افسانہ

بہت دیر کردی

 سیدہ تبسم منظور

سہیلیوں نے  دلہن بنی شازیہ کو گھیر رکھا تھا مگر وہ سب سکھیوں کے بیچ بھی خود کو اکیلا محسوس کر رہی تھی۔ ماریہ جو اس کی سب سے اچھی دوست تھی اس کی وجہ جانتی تھی۔ بہت سمجھایا بھی ہنسانے کی بھی کوشش کر رہی تھی پر جب دل اداس ہو تو چہرے پر مسکان کیسے آئے۔ اس کے باوجود وہ اپنے چہرے پر بناوٹی مسکراہٹ لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ گھر میں ہر طرف شادی کا ہنگامہ تھا۔ باہر شامیانہ لگا ہوا تھا جو رنگ برنگے بلبوں سے سجا ہوا تھا اور  لاؤڈ سپیکر پر گیت بج رہا تھا۔

خوشی کی وہ رات آگئی دلہنیا کو سجنے دو 

ناچو رے جھوم جھوم! گاؤ رے جھوم جھوم  

کاش کے یہ خوبصورت گیت اس کے وجود کو سرشار کرپاتا۔ ایسا نہیں تھا کہ شازیہ شادی سے خوش نہیں تھی یا کسی اور کو چاہتی تھی۔ اس کے والدین نے اس کے لیے دانیال کا انتخاب کیا تھا۔ وہ بہت ہی باوقار اور بااخلاق لڑکا تھا۔ گھر خاندان بھی عزت دار اور باوقار تھا۔ دانیال امریکہ میں جاب کرتا تھا۔ بس شازیہ کو پردیس میں رہنے والوں سے شادی نہیں کرنی تھی۔ وہ ایسا جیون ساتھی چاہتی تھی جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہے۔ صبح آفس جائے اور شام کو اپنے گھر لوٹے۔ سکھ دکھ میں، خوشی میں، غم میں ساتھ رہے۔ اسے پردیس میں نوکری کرنے والوں سے ڈر لگتا کیوں کہ وہ اپنی دو تین سہیلیوں کا برا حال ہوتے ہوئے دیکھ چکی۔ شادی کر کے گئے تو دو سال بعد لوٹے۔ پندرہ دن مہینے میں خط آتا۔ بس انتظار۔ ۔ ۔ انتظار۔ ۔ ۔ ۔ یہی ڈر اس کے دل ودماغ میں گھر کرچکا تھا۔

یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب زیادہ وسائل موجود نہیں تھے۔ کسی کسی کے گھروں میں لینڈ لائن ہوا کرتی۔ شازیہ کے امی ابو نے اس کی زندگی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ دانیال ان کا دیکھا بھالا لڑکا تھا۔ گھر والوں سے بھی واقف تھے۔ اپنے دل کی بات والدین سے کرنی چاہ رہی تھی لیکن امی ابو کو یقین تھا کہ شازیہ اس فیصلے سے انکار نہیں کرے گی اور وہ اپنے والدین کا یقین توڑنا نہیں چاہتی تھی۔ اس وقت لڑکیوں کا شادی بیاہ کے معاملے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا اس لئے والدین کے فیصلے کو سر آنکھوں پر رکھااور برہا کی آنگن میں کودنے کے لئے تیار ہوگئی۔

 اتنے میں شور مچا’ بارات آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بارات آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلہن کو شامیانے میں لے آؤ۔ ۔ ۔ ۔ ‘شازیہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ سہاگ کا لال جوڑا پہنے، سجی سنوری، آنکھوں میں نمی لئے اس خوبصورت سی دلہن کو باہر لایا گیا۔ نکاح کے بول پڑھے گئے۔ مہمانوں سے پورا شامیانہ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ ہر کوئی رنگ برنگی تتلیوں کی طرح یہاں وہاں گھوم  رہا تھا۔ ایک طرف کھانا چل رہا تھا۔ سہیلیوں نے شازیہ کو بھی کھانا کھلایا۔ اب وہ وقت بھی آگیا جب شازیہ کو وداع ہوکر اپنے ساجن کے گھر جانا تھا۔ باری باری سب آکر آکر گلے ملے۔ شازیہ کی آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے۔ امی ابو کی آنکھوں سے آنسو رک ہی نہیں رہے تھے۔ ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ اسے وداع کیا گیا۔

