افسانہ

بھینٹ

شہلا کلیم

"مریم تمہیں بھگوان کی سوگندھ، تمہیں تمہاری پوِتر (پاک) کوکھ کا واسطہ مجھے وہ شلوک (کلمہ) پڑھا ئوجسے پڑھ کر تمہارے دھرم میں پرویش کرتے ہیں۔۔۔۔۔”

 مدتوں بعد میری یونیورسٹی ساتھی انیتا میرے سامنے بیٹھی تھی وہ بد حواسی کے عالم میں اپنے دو سالہ بیٹے انش کے ساتھ میرے گھر آئی  خدا جانے کہاں سے اس نے میرا ایڈریس تلاش کیا کیونکہ شادی کے بعد کبھی رابطہ نہ ہو سکا تھا۔۔۔۔۔ شام کی چائےکے لئے ہم لان میں تھے اور وہ حیران و پریشان میرے ہاتھ پہ ہاتھ رکھے مسلسل اپنی آستھا اور شردھا کا حوالہ دیکر  خدا کی قسمیں دیئے جار ہی تھی۔۔۔۔۔میں خود حیران تھی کہ انیتا جیسی کٹر ہندو لڑکی کی آستھا اچانک اسلام کے لئےکیسے جاگ اٹھی۔۔۔

میں نے بغور اسکا جائزہ لیا اسکی حالت رنج و غم کی منھ بولتی تصویر تھی۔۔۔۔ یونیورسٹی کے دنوں میں ہمیشہ ہنستی مسکراتی اور اٹھکھیلیاں کرتی انیتا اب اداسیوں کا پیکر بنی میرے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔۔

 شارٹس پر ٹاپ کے ساتھ پیروں میں جوگرز  اور گلے میں اسکارف کو پھندا نما شکل بنا کر اپنی  کھنکتی ہنسی فضائوں میں بکھیرتی ہوئی جب وہ نکلتی تو نا جانے کتنے من چلے قربان ہو جاتے۔۔۔۔دراز قد، جان لیوا نین نقش اور اس پر اسکی زندہ دلی قیامت ڈھاتی تھی۔۔۔۔

مگر میرے سامنے بیٹھی انیتا کوئی اور ہی لگتی تھی مانگ میں سرخ سندور کی کھنچی لمبی سی لکیر ، ماتھے پہ ساڑی سے میچنگ کی چھوٹی سی  بندیا ،گلے میں منگلسوتر ،کانوں میں بڑی بڑی بالیاں، چوڑیوں سے بھرے ہاتھ، پیروں میں پازیب کے ساتھ ساتھ  انگلیوں میں بچھوے اور نیلی گولڈن بارڈر والی بنارسی  ساڑی میں ملبوس وقت سے پہلے بوڑھی لگنے والی یہ انیتا کوئی اور ہی تو تھی۔۔۔۔۔ اسکا گورا رنگ پیلا پڑ چکا تھا بڑی بڑی ہرنی جیسی آنکھیں اندر کو دھنس گئیں تھیں جیسے ساری خوبصورتی نچوڑ لی گئی ہو۔۔۔۔

 غم ایسی ہی بلا ہے جو چمٹ جائے تو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔۔۔۔ابھی چار سال ہی تو ہوئےتھے ہمیں بچھڑے ہوئے اتنی قلیل مدت میں انیتا جیسی چنچل اور شوخ لڑکی برسوں کی بوڑھی نظر آنے لگی تھی۔۔۔۔  مگر اسکو کیا غم۔۔۔۔؟؟ اسکا لباس اسکی خوشحالی، اور اسکا سندور اور منگل سوتر اسکے سُہاگ کی سلامتی کا ثبوت تھا۔۔۔۔۔

مجھ سے رہا نا گیا اور میں نےاس سے وہ کہانی سنانے کی ضد کی جسکو وہ چھپائےپھر رہی تھی۔۔۔۔

اس نے تڑپ کر ڈبڈبائی آنکھوں سے مجھے دیکھا جیسے میں نے اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا ہو۔۔۔۔

