افسانہ

باغوں میں بہار ہے۔۔۔

تنویر احمد

پتا نہیں کیوں وہ دو دن سے مجھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی،
شاید ایک لمحہ کے لئے بھی اس کی نظروں نے خطا نہیں کی تھی، اور میں محو حیرت اپنی قطار میں کھڑا تھا، بھیڑ تو اس قدر تھی کہ اللہ توبہ…… میری نظر جب بھی شعوری یا غیر شعوری طورپر اٹھی اسے بس اپنے ہی طرف متوجہ پایا… میں پریشان تھا آخر اس نقاب پوش کا کیا راسے ہے مجھ سے……کیوں اس طرح تاڑے جارہی ہے…. آپ کو تو پتا ہوگا کہ نقاب پوشوں کو پہچاننا کتنا مشکل کام ہے..
خیر آج میرا بھی تیسرا دن تھا…… دو دن کی محنت کے بعد بمشکل تمام بینک کاؤنٹر تک پہونچا ہی تھا.. ادھر وہ محترمہ” بلائے جان”بھی آج کافی مطمئن نظر آرہی تھی کیونکہ وہ بھی کاؤنٹر سے بلکل قریب بلکہ میرے سامنے ہی آگئیں تھیں … اب تو منظر عجیب تھا کبھی وہ ترچھی نظر سے وار کرے تو کبھی میں…بس یوں سمجھ لیں کہ بجلی کی آنکھ مچولی آپ نے دیکھی ہوگی.. اور میں نے آنکھ مچولی دیکھی…… ایک چیز تو واضح ہو گئی تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی ایکدوسرے کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا …..البتہ یہ جو اشارہ وکنایہ ہے نا بڑا لطف دیتا ہے… وہ بھی ایسے وقت میں جب ہرطرف پریشانی ہو…. کوئ پرسان حال نہ ہو… اور وقت کاٹے نہ کٹے..بقول شاعر زندگی بیمار کی رات سی ہوگئی……تو پھر اچانک کسی صنف نازک کا اس طرح نین سے نین لڑانا…….” یو ں مسکرائے کہ کلیوں میں جان سی پڑگئ "سے کم نہیں…میرا دودن کس طرح گزرا مجھے کچھ پتا نہیں… "شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی”-