*****

 شازیہ کی سسرال کے سب لوگ بہت اچھے، نیک اور مخلص تھے۔ بنگلہ نما وسیع گھرنوکر چاکر سب کچھ تھا۔ دانیال بہت اچھے خوش مزاج اور کیرنگ تھے۔ شازیہ اور دانیال کی ازدواجی زندگی کی ابتدا ہو چکی تھی۔ دونوں میں بہت اتفاق تھا۔ ایک دوسرے کا بڑا خیال رکھتےاور ایک دوسرے کو بے پناہ چاہتے تھے۔ شازیہ اپنے ساس سسر دیور نند کے ساتھ بہت ہی عزت و احترام اور محبت سے پیش آتی۔ سب کی ضرورتوں خیال رکھتی اورآہستہ آہستہ اس نے سب کادل جیت لیا۔ گھر کے سبھی افراد بھی اسے چاہنے لگے۔ دیور اور نند کی تو بھابی دوست بن گئی۔ دانیال یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوتا۔ اس کے دل میں شازیہ کیلئے محبت اور بڑھ جاتی۔ دانیال ہی سب سے بڑے تھے۔ ان سے چھوٹے اذہان پوسٹ گریجویشن کر رہے تھے۔ چھوٹی بہن اریبہ فائنل ائیر کی طالبہ تھی۔ امی ٹیچر اور ابو پرنسپل تھے۔ ایک سال ہوچکا دونوں ریٹائر ہو چکے تھے۔ دونوں کی پینشن آتی۔ دانیال نے پورے گھر کی ذمےداری اٹھا لی تھی۔ پڑھائی ختم ہوتے ہی جاب بھی مل گئی اور وہیں آفس سے امریکہ جانے کا موقع ملا۔ تین سال بعد واپس لوٹا تھا۔

 دانیال اور شازیہ کی ازدواجی زندگی ہنسی خوشی گذر رہی تھی۔ دن ہفتے مہینے کیسے گذرے پتہ ہی نہیں چلا۔ چار مہینے دانیال کا ساتھ اور اس کا بے پناہ پیار پاکر وہ بھول ہی گئی تھی کہ دانیال کو واپس امریکہ لوٹنا ہے۔

دو دن بعد فلائٹ تھی۔ ”دانیال آپ نہ جائیں۔ ہم اکیلے نہیں رہ سکیں گے۔ اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی یہ کائنات بہت بڑی اور خوبصورت ہے پر ہماری کائنات صرف آپ ہیں۔ ہماری خوبصورتی، ہمارا وجود صرف آپ ہیں۔ ہماری زندگی آپ پر شروع ہو کر آپ پر ہی ختم ہے۔ آپ کے بنا جینے کا تصور ہی ابھی سے ہمیں اندر سے توڑ رہا ہے۔ ‘‘

’’شازیہ! کیا مجھے تکلیف نہیں ہے۔ میں بھی نہیں رہ سکوں گا تمہارے بغیر پر مجبوری ہے۔ مجھے جانا ہی ہوگا۔ سنبھالو اپنے آپ کو۔ میرے پیچھے گھر کو تمہیں ہی دیکھنا ہے۔ ‘‘

’’دانیال! ہم اپنے آپ کو نہیں سنبھال سکیں گے تو گھر کو کیا سنبھالیں گے۔ یہاں بھی آپ کو اچھی جاب مل جائے گی۔ ہمیں نہیں چاہئے دھن دولت۔ تھوڑے میں بھی گذارا کر لیں گے۔ ‘‘

’’بس شازیہ! ایک بار جاکر آجاؤں تو واپس نہیں جاوں گا۔ اذہان اور اریبہ کو سیٹ کر دوں پھر ان شااللہ یہیں پر جاب کرلوں گا۔ ‘‘

