افسانہ

تنخواہ

اس نے خدا کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کیا اور ان لوگوں کے لئے خوشحالی کی دعا کی جو اس مصیبت میں مبتلا تھے اور آفیس کے لئے روانہ ہو گیا۔

محمد محسن

وہ بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا تھا، اس نے سر پیچھے کی جانب گھما کر اپنے پاس ہی دیوار میں لگی ڈیجیٹل گھڑی کی طرف دیکھا، پانچ بجنے ہی والے تھے، آفس بند ہونے کا وہ بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا تھا، اس نے سر پیچھے کی جانب گھما کر اپنے پاس ہی دیوار میں لگی ڈیجیٹل گھڑی کی طرف دیکھا، پانچ بجنے ہی والے تھے، آفس بند ہونے کا وقت قریب تھا، دن بھر مختلف کاموں میں مغز ماری کرکے شا م تک وہ کافی تھک جاتا، سوچا جلدی باہر نکلے اور کھلی ہوا میں تھوڑی دیر آرام کی سانس لے کرراحت حاصل کرے، اس نے دھیرے سے کمپیوٹر کو بند کیا، ٹیبل پر بکھرے فائلوں کو ایک جگہ ترتیب سے رکھتا ہوا حاضری مشین کی طرف بڑھا اور انگلی کانشان دیتے ہوئے باہر کے دروازے کی طرف چلا ویسے ہی اس کے ایک رفیق کار نے آواز لگائی، ماجد بھائی! ذرا رکئے اور کہنا شروع کر دیا، اس بار تنخواہ کب ملے گی، میرے گھر سے ابھی فون آیا تھا، پانچ ہزار روپئے کی سخت ضرورت ہے، کوئی بڑی ایمرجنسی بتا رہے تھے، میں نے جواب میں کہا، یہاں سے صرف دعاء کر سکتا ہوں میں، اور کچھ بھی نہیں، اس کی یہ باتیں سنتے ہی اس کے ذہن میں سوالات اور خیالات کے ڈھیر لگ گئے، بجائے، اس کو کچھ جواب دینے کے، خود تصورات کی دنیا میں جا کر اپنے اور ا س کے سوالوں کا حل تلاش کرنے لگا اور ماضی میں ان گزرے پلوں کو یاد کرنے لگا جو اس سے مماثلت رکھتے تھے۔ جس عمارت میں اس کا آفس تھا، وہ ایک پر شکوہ اور شاندار عمارت تھی، اس کا نام مرکز خواہشات یعنی‘ چوائس سنٹر’ تھا جہاں دن بھر پہلے درجے کے لوگوں کا ہجوم رہتا وہیں فیشن اور جدت کا بازار گرم رہتا، ایک سے ایک نمائش لگتی اور بڑی بڑی کاروں کا ریل پیل رہتا، بیش قیمتی سامان دلہن اور مہندیوں کی خاص دکانیں تھیں، اس کا آفس تیسری منزل پر تھا وہ نیچے اترا اور ایک طرف سیڑھیوں پر جہاں بیٹھنے کی جگہ تھی جا کر بیٹھ گیا اور سوچنے کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا، اس کے ذہن میں جہاں بہت سارے سوالات تھے ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ جو کمپنی کے مالک ہوتے ہیں کیا وہ اپنے یہاں کام کر رہے ان مزدوروں کے بارے میں نہیں سوچتے جن کے پسینے کا پیسہ ان تک پہونچنے سے پہلے یہ اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرا لیتے اور ان کو ٹال مٹول کرتے ہیں، ان کی ضروریات زندگی کا تھوڑا بھی پاس و لحاظ نہیں کرتے، بے چارے دن بھر گرمی ہو یا ٹھنڈی، دھوپ ہو یا برسات اپنے کام پر لگے رہتے ہیں اور مہینہ بھر خون کو پانی بنا کر بہاتے ہیں کہ کچھ پیسے ملیں گے، گھر میں خوشحالی آئے گی، بیوی بچے آرام سے رہ سکیں گے اور ماں باپ کسی کا محتاج نہیں ہوں گے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں کام میں فائدہ نہ ہوتا ہو اور کمپنی کے ذمہ داران بھی پریشانی میں مبتلا ہوں لیکن اصل سوال یہ ہےکہ کوئی بھی بزنس شروع کرنے سے پہلے کسی بھی کمپنی کا مالک اچھی طرح بزنس کی چیزوں کو سمجھتا ہے اور پھر اس میں ہاتھ لگاتا ہے، اس کے پاس اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ کچھ دن بنا فائدہ کے بھی کمپنی چلا سکے اور اس کے جڑ کو مضبوط کر سکے اور خاص طور سے کمپنی چلانا تو کسی ایرےغیرے کا کام نہیں۔ کسی کی زندگی کو تاریک بنانے اور کسی کے مستقبل کو اندھیرے میں ڈھکیلنے سے پہلے انہیں یہ ہزار مرتبہ سوچنا چاہئے اور پھر قدم بڑھانا چاہئے اور نقصان کی صورت میں کم سےکم مزدوروں کو اتنا حق دینے کی قوت رکھنی چاہئے کہ وہ دوسری جگہ آسانی سے منتقل ہو سکیں، لعن طعن اور لعنت ملامت کے راستے سے نہ گزرنا پڑے۔