اسی بیچ ایک شخص چلِاّتا ہوا… "کسی کو پیسہ بدلوانا ہے… جلدی بتاؤ نام لکھواؤ”
مین نے دیکھا اس کے ہاتھ میں کچھ پانچ سو اور ہزار کے نوٹ ہیں اور ایک کاغز شاید اس پہ دستخط تھا اس شخص کا جس نے پیسہ دیا تھا… وہ میرے قریب آیا…. "بھائی صاحب اور پیسے تو نہیں چینج کروانا ہے”
میں: "بھلا مجھے کیوں کروانا ہے.. دِکھ نہیں رہا ہے میں لائن ہوں اور کاؤنٹر کے بلکل قریب.”زور دار آواز میں کہا کیونکہ محترمہ سامنے تھی نا؟…………… ویسے بھی کمزوروں پہ رعب جمانا کس کوآچھا نہیں لگتا…
وہ دھیرے سے سرجی "اور تو نہیں کروانا ہے”
یہ سن کر کے مجھے ہنسی آگئ…
احساس ہوا کہ پس نقاب "محترمہ” بھی مسکرا رہی ہے…
پتا نہیں مجھے ایسا کیوں لگا کہ وہ کوئ فراڈی تھا… جو شاید کسی کو بیوقوف بناکر پیسہ لے اڑتا…خیر دیکھتا ہوں کہ وہ اس نقاب پوش کے طرف بڑھا… یوں بھی برقعہ پوش خواتین کو دیکھ کر عموما ایسے لوگ اس کی معصومیت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں….
فراڈی…سوالیہ انداز میں "میڈم آپ کو تین دن سے دیکھ رہا ہوں ابھی تک چینج نہیں کروایا؟؟ ”
میڈم ترشروئ کے ساتھ "نہیں جناب یہاں تو "باغوں میں بہار ہے”اس لئے عوام بیقرارہے، شاید مودی جی پہ بھوت سوار ہے، اور ہاں آپ کو کس چیز کا انتظار ہے؟ کہیں آپ کے پیچھے بھی کوئی سرکار ہے ؟ سنیے! جلدی یہاں سے نکل لیں نہیں لات، جوتے، اورگھونسے لے سب تیار ہیں -لائن میں کھڑی عوام نے زور سے قہقہہ لگایا………… دیکھا تو بیچارہ واقعی فرار ہے…
بھائی صاحب میں تو دنگ رہ گیا اس کی سجع بندی پہ… اس سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ وہ کوئ پڑھی لکھی لڑکی معلوم ہوتی ہے… جو سیاسی داؤ پیچ سے واقف ہے –
اب ہم دونوں کی باری آچکی تھی… اور”گلابی گلابی”دوہزاری نوٹ ہاتھ میں تھا…. خوشی کے مارے میں اسے بوسہ دے رہا تھا ایسا معلوم ہو رہاتھا کہ کسی جنگ میں ،میں نے فتح حاصل کی تھی… اور آج پہلی مرتبہ احساس ہواکہ "کالا دھن”سفید دھن میں تبدیل ہوگیا…. کیونکہ "کالادھن "تو عام آدمی کے پاس ہی ہوتا ہے نا!!!…. ملک میں کچھ بھی ہو سزا تو عام آدمی کو ہی دی جاتی ہے… آخیر کیا ہورہا ہے اس ملک میں لوگ اپنے ہی پیسے لینے کیلئے اس قدر پریشان؟؟؟
یہ سب سوچ ہی رہاتھا کہ قطار میں کھڑا ایک بوڑھا شخص: "بھائی صاحب جرا ہمکا بھی دِکھائے دو دوہجرای نوٹ………. پتہ نہیں آج بھی پہوچ پائیں گے یا نہیں” (کاؤنٹر تک)
بوڑھے کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی..وہ کافی کمزور تھے… پسینہ سے شراب بور تھے فورا اسکے طرف لپکا اور نوٹ دکھلا دیا..
میں :”داداجی کب سے یہاں کھڑے ہیں ”
بوڑھا:”بیٹا کا پوچھت ہو دو دن ہوئے گوا اور ہم کا لاگت ہے کہ آجو نہیں پائینگے پیسوا ”
انکی حالت زار کو دیکھ کر بس یہی احساس ہوا کہ کیا ہوگیا مودی جی کو….. سب کو ایک ہی لائن میں کھڑا کردیا،یہ سب بربڑاتے ہوئے نظر نیچی کیے ہوئے چل دیا کچھ قدم چلا ہی تھا کہ ایک آواز آئ…. "ایکسکیوز می”…… اوہ… آواز کی دلکشی نےسارا غم بھلا دیا.. پیچھے مڑا، دیکھا وہی محترمہ مانند صنم کھڑی منتظر ہے.. میں قریب آیا لیکن دلوں کے اندر ایک عجیب سا زلزلہ پرپا ہورہا تھا ،خود کو قابوکیا اور نگاہ نیچی کیے ہوئے کھڑا ہوگیا..
محترمہ:” جناب آپ تو بڑے بے غیرت نکلے !!!کب سے انتظار کررہی ہوں اور آپ ہیں کہ چپ چاپ خراما خراما چل دیے… اتنابھی شریف بننے کی ضرورت نہیں، آپ کی حرکتوں سے پوری طرح واقف ہوں”…
میں :”مممممممم…… میمممممم…. مین نے تو کچھ بھی نہیں کیا…وہ تو آپ ہی……. ؟؟؟
محترمہ: چپیے صاحب آپ کو جانتی ہوں… کتنے شریف ہیں "….
مین نے دل میں سوچا یار یہ کوئی جانی پہچانی لگتی ہے… اسطرح بھلا کوئ اجنبی سے بات کرتا ہے… جونہی نظر اٹھائ دیکھا وہ تو اپنی کلاس میٹ” یشفین امان” ہے..
اب تو میں برس پڑا "موٹی خامخواہ اچھا بھلا موڈ خراب کردیا.. تم نے ایسا کیوں کیا….. یہ وہ دِس ڈیٹ کہہ سنایا….. …وہ تو بھائ صاحب ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہورہی تھی… مجھے بھی ہنسی آرہی تھی لیکن تھوڑا شرمندہ تھا کیونکہ چوری پکڑی گئی تھی… ویسے وہ تو کافی ماھر تھی ایسی تفریح کرنے میں…

یشفین:”ارے یار!! میں بھی اکتاہٹ محسوس کررہی تھی سوچا کوئی حرکت کی جائے ،بس تم نظر آئے، پھر میں نے بھی اپنی شرارت شروع کردی، سوری ….نایاب ”
نایاب:”اچھا یشفین تم اور نقاب؟؟ تضاد معلوم نہیں ہوتا”
یشفین :”ہاں یار لیکن کبھی کبھار تم جیسوں کو پریشان کرنے کیلئے پہن لیتی ہوں”
نایاب:اوئے موٹی شٹ اپ!!! "ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم”اور پھر فخریہ انداز میں مونڈھے کو اوپر کیا….ویسے واقعی "یشفین امان صاحبہ "اب یقین ہو گیا کہ "باغوں میں بہار ہے "…
یشفین : ہا ہا ہا ……. "تو پھر چلیں جناب "…
نایاب:”ہاں اب کس کا انتظار ہے”…………….
مسکراتے ہوئے اپنے اپنے گھر چل دیئے….

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close