 اسی الجھن اور کشمکش میں دو دن بیت گئے اور آج دانیال کے جانے کا وقت آگیا۔ شام چھ بجے کی فلائٹ تھی۔ شازیہ کا سویرے سے ہی رو رو کر برا حال ہورہا تھا۔ وہ اسی دن کے لئے ہی تو ڈرتی تھی۔ دانیال چار مہینے ساتھ رہنے کے بعد تین سال کے لئے اکیلا برہا کی آگ میں جلنے کے لئے چھوڑ کر جارہے تھے۔

’’دانیال۔ ۔ ۔ ۔ دانیال مت جایئے نا۔ ہم آپ کے بغیر کیسے رہ پائیں گے؟مر جائیں گے ہم۔ اس شور مچاتی ہوئی دنیا میں آپ ہی ہمارا سکون ہو۔ ‘‘

’’شازیہ ایسا مت کہو۔ مجھے بھی تکلیف ہو رہی ہے۔ کیا کروں کچھ ذمے داری ہے۔ کچھ مجبوری ہے۔ جانا تو ہوگا ہی نا!!! سنبھال لو اپنے آپکو اور مجھے خوشی سے جانے دو۔ مسکرا کر رخصت کروورنہ میں کیسے رہ پاؤں گا۔ یہاں تو سب ساتھ ہےوہاں میں اکیلا ہوں۔ مسکرادو شازیہ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو دیر ہو رہی ہے۔ ‘‘

شازیہ اپنے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ لے آئی۔ غم دل کے ساتھ دانیال کو وداع کیا۔

امی ابو بہن بھائی سے مل کر اپنے سینے میں ہزاروں درد لئےآنکھوں میں آنسو لئےشازیہ کو سسکتا بلکتا چھوڑ کر دانیال روانہ ہوگیا۔ پیچھے رہ گئی شازیہ۔ ۔ ۔ دونوں کے حصے میں صرف درد، کرب اور جدائی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جدائی۔ ۔ ۔ ۔ جدائی۔ ۔ ۔ ۔

دانیال کے جانے کے بعد شازیہ کو پورا گھر ویران لگ رہا تھا۔ ہرطرف دانیال کی یادیں تھیں۔ ان کی موجودگی کا احساس ہوتا پر دانیال کہیں نہیں تھے۔ وقت تو پرندہ ہے بس اڑنا جانتا ہے نہ کبھی رکا ہے نہ رکے گا۔ دن ہفتے مہینے گزرنے لگے۔ شازیہ کا دل چاہتا کہیں دور صحراؤں میں نکل جائے۔ کہیں پر بھی جی نہیں لگتا۔ ہر جگہ ہر پل دانیال کی یاد ستاتی۔ جدھر دیکھتی دانیال کی تصویر نظر آتی اور۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر اس کی آنکھیں چھلک جاتیں۔

’’کیوں گئےدانیال؟آپ کی جدائی ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ آپ سے بچھڑ کر ہمارا ہر لمحہ بے کیف گذر رہا ہے۔ آپ کے بنا ہر راہ، ہر ڈگر سونی سونی ہے۔ ہم ہر روز لمحہ لمحہ ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں۔ ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں۔ خود کو سنبھالتے سمیٹتے تھک چکے ہیں۔ نہیں رہ سکتے ہم دانیال۔ لوٹ آؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوٹ آؤ دانیال۔ ۔ ۔ ‘‘

  شازیہ کی حالت وقت کے ساتھ  دن بہ دن بگڑتی ہی جارہی تھی۔ سارے گھر کے لوگ بھی پریشان تھے۔ امی ابو نے بھی کئی بار آکر سمجھایا۔ کئی دنوں تک اپنے پاس رکھا پر کچھ حل نہ نکال سکے۔ وہ میکے میں رہنا بھی نہیں چاہتی تھی کیونکہ سسرال میں دانیال  کے ساتھ بیتائے ہوئے ہر پل کا احساس دلاتا۔ بیتے ہوئے لمحوں کی کسک ساتھ تھی۔ پندرہ دن میں دانیال کا فون آتا۔ بہت سمجھاتا شازیہ کو۔ پندرہ دن مہینے میں خط آتا۔ شازیہ بھی خط لکھتی۔ اس میں بھی وہی درد جدائی اور کرب ہی ہوتا۔ شازیہ کی حالت دن بہ دن بس خراب ہوتی جارہی تھی۔ ساس سسر سے بھی اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔ ساس بہت سمجھاتی۔ اس کے سر پر پیار سے ہاتھ  پھیرتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’شازیہ !! میری بچی سنبھالو اپنے آپ کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مت تکلیف دو خود کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں دیکھی جاتی تمہاری یہ حالت۔ ۔ ۔ اپنے آپ کو کہیں مصروف رکھو۔ ‘‘

