افسانہ

بھرم

آج پہلی بار مجھے جہالت اور اور غربت کا ایک ساتھ ہونا اچھا لگا تھا۔

شہلا کلیم

درختوں کی اوٹ سے جھانکتے نارنجی سورج کی آخری کرنیں بیکراں آسمان پر اپنی مصوری کا فن آزما رہی تھیں اور صاف و شفاف نیلگوں آسمان پر اپنی کاریگری کے رنگین نمونے اتار کر قدرتی حسن کو دوبالا کرنے میں مگن کبھی کبھار داد طلب نظروں سے میری طرف دیکھ لیتیں۔۔۔قدرتی حسن کی میں ’دلدادہ‘ ہوں حسین شام اور ’چائے‘ کی ہم نشینی میں چھت پر بیٹھ کر غروب آفتاب کی آخری کرنوں کو بھی نگاہوں میں بسا لینا میرا شیوہ ہے، مگر آج خلاف معمول میں اس دلکش نظارے سے بے نیاز تھی۔۔۔!

چند منٹ پہلے وہاٹس ایپ کے ایک گروپ پہ دوستوں کی گفتگو نے ذہن منتشر کر کے رکھ دیا تھا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے سلب کر لی گئی ہو۔ دماغ نے ساتھ نہ دیا اور دل میں درد کی عجیب سی ٹیسیں اُٹھنے لگیں تو میں چھت پہ چلی آئی۔۔۔!

ہاتھ میں تھما موبائل ابھی تک مسلسل نوٹیفکیشن دے رہا تھا، جسکا مطلب تھا کہ دوستوں کے درمیان گفتگو اب بھی  جاری ہے۔۔۔ ایک نظر موبائل اسکرین پر ڈالی مگر دوبارہ زیر بحث موضوع پر گفتگو کا حصہ بننے کی ہمت نہ ہوئی اور چھت پر پڑی ایک عدد چارپائی کی طرف موبائل اچھال کر میں چھت کی چہار دیواری کی طرف چلی آئی۔ ۔۔چار انچ موٹی دیوار پر کہنیاں ٹِکا کر ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ جمائے  آسمان کو تکنے کی بجائے میں نیچے سڑک اور گلیوں کے نظارے کرنے لگی۔۔۔مگر اس گفتگو کا ایک ایک لفظ میرے ضمیر پہ کوڑے برسا رہا تھا اور ذہن جھٹکنے کے باوجود یہ بحث میرا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھی۔۔۔!

ثناء کی امی کے انتقال کی خبر میرے لئے باعث اذیت تھی۔۔۔ارم کے میسج کے ذریعہ دی گئی اس اطلاع پر میں بس اتنا ہی کہہ سکی…

’’اب ان دونوں بہنوں کے مسقبل کا کیا ہوگا ؟‘‘

والد صاحب انکے بچپن میں ہی چل بسے شاید ثناء اور نشا میں سے کسی کے ذہن میں اپنے ابو کی کوئ دھندلی یاد بھی باقی ہو سہارے کیلئے کوئی بھائی بھی تو نہیں ایک آخری سہارا انکی ماں تھی وہ بھی چل بسی۔۔۔!

میرے اس جواب کے بعد میسجز کی جیسے جھڑی لگ گئی۔۔۔

"ہونا کیا ہے باپ کے بعد بیوہ ماں نے ادھر ادھر سے ملی امداد پر دونوں بیٹیوں کے خوب نخرے اٹھائے،ہر خواہش پوری کی، اعلی تعلیم دلائی جو رشتے دار ماں کو دیا کرتے تھے وہی اب ان بہنوں کو دیتے ہیں، سر پہ کسی کا خوف نہ رہا اور آزادی کے پرچم تلے جب جوان جہان  لڑکیاں بے لگام ہوئیں تو رشتے داروں نے ہی زمانے کی اونچ نیچ کے خوف سے ایک بڑی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں داخل کرا دیا۔۔۔ابھی ماں کو گزرے ایک مہینہ بھی ٹھیک سے نہ ہوا کہ دونوں بہنوں کی ’زُلفیں‘ کمر سے کٹ کر کاندھوں پر آچکی ہیں، ’لانگ فراک‘ نے شارٹس کا روپ دھار لیا ہے، کرتا  شلوار’ جینز ٹاپ‘ میں تبدیل ہو چکا ہے اور جم کر اپنی آزادی اور یونیورسٹی کے مزے لئے جا رہے ہیں۔۔۔!