پھر کھیلتے ہوئےننھے انش کو دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔۔۔

”یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔دیکھ رہی ہو نا مریم۔۔۔ یہ انش۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔۔ یہ میرا اور  راجیو کا بیٹا ہے مگر اسکا ڈی این اے میرے پہلے پتی اونیش سے میچ کرتا ہے اور یہ معاملہ اتنا گمبھیر ہو چکا ہے کہ اب تو مجھے بھی شک ہونے لگا کہ اسکا اصلی حقدار کون ہے۔۔۔۔۔میرے بیٹے کو بچا لو مریم وہ دونوں خطرناک ہیں ہمیں مار ڈالینگے۔۔۔۔مرنے سے پہلے تمہارا شلوک پڑھ کر میں اپنا دھرم بدلنا چاہتی ہوں بھگوان کے لئےمیری مدد کرو۔۔۔۔“

میں حیران و پریشان اسکی کچھ ہی باتیں سمجھ پائی۔۔۔۔ایک بچے کے دو دعویدار یہ کیونکر ممکن ہے۔۔۔؟؟ معاملہ کی نوعیت سمجھنے کو میں نے اس سے پوری بات ٹھیک ٹھیک بتانے کا اصرار کیا۔۔۔۔

اس نے ایک سرد آہ بھری اور کہنے لگی۔۔۔

”تم ٹھیک کہتی تھی مریم مسلمان عورت کی کوکھ پوتر ہے۔۔۔۔

بڑی دھوم دھام سے میری شادی اونیش سے ہوئے ہم دونوں کا پریوار ہی دھارمک تھا اور اسکی مرضی کے مطابق میں نے خود کو ایک ہندو ناری میں ڈھال لیا مگر نا جانے اسکی کیا اِچھا (خواہش) تھی کہ ہماری کبھی نبھ نا سکی اور الگ ہو گئی۔۔۔۔

اس سے الگ ہوئےایک مہینے بھی نا گزرا تھا کہ میری ملاقات راجیو سے ہوئی اسکی پہلی بیوی سے اسے کوئی اولاد نا تھی اور اس طرح ہم دونوں کی مجبوری ہمیں قریب لے آئی اور ہم نے شادی کر لی۔۔۔۔ شادی کے چند دنوں بعد جب راجیو کو خوش خبری ملی تو راجیو کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اسکی برسوں کی مراد پوری ہو چکی تھی مگر انش کی پیدائش کے بعد اونیش اسکا دعویدار بن کر اٹھ کھڑا ہوا اور ساری خوشیوں کو مٹی میں ملا دیا۔۔۔۔وہ کہتاہے میں پہلے سے ہی گربھوتی تھی یہ اسی کا بچہ ہے کیونکہ ہمیں الگ ہوئے ایک مہینہ بھی نہ ہوا تھا۔۔۔۔ وہ دونوں ہی ہماری جان کے دشمن بن چکے ہیں میں بھاگ آئی۔۔۔۔ اپنے انش کو لیکر میں بھاگ آئیمریم۔۔۔۔ ہمیں بچا لو۔۔۔۔”

انیتا کی آپ بیتی سن کر کالج کا وہ دن میری نگاہوں میں پھر گیا۔۔۔۔اور اس دن ہمارے درمیان ہوئیگفتگو کا ایک ایک لفظ مجھے یاد آنے لگا۔۔۔۔