شازیہ خاموش خالی آنکھوں سے اپنی ساس کو تکتی رہتی اور کہتی،’’ تشنگی سے رکتی سانسوں کی روانی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ہمیں دانیال کی ضرورت ہےمما۔ ورنہ ہماری سانسیں بھی رک جائیں گی۔ ہم ہمیشہ ہی ایسی جدائی سے ڈر رہے تھے۔

’’ ایسا نہ کہو میری بچی۔ اللہ تمہیں لمبی عمر عطا کرے۔ ‘‘

ساس سے شازیہ کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی۔ مہینے پندرہ دن میں جب دانیال کا فون آتا تو وہ اپنے بیٹے سے کہتی،’’ لوٹ آؤ بیٹے! شازیہ کی صحت دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے۔ اب تو وہ تمہاری جدائی میں پاگلوں کی طرح بڑبڑانے لگی ہے۔ نہ جانے کیسی بہکی بہکی باتیں کرتی ہے۔ ‘‘

’’کیسے آجاؤں مما! جب تک پروجیکٹ پورا نہیں ہوتا تب تک پاسپورٹ آفس میں جمع رہتاہے۔ ذمے داری ہے مما۔ ۔ ۔ آپ سمجھائیں شازیہ کو۔ مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ کام میں بھی دل نہیں لگتا۔ ہر وقت شازیہ کا خیال رہتا ہے۔ مما ان شااللہ اب آؤنگا تو واپس نہیں جاؤنگا۔ انڈیا میں ہی جاب کر لونگا۔ شازیہ کو سنبھال لیں مما۔ ‘‘

’’کیسے سنبھالوں میرے بیٹےاور کیسے سمجھاؤں۔ وہ اپنی امی کے پاس بھی نہیں جارہی ہے۔ فون بھی نہیں لینے آتی۔ خط بھی لکھنے بند کئے۔ گم سم سی اکیلی کمرے میں رہتی ہے۔ بیٹے کوشش کرو آنے کی۔ ‘‘

وقت گزرتا رہا۔ شازیہ نے آہستہ آہستہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیا اور بستر پر لگ گئی۔ دانیال کو گئےتین سال ہونے کو تھے۔ دانیال کی جدائی شازیہ کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرتی رہی۔ اندر ہی اندر گھٹتی جا رہی تھی۔ اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ اس کے امی ابو، ساس سسر اس کی حالت سے پریشان تھے۔ کئی ڈاکٹروں کو دکھایامگر بیماری ہو تو اس کا علاج ہوسکتا ہے نا!!!! دل کے زخموں کا کیسے علاج کرے کوئی؟؟؟؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالکل مرجھا گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جدائی گالوں کی لالی بھی کھا گئی۔ شکل صورت بھی مانند پڑ گئی تھی۔ بس جیسے ایک زندہ لاش بنکر رہ گئی تھی۔ گھر کے سبھی لوگ شازیہ کے امی ابو دانیال کو بلانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے.

آج کئی دنوں کے بعد دانیال کا فون آیا۔ اس نے بتایا کے مما میرا پروجیکٹ پورا ہوچکا ہے۔ ان شااللہ اگلے اتوار کو میں پہنچ رہا ہوں۔ مما آپ شازیہ سے کہہ دیں۔ بس تھوڑا انتظار اور۔ مما میں لوٹ آؤنگاآپ سب کے پاس۔ اپنی شازیہ کے پاس۔ ہمیشہ کے لئے۔ ۔ ۔ ۔ کبھی نہ جانے کے لئے۔