نغمہ کے اس جواب نے جیسے میرا غم غلط کر دیا ہو۔۔۔

"ہاں یار جن کے سر پہ والدین کا سایہ نہیں رہتا اور کسی کے سامنے جواب دہی کا خوف نہیں ہوتا وہ اولادیں خود کو آزاد سمجھ لیتی ہیں۔۔۔یاد ہے نا اسکول ہاسٹل میں ہم ہی لوگ اُن کی ہر ممکن مدد کیا کرتے تھے ملے ملائے ٹکڑوں پہ اچھلنے والے لوگ مجھے تو بالکل پسند نہیں۔

"ٹھیک کہتی ہو زینت جنکے سر پہ کسی کا خوف نہیں آخر اُن کی غلط حرکات کی شکایت کریں بھی تو کس سے کریں؟  اور صرف ثناء اور نشا کی بات ہی کیوں کی جائے ادیبہ کو ہی دیکھ لو اسکے ابو بھی اس دنیا میں نہیں اور اسکی امی بھی بیوہ کے نام پہ ملنے والی رقم سے ہر خواہش پوری کرتی ہیں اور وہ بھی یونیورسٹی میں شرم و حیا چولہے پر چڑھا کر ناچتی پھرتی ہے۔۔۔!

شازیہ تھوڑی سخت مزاج واقع ہوئی تھی ثناء، نشا اور ادیبہ کے بعد اس نے ایک لمبی فہرست کھول کر رکھ دی تھی۔۔۔!

"چند ایک کے سوا یوں تو ہر لڑکی کچھ آزاد پرست خواتین کے اس نعرہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے مطابق زندگی گزار رہی ہے یا گزارنا چاہتی ہے  مگر جنکے سر پہ والدین کا سایہ نہیں ہوتا ان کی جانب اُنگلیاں کثرت سے اٹھتی ہیں ایسی لڑکیوں کو کم از کم دوسرے گھر کی زینت بننے تک اپنی ’یتیمی ‘کا کچھ تو لحاظ رکھنا چاہئے۔۔۔!“

افراح نے بھی اظہار رائے کی آزادی کا فائدہ اٹھانا ضروری سمجھتے ہوئے لقمہ دیا۔

’’خیر چھوڑو ہمیں کسی سے کیا لینا دینا، خدا سب کا حامی و ناصر ہے وہ اپنے بندوں کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑتا اور کوئی نا کوئی مدد کی صورت پیدا کر ہی دیتا ہے وہ جسے چاہے جیسے عطا کر دے وہ چاہے تو سمندر کے پانی کی سطح پر بہنے والے بے یار و مددگار روتے بلکتے معصوم بچے کو شداد بنا دے۔۔۔‘‘

میں فضول میں ہی اُن کی فکر میں گھلی جا رہی تھی۔۔۔ اپنا آخری میسج کرکے میں نے موبائل سائڈ رکھا اور چھوٹی بہن سے اپنی ایک ٹیچر کی بیٹیوں کے متعلق دریافت کیا اس گفتگو کے بعد اچانک ہی مجھے انکی یاد آئی تھی فرزانہ میڈم میری ریاضی کی پسندیدہ ٹیچر ہوا کرتی تھیں تین بیٹیوں کو چھوڑ کر وہ بھی اس دار فانی سے رخصت ہو چکی تھیں۔۔۔

