہوتے گئے بارش کی بھینی بھینی خوشبو کی جگہ طرح طرح کے لوازمات کی خوشبوؤں نے لے لی۔ ۔ ۔!

 تھوڑی ہی دیر میں بارش بھی شروع ہو چکی تھی اور وہ  بارش کے ایک ایک قطرے کو اپنے اندر جذب کر لینے کی ناکام سعی میں آنگن سے چھت تک دوڑتی پھرتی رہی۔ ۔ ۔ وہ تھک گئ مگر اُس کی خواہش نہ تھکی اور اسی خواہش کی تسکین کے لئے بالکنی میں کھڑے ہوکر پکے مکانوں کے پتنالوں سے بہنے والے پانی میں نہاتے اور پانی سے بھری سڑک پر شور و غل مچاتے اَدھ ننگے بچوں سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ ۔ ۔

بارش برس کر تھم بھی گئی مگر کچی چھتوں سے رِسنے والا پانی بوندیں بن بن کر مسلسل ٹپ ٹپ کے ساز پیدا کرتا رہا۔ ۔ ۔ کچے گھر کے مکینوں کی بارشوں سے جس قدر عداوت ہوتی ہے اسی قدر گہرا ربط بھی کیونکہ جتنی تیزی سے بارشیں باہر برستی ہیں یکساں صورت میں انکے اندر بھی۔ ۔ ۔!

بارش تھمی تو بچوں نے بھی اپنے گھروں کی راہ لی۔ ۔ ۔ بارش کے بعد چہار جانب پھیلنے والی گندگی اور کیچڑ سے اسے سخت چڑ تھی۔ ۔ ۔ بارش کے بعد چہل پہل بحال ہوئی، ماحول معمول پر آیا اور لوگ اپنے اپنے کاموں میں پھر سے جٹ گئے تب  پاؤں میں ٹوٹی چپل پہنے اسی کیچڑ اور پھسلن میں بغیر دروازوں والے گھر کی کچھ بچیاں ہاتھ میں بالٹی تھامے پانی بھرنے کی غرض سے بند دروازے پہ دستک دے رہی تھیں جو شاید کھانا پکانے یا دیگر ضروریات کےلئے درکار تھا۔ ۔ ۔ خاصہ وقت بیت گیا مگر دروازہ نہ کھلا کیونکہ جن کی بارشوں سے صلح ہو جائے وہ لوگ تو ایسے موسم میں بند دروازوں کے پیچھے ساون اور لوازمات کے مزے لیتے ہیں۔ ۔ ۔ وہ ان بچیوں کو پکارنا چاہتی تھی تاکہ چیخ کر کہہ سکے۔

 "سنو۔ ۔ ۔

تم بھی بارشوں سے صلح کر لو۔ ۔ ۔

 آج  تم بھی میری طرح خود غرض ہو کر

بارش نہ ہونے کی دعائیں مانگتی ہوں گی۔ ۔ ۔

ان غریب کسانوں کی پرواہ کئے بغیر

جو سال بھر اس رُت کی بے صبری سے راہ دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔

ان قحط زدہ مظلوموں کی پرواہ کیے بغیر

جو حسرت بھری نگاہوں سے آسمان کو تکتے ہیں۔ ۔ ۔

اس خشک دریا کی پرواہ کیے بغیر

جو پانی کی آس میں منھ کھولے چپ چاپ

کسی ضعیف اور بے بس ناگ کی طرح بل کھائے پڑا ہے۔ ۔ ۔

اور جب یہ عداوت صلح میں بدل جائے گی

تب بھی تم میری طرح خودغرض ہو کر

کسی عمارت کی بالکنی میں کھڑی

موسلا دھار بارشوں کی دعا کروگی

اپنے جیسے خستہ حال اور ٹپکتی چھت کے مکینوں کی پرواہ کئے بغیر۔ ۔

دروازہ نہ کھلا وہ واپسی کےلیے پلٹیں

اس سے پہلے کہ وہ انہیں پکارتی ماں نے اسے پکار لگائی۔ ۔ ۔

"صدف بیٹا پکوڑیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔ ۔ ۔!

مزید دکھائیں

شہلا کلیم

مرادآباد، انڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close