ان دنوں گھر واپسی، لو جہاد، طلاق ثلاثہ، ہم جنس پرستی جیسی جہالت کے بعد نامحرم کے رشتے کو جائز قرار دیئےجانے کا مسئلہ اپوزیشن کا ووٹ بینک بنا ہوا تھا۔۔۔۔اور کیوں نہ ہوتا الیکشن کے دنوں میں سیکولرازم کی آڑ میں چھوڑی گئی ان چنگاریوں سے ہی تو ملک کو نذرِ آتش کرکے حکومت اپنی روٹیاں سینکتی ہے۔۔۔۔حکومت تو چنگاریاں چھوڑ کر فارغ ہو جاتی ہے البتہ عوام برسوں ان چنگاریوں سے لگی آگ میں جھلستی رہتی ہے۔۔۔۔اور گلی کے نکڑوں سے لیکر آفسوں اور کالج یونیورسٹی تک میں تبادلہ ٕ خیال کئے جاتے ہیں، عوام کے درمیان بحث ومباحثے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ چنانچہ اس بحث و تکرار سے  ہمارا ٹولہ بھی نا بچ سکا انیتا اور سواتی نے اپنے مذہب کا ڈھنڈورا پیٹا، میں نے اور شفق نے اپنے مذہب کی طرفداری میں  خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۔۔۔

”ہمارا دیش سنودھان سے چلے گا کسی کے شریعہ قانون سے نہیں“

سواتی کی اس بات پر شفق بھڑک گئی۔۔۔

”کون کہتا ہے کہ شریعہ قانون نافذ کئے جائیں مگر دوسرے مذاہب کی طرح ہمیں بھی کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور اور اپنے مذہبی قوانین پر آزادانہ طور پر عمل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔۔۔۔ آخر ہم بھی آزاد دیش کے ناگرک  ہیں۔۔۔۔۔ اور طلاق ثلاثہ کا مسئلہ تو سرے سے ہی فضول ہے اول  تو یہ لوگ طلاق کے مسئلہ سے ہی  ناواقف ہیں۔۔ اور مجھے بتائیں کس مذہب میں لڑائی جھگڑوں کے باعث میاں بیوی علیحدگی اختیار نہیں کرتے اگر  ہمارے مذہب میں مناسب اصولوں  کے ذریعہ جائز و ناجائز  میں تمیز کرنا سکھا دیا گیا تو اس میں کیا برائی ہے۔۔۔۔“

اس سے پہلے انکی بحث طول پکڑتی اور معاملہ سنگین شکل اختیار کرتا میں نے گفتگو کا رخ نرم پہلو کی طرف موڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔۔۔

”شریعہ قوانین کی مخالفت کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ ہر پہلو کو مد نظر رکھ کر معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں ہم میڈیکل اسٹوڈینٹ ہیں کیا  تم لوگ سائنس کی بھی منکر  ہو۔۔۔؟؟ سائنس کے مطابق مرد و عورت کے تعلق کے بعد کروڑوں کی تعداد میں مرد کے sperm cells عورت کے اندر پائےجاتے ہیں جن میں سے چند ہی کامیاب ہو کر حمل کی شکل اختیار کر پاتے ہیں۔۔۔۔۔مگر بقیہ sperm فوراً ہی عورت کے جسم سے خارج نہیں ہو جاتے سائنس کے مطابق ان کے خارج ہونے میں  تین ماہواری درکار ہیں۔۔۔۔ اور جب کوئیمسلمان عورت شریعت کے مطابق شوہر سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو اسے شریعت کے مطابق تین ماہ کی عدت بھی گذارنا ہوتی ہے اس کے بعد جب وہ دوسرے مرد سے تعلق استوار کرتی ہے تو نا صرف شرعی اعتبار سے بلکہ سائنسی اور طبی اعتبار سے بھی پہلے مرد کی علامات  زائل ہو چکی ہوتی ہیں اور وہ بالکل پاک کوکھ کے ساتھ دوسرے مرد کے تعلق میں آتی ہے۔۔۔۔ research institute of america کے ایک یہودی سائنس داں رابرٹ کو طلاق اور عدت کے قرآنی حکم نے اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ رابرٹ کی پوری زندگی بچوں کے نشوونما پانے کی مختلف کیفیات پر تحقیق کرتے ہوئےگزری اپنی ریسرچ کے دوران وہ اس بات کی تہہ تک پہنچ چکے تھے کہ رحم کی نشانیاں تین ماہواری تک برقرار رہتی ہیں اس مدت کے بعد اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور اگر عورت تین ماہ سے قبل دوسرے مرد سے تعلق استوار کر لیتی ہے تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ رحم میں پہلے سے بنی نشانیاں ختم نہیں ہوئیتھیں۔۔۔۔ رابرٹ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ وہ شریعہ قوانین اور اسلامی تعلیمات ہیں جنمیں شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد تین ماہ کی عدت کا حکم دیا گیا اور دوسرے شخص سےنکاح کرنے سے قبل تین ماہواریوں کا انتظار کرنے کو کہا گیا۔۔۔۔  رابرٹ نے امریکہ میں افریقی نزاد  مسلم خواتین پر تحقیق کے بعد یہ جان لیا کہ مسلم خواتین میں صرف ایک مرد کے اسپرم پائے جاتے ہیں  جبکہ دوسرے مذاہب کی آزاد پرست خواتین میں ایک سے زائد مردوں کی علامات پائی گئیں۔۔۔۔ جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انکی نسلیں آپس میں خلط ملت ہو جاتی ہیں۔ تحقیق کے دوران جب رابرٹ کو علم ہوا کہ اسکے اپنے تین بیٹوں میں سے صرف ایک بیٹا اپنا حقیقی ہے تو وہ بڑا دلبرداشتہ ہوا اور اپنی تہذیب سےبد ظن ہوکر اسلام قبول کر لیا۔۔۔۔اسلام قبول کرنے کے بعد رابرٹ نے یہ اعلان کر دیا کہ روئے زمین  کی سب سے پاکیزہ عورت شریعت کے مطابق زندگی گزارنے والی مسلمان عورت ہے۔۔۔۔۔

تو اب تم مجھے بتائو کیا وہ شرعی اصول و ضوابط غلط ہو سکتے ہیں جنکے آگے جدید سائنس گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے۔ اور کیا وہ مذہب فریب ہو سکتا ہے جس نے سائنس کے دجود سے صدیوں پہلے  رحمِ مادر کی بھی حقیقتیں واضح کر دی ہوں۔۔۔۔۔ یقیناً یہ اس ہستی کا کمال ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔۔۔۔ “

میری ان باتوں کے دوران سواتی اور انیتا کے چہروں کے اتار چڑھائوقابلِ دید تھے۔ صاف واضح تھا کہ انکے دماغ حق کے طرفدار ہیں مگر انھوں نے اپنے مچلتے دلوں کو مذہب کی چادر میں لپیٹ کر تھپکیاں دے کر

پھر سے شانت کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔

”مریم۔۔۔۔“

انیتا کی آواز پر میرے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔۔۔

”مریم۔۔۔۔۔۔ راجیو کسی صورت بھی انش کو اونیش کے حوالے نہیں کریگا۔  انش کے کارن ہی راجیوکو سنتان کا سُکھ پراپت ہوا۔ اور اونیش اسکا قانونی طور پر دعویدار ہے۔۔۔۔وہ دونوں ہی انش کو حاصل کرنے کے لئےکسی حد تک  بھی جا سکتے ہیں۔ وہ پاگل کتوں کی طرح ہماری تلاش میں ہونگے۔۔۔ تم بھگوان کے لئےمجھے وہ شلوک پڑھائوپھر مجھے موت کا کوئی ڈر نہ ہوگا۔۔۔۔۔اور میرا انش اس کو۔۔۔۔۔۔

ابھی بات پوری بھی نا ہونے پاٸ تھی کہ کھیلتا کودتا انش انیتا کی گود میں ڈھیر ہو گیا۔۔۔۔۔

غالباً وہ نشانہ انیتا پر سادھا گیا تھا جسکے درمیان انش حائل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اسکے بعد مجھے کچھ  یاد نہیں سوائےچیخوں کے۔۔۔۔ہوش آنے پر علم ہوا کہ ایک بار پھر ایک ننھا ”انش“ جائز و ناجائز کے درمیان الجھی اپنی پہچان کی ”بھینٹ“ چڑھا دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

مزید دکھائیں

شہلا کلیم

مرادآباد، انڈیا

متعلقہ

Back to top button
Close