"انکی خبر نہ پوچھئے آپی وہ تینوں ہی آزاد پنچھی ہیں کبھی اس ڈال کبھی اس ڈال پھدکتی پھرتی ہیں تینوں بہنیں ایک سے بڑھ کر ایک ماڈل اور انکی بات تو چھوڑئے آپ میری کلاس میٹ فاطمہ اور سندس کو تو جانتی ہیں نا ابھی دو تین مہینے پہلے اُن کی امی کا انتقال ہوا اسکے چند دن بعد ہی انکے پر لگ گئے، زرا دلاسہ اور ہمدردی میں خیر خیریت کے ساتھ ساتھ دو چار نصیحتیں کیا کر دیں کم بخت نے جھٹ سے جواب دیا ’’اب ہم آزاد ہیں‘‘ اس دن سے میری تو روح کانپتی ہے اسے دیکھ کر۔۔۔!

اس تمام گفتگو کے بعد ایک سوال بڑی شدت سے میرے دل و دماغ میں کچوکے لگا رہا تھا۔۔۔وہ والدین جو میری زندگی ہیں میرے جینے کی وجہ ہیں میرے سر پہ رکھا والد کا مشفق ہاتھ اور میری ماں کے پاکیزہ آنچل میں چھپا میرا سراپا۔۔۔کیا اس سائبان کے بعد میں بھی۔۔۔!

بہت کوششوں کے بعد بھی میں خود کو کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔۔۔!

***

نیچے گلی میں کچھ بچے  بھاگتے دوڑتے شور و غل مچاتے گلی ڈنڈا کھیلنے میں مگن تھے۔۔۔چند ایک کھیل کا حصہ نہ بن کر تماشائی بنے کھڑے دیکھ رہے تھے میں بظاہر تو انکے کھیل پر نظریں گاڑے کھڑی تھی، مگر ذہن میرے ساتھ نہ تھا، وہ میرے وجود سے دور خیالات کی کسی دوسری وادی میں بھٹک کر میرے ضمیر کے ذریعہ پوچھے جانے والے سوال کا جواب تلاش کرنے میں مصروف تھا۔۔۔تماشائی بچوں میں ایک پندرہ سولہ سال کی لڑکی بھی تھی۔۔۔بائیں کوکھ پر ایک چھوٹے بچے کو سنبھالے اور اسکے گرد اپنے دونوں بازوؤں کا گھیرا بنا کر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسائے بڑی مضبوطی سے  وہ اس بچے کو تھامے کھڑی تھی، وزن کی وجہ سے بائیں جانب کو ہلکی سی جھکی کھڑی بڑے انہماک سے وہ بچوں کا کھیل دیکھ رہی تھی۔۔۔!

رمیساء پہ نظر پڑتے ہی میرے ذہن میں ایک خیال کوندا اور بلا تاخیر میں نے اسکو آواز لگا کر چھت پہ آنے کا اشارہ کیا۔۔۔بغیر وقت ضائع کئے وہ دوڑی چلی آئی  جیسے اس بلاوے کے انتظار میں ہی تھی۔۔۔!

"آج کونسی کہانی سنائیں گی۔۔۔؟ "

رمیساء جب کبھی میرے ہاتھوں میں کوئی  کتاب دیکھتی تو بڑی حیرت سے سوال کرتی۔۔۔!

’’باجی آپ اتنی موٹی موٹی کتابیں پڑھتی ہیں مجھے بھی کوئی کہانی سنائیں۔۔۔‘‘

اسکی ضد پر میں ہمیشہ کوئی  افسانہ، کہانی یا کوئی  ناول آسان لفظوں میں ڈھال کر اُس کو سنا دیا کرتی تھی۔۔۔رمیساء بڑی حساس طبیعت کی مالک تھی حالانکہ اسکول سے اسکا کوئی  واسطہ نہ تھا مگر اسکا ذوق بڑے کمال کا تھا ہندی اور اردو ادب کے ساتھ ساتھ انگلش لٹریچر سے بھی بے شمار کہانیاں میں اس کو سنا چکی تھی شیکسپئر کی بہت سی ٹریجڈیز اسکو سنائیں مگر مجھ سے سنی تمام تر کہانیوں میں  maupassant کی short story

” the diamond necklace”

 اسکی پسندیدہ کہانی تھی۔۔۔!