 شازیہ کو جب بتایا گیا کہ دانیال  آرہا ہے تو وہ کھوئی کھوئی نظروں سے بس دیکھتی رہی۔ لب سل چکے تھے۔ آنکھوں کا پانی بھی سوکھ چکا تھا۔ یہ وہ شازیہ تھی ہی نہیں جو تین سال پہلے دلہن بن کر اس گھر میں آئی تھی۔ اب تو وہ رہ رہ کر بے ہوش ہوجاتی۔ کئی اسپتال گئے مگر شازیہ کے دل کے درد کا علاج کسی بھی ڈاکٹر کے پاس نہیں تھا۔ طبیعت بگڑتی جارہی تھی۔ اب تو سانس لینا بھی دشوار ہورہا تھا۔

  آج اتوار تھا۔ شام کودانیال پہنچ رہا تھا۔ شازیہ کی حالت کچھ زیادہ بگڑ رہی تھی۔ اذہان اپنے بھائی کو ائیرپورٹ لینے گیا تھا۔ فلائٹ وقت پر تھی۔ جلدی ہی دانیال باہر بھی آگیا۔ دونوں بھائی گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر پہنچے تو سارے لوگ شازیہ کے پاس ہی تھے۔ شازیہ  کی طبیعت زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ دانیال امی ابو سے مل کر شازیہ کے قریب پہنچا۔ شازیہ کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ دل جیسے حلق تک آگیا۔

’’شازیہ۔ ۔ ۔ ۔ شازیہ دیکھو میں لوٹ آیا ہوں کبھی نہ جانے کے لئے۔ اب تمہیں چھوڑ کر  نہیں جاؤنگا۔ ہمیشہ تمہارے پاس رہونگا۔ آنکھیں کھولو شازیہ دیکھو میں آگیا ہوں۔ ‘‘

شازیہ کچھ سننے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی۔ دانیال نے شازیہ کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ اس کی حالت دیکھ کر دانیال کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر شازیہ کے رخسار پر ٹپ ٹپ گرنے لگےتو شازیہ نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ دانیال کا چہرہ شازیہ پر جھکا ہوا تھا۔ شازیہ نے دانیال کو اس طرح دیکھا جیسے اس کی پیاسی آنکھوں کو ایک نظر دانیال کو ہی دیکھنا تھا۔

’’ شازیہ دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو میں آگیا۔ ‘‘

شازیہ کے لبوں نے ہلکی سی جنبش کی ’’ دا۔ ۔ ۔ ۔ نیا۔ ۔ ۔ ل۔ ۔ ۔ ۔ ہ۔ ۔ م۔ ۔ ۔ ۔ ن۔ ۔ ۔ ے۔ ۔ ۔ ب۔ ۔ ۔ ہ۔ ۔ ۔ ت۔ ۔ ۔ ۔ ا۔ ۔ ن۔ ۔ ۔ ت۔ ۔ ظ۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ ۔ ک۔ ۔ ۔ ی۔ ۔ ۔ ۔ آ۔ ۔ ۔ ۔ پ۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ ۔ آ۔ ۔ ۔ پ۔ ۔ ۔ ن۔ ۔ ۔ ے۔ ۔ ۔ ۔ ب۔ ۔ ۔ ہ۔ ۔ ۔ ت۔ ۔ ۔ د۔ ۔ ۔ ی۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ ۔ ک۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ د۔ ۔ ۔ ی۔ ۔ ۔ ۔ م۔ ۔ ۔ ع۔ ۔ ۔ ا۔ ۔ ۔ ف۔ ۔ ۔ ک۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ ۔ د۔ ۔ ۔ ی۔ ۔ ں۔

 اور شازیہ کی آنکھیں بند ہوگئیں ہمیشہ کے لئے۔ دانیال زاروقطار رونے لگا۔

’’ آخر میرا قصور کیا تھا؟؟؟ کس بات کی سزا ملی؟؟؟؟‘‘

کبھی کبھی انسان نہ ٹوٹتا ہے نہ بکھرتا ہےبس ہارجاتاہے۔ کبھی خودسےکبھی قسمت سے اور کبھی اپنوں سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آج اتنی شدت سے چاہنے والے ہم سفر سے ہار گیا۔ اپنی شازیہ کو ہار گیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close