ابھی ان ہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کے مکان مالک کا فون آگیا، جہاں وہ کرائے پر رہتا تھا، وہ بول رہا تھا ماجد بھائی، روم کا کرایہ کب تک دیتے؟ اس نے کہا، عمران بھائی میں جلد ہی ادا کرتا ہوں، آپ فکر نہ کریں اگر زیادہ ایمرجنسی ہے تو کہیں کسی سے ادھار کا انتظام کرتا ہوں، کمپنی کے حالات تھوڑے ٹھیک نہیں ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، پچھلے بار میں نے آپ کے مانگنے سے پہلے ہی بولا کر دیا، اسی طرح اس بار بھی جیسے ہی میرے پاس ہوتا ہے، میں آپ کو اطلاع کرتا ہوں، اس نے بھی جی ہاں، کوئی بات نہیں، کوئی بات نہیں، آپ فکر نہ کریں، میں نے صرف ذمہ داری ادا کرنے کے لئے پوچھ لیا، ماجد نے جی مہربانی آپ کی، بہت بہت شکریہ اور تاخیر کے لئے معافی چاہتا ہوں بول کر رابطہ منقطع کر دیا، سچ پوچھیں تو ماجد کی بھی اقتصادی حالت کچھ کم خراب نہ تھی، بڑے پریوار کا اکیلا بڑا لڑکا، ذمہ داریوں کا انبار اور مسائل میں ہمیشہ الجھا رہتا، تنخواہ کے لئے اندر ہی اندر پریشان یہ بھی تھا لیکن اپنا دکھڑا کس کو سناتا، کبھی کبھار سوچتا اپنے کسی دوست کو حالات بتائے لیکن اپنی ہی رسوائی محسوس کرکے خاموش رہ جاتا اور غم کا گھونٹ پی کر صبر کر لیتا۔ یہ اس کی تیسری کمپنی تھی جہاں اسے تنخواہ کی پریشانی لاحق تھی، دو کمپنیوں میں تو چند دن کام کرکے جب اسے پتہ چلا کہ کمپنی کا بزنس بڑا نہیں ہے اور یہاں تین چار مہینے سے لوگوں کی تنخواہ باقی ہے چھوڑ دیا، لیکن تیسری کمپنی میں بہت ہوشیاری سے انٹرویو دینے، ساری تفصیلی معلومات حاصل کرنے، ساری باتیں، قو ل وقرار ور تحریری معاہدہ کرنے اور کمپنی کی تفصیل جاننے کے بعد کام شروع کیا، لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ کمپنی کی جو ویب سائٹ یہ دیکھ رہا تھا وہ کچھ اور اشارہ کر رہی تھی جس کو یہ سمجھ نہ پایا۔ دن ہی ہیں، کسی طرح گزرنے ہی تھے۔

دن گزرنے لگے، تجربات ہونے لگے، اور ہر مہینہ تنخواہ کی مار پڑنے لگی، تنخواہ کی لاٹھی سے کمر ٹوٹنے لگا، کام کا بوجھ اتنا کہ گدھے بھی نہ اٹھا پائیں اور تنخواہ اتنی کہ ایک بوری سکر بھی نہ ہو پائے اور اوپر سے ہر مہینے کا تنخواہ کے لئے رونا دھونا….. اس نے صبر سے کام لیا، سوچا اللہ صبر کی تلقین کرتا ہے، ہر جگہ ایک ہی حالت سے دوچار ہونے میں ضرور کوئی مصلحت ہے اور رب کی مصلحت میں ہر طرح سے خیر اور بھلائی ہے….. اس کے آگے کچھ اور سوچتا کہ مؤذن نے فجر کی اذان پکار دی اور اس کے رفیق کار انجینئر شہباز نے کمبل اس کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا ماجد بھائی ! فجر کی اذان ہورہی ہے چلیں نماز کے لئے، فجر کی نماز اور تلاوت کے بعد وہ اپنے سپنے کے بارے میں سوچ رہا تھا، کیا حالت ہوتی ہوگی ان لوگوں کا جو اس حقیقت سے گزرتے ہوں گے! اور اس کی نظر کمرے میں ایک طرف کلینڈر پر پڑی آج 31 تاریخ تھی۔ موبائل دیکھا تو تنخواہ کا ایس۔ ایم۔ ایس۔آگیا تھا…..اس نے خدا کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کیا اور ان لوگوں کے لئے خوشحالی کی دعا کی جو اس مصیبت میں مبتلا تھے اور آفیس کے لئے روانہ ہو گیا۔

مزید دکھائیں

محمد حسن

گدیانی۔ پوسٹ۔ گوکھولہ۔ نرکٹیا گنج، مغربی چمپارن۔ بہار۔ 845451

2 تبصرے

متعلقہ

Close