اس کہانی کو سننے کا بارہا اصرار کرتی اور کہانی ختم ہونے پر بے شمار عجیب و غریب سوالات کرتی جاتی اور پھر کسی تجربے کار بوڑھی عورت کی طرح مجھ سے مخاطب ہوتی۔۔۔

’’یہ کہانی بہت اچھی ہے باجی، انسان کو خوددار ہونا چاہئے مانگے تانگے کی چیزوں پر اُچھلنے والوں کو ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملتا، میری ماں بھی یہی کہتی تھی کہ ہر حال میں میانہ روی اختیار کرو جو اپنے پاس ہے بس اسی پہ اکتفاء کرو‘‘۔۔۔!

"سنو ! رمیساء تمہیں کبھی خواہش نہیں ہوتی کہ دوسری لڑکیوں کی طرح تم بھی اچھے کپڑے پہنو، سج سنور کر شادی بیاہ کے فنکشنزاٹینڈ کرو اسکول کالجز جا کر میری طرح موٹی موٹی کتابیں پڑھو۔۔۔نئے نئے لباس زیب تن کرکے بن ٹھن کر اٹھلاتی پھرو۔۔۔آخر تمہیں کس کا خوف تم آزاد ہو، اپنی یتیمی کا سہارا لیکر کافی دولت اِدھر اُدھر سے جمع کرکے عیش کی زندگی گزار سکتی ہو اور تمہیں تمہارے کئے پر کسی ’سرپرست ‘ کے سامنے جوابدہ بھی نہ ہونا پڑےگا۔۔۔!“

میری ان باتوں کی تپش سے اسکی ’سانولی رنگت‘ مزید گہری ہوتی چلی گئی، ڈبڈبائی آنکھوں سے میری طرف دیکھ کر وہ بڑی ’نحیف ‘ سی آواز میں مخاطب ہوئی۔۔۔

’’خدا کا خوف کریں باجی، میں چچی کے گھر میں رہتی ضرور ہوں مگر میری ماں نے مجھے مفت خور نہیں بنایا۔۔۔ جب میں اپنی ماں کی کوکھ میں تھی نا تو میری ماں نے کئی کئی روز فاقہ کشی کے بعد چٹنی روٹی سے گزر بسر کی ہے۔۔۔میری رگوں میں اس خود دار ماں کا خون دوڑتا ہے، جس نے اپنی غربت کی آڑ میں ہاتھ پھیلانے کی بجائے سلائی، کڑھائی اور محنت مزدوری کرکے مجھے پیدا کیا۔۔۔اسی ماں سے وراثت میں ملی ’خودداریاں‘ مجھے لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کی اجازت نہیں دیتیں، میری عزت نفس کو ترس کھاتی نگاہوں سے نفرت ہے۔۔۔جب میری ماں نے ہمیشہ اپنی مفلسی کا ’بھرم ‘ رکھا تو میں اولاد ہونے کا ’بھرم ‘ کیسے توڑ سکتی ہوں؟ نہیں میں آزاد نہیں ہو سکتی‘‘۔۔۔

شدت جذبات میں وہ بولتی چلی گئی۔۔۔مجھے میرا جواب مل چکا تھا۔۔۔۔ میری کہانی بھی رمیساء کی کہانی سے خاصی ملتی جلتی تھی چنانچہ اس کے آخری جملے کی ادائگی میں میں نے اسکا بھر پور ساتھ دیا۔۔۔

"ہاں میں بھی آزاد نہیں ہو سکتی۔‘‘

آج پہلی بار مجھے جہالت اور اور غربت کا ایک ساتھ ہونا اچھا لگا تھا۔

میں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی۔

سورج "مغرب” میں جاکر پوری طرح "ڈوب” چکا تھا۔۔۔۔!“

مزید دکھائیں

شہلا کلیم

مرادآباد، انڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close