افسانہ

دھوپ چھاؤں میں گزرے لمحے

یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب راجوؔ کی عمر صرف ۲۰ سال تھی جنگ تیسرے سال میں داخل ہو چکی تھی۔ کہیں دور دراز کشمیر کے علاقے میں، ان کے باپ اور بھائی جنگ میں شہید ہو چکے تھے جب کہ تمام نوجوانوں کو گاؤں کے کام کی ساری سختیاں جھیلنی پڑ رہی تھیں کھیت میں کٹائی کا زمانہ دشوار ترین ثابت ہوا تھا ہفتہ گزر جاتے انہیں گھر جانے کا موقع نصیب نہیں ہوتا۔ دن ہو یا رات سارا وقت کھیت کھلیانوں میں گزارنا پڑتا اور گاؤں کی تمام عورتیں ان لوگوں کے لئے کھانا پہنچایا کرتی تھیں۔
رینوؔ کی شادی کے ابھی صرف چار ماہ ہی گذرے تھے کہ باڈرپرجنگ چھڑ گئی اور اسکے شوہر کو فوج میں بلاوا آگیا رینو بے حد خوبصورت تھی اسکے جسم میں بلا کی کشش تھی اسکے لمبے لمبے بال اسکی کشش میں اور بھی دو بالا کر دیتے وہ اپنے سر کے ڈوپٹہ کو ذرا ترچھا کر کے باندھتی اوریہ اسکے گورے چہرہ پر بہت ہی نمایاں اور بھلا معلوم ہوتا وہ مسکراتی تو اسکی بڑی بڑی آنکھیں شرارت سے چمک اٹھتیں اور وہ اچانک چھیڑ چھاڑ والا کوئی مختصر سا دیہی گیت گانے لگتی تو اسکی آنکھوں میں بھی چھیڑ چھاڑ کی کیفیت پیدا ہوجاتی۔
میں کہہ نہیں سکتا کہ اسکا سبب کیا تھا لیکن رینو میں کچھ عجیب مرادانہ پن تھا شایداس کا سبب یہ رہا ہو کہ وہ بچپن سے ہی اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے لگی تھی کیونکہ وہ اکلوتی ہونے کی وجہ کر والد کے لئے بیٹی بھی تھی اور بیٹا بھی۔ بہر حال رینو میں مردوں جیسی تیزی و تندی تھی یہاں تک کہ کبھی کبھی اس میں اکھڑپن بھی دیکھنے میں آتا تھا اور وہ کام کرنے کے معاملے میں مردوں جیسے استقلال کی مالک تھی۔ اسے دوسری عورتوں سے بھی خوب بنتی تھی لیکن اگر وہ خواہ مخواہ رینو پر کیچڑ اچھالنے لگتیں تو وہ انہیں کبھی بھی نہیں بخشتی اور ایسے بھی مواقع آچکے تھے کہ جب اس نے غصے میں کسی عورت کے سر کے بال نوچ لئیے تھے۔
پڑوس والے اسکی ساس سے اکثر شکایت کیا کرتے ’’یہ آخر آپ کی بہو ہے کیسی؟ اسے آپکے گھر آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں اور زبان ہاتھ بھر کی ہو گئی ہے نہ حیا نہ شرم نہ دوسروں کی عزت، کچھ بھی تو نہیں اس میں‘‘۔
’’مجھے تو خوشی ہے کہ وہ ایسی ہے‘‘ راجو کی ماں جواب دیتی ’’میری بہو آدمی کے منہ پر ہی کھری کھوٹی سنا دیتی ہے دورخی باتیں کرنے سے تو یہ کہیں اچھا ہے اور آپ کی بیٹیاں جو بہت شیر یں زباں بنتی ہیں ان کی زبان محض گندہ انڈا ہے۔ باہر سے خوبصورت اور چکنا اور ذرا اندر دیکھو تو ناک بند کرنی پڑے‘‘
راجو کی ماں رینو کے ساتھ ایسی سختی نہیں برتتی تھی جیسے ساس کو برتنی چاہئے ان کا رویہ اسکے ساتھ بہت اچھا تھا وہ اپنے شوہر اور دو بیٹوں کو جنگ میں جھونک چکی تھی رینو انکی واحد بہو تھی اور انکے سکون کا واحد سہارا اس لئے وہ رینو کا بے حد خیال رکھتی تھی اسکی ساس کا رویہ البتہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ ایسی بھی نہیں تھی کہ آسانی سے کسی سے محبت کرنے لگے ۔وہ حکم چلانے کی عادی اور سخت مزاج تھی وہ خود اپنے بندھے ٹکے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتی تھی۔ اسے ان اصولوں سے انحراف کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا انہوں نے راجو کی تربیت یوں کی تھی کہ وہ محنتی بنے اور بزرگوں کااحترام کرے۔ وہ خاندان کے ایک ایک فرد سے مکمل فرمابرداری کی متقاضی رہتی تھی۔
رینو تو روز اول سے ہی عام بہوؤں سے مختلف ثابت ہوئی تھی اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے بزرگوں کی عزت اور فرمابرداری کرتی تھی لیکن انکے سامنے زرا بھی ڈرتی اور جھجھکتی نہیں تھی۔ وہ پیٹھ پیچھے دوسروں کی طرح خباثت سے کھسر پھسر بھی نہیں کرتی تھی جو کچھ بھی اسکے دل میں آتا کہہ دیتی تھی۔ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے وہ کبھی نہیں ڈرتی۔
میرا خیال ہے کہ اسکی ساس رینو کی اس بے باکی اور منصف مزاجی کے بنا پر اسکو اپنے برابر کا تصور کرتی تھی اوردل ہی دل میںیہ خواب دیکھا کرتی تھی کہ کسی نہ کسی دن رینو بھی انہیں کی طرح طاقتور مالکن اور گھر گرہستن ثابت ہوگی
راجو کی ماں اسے بار بار کہا کرتی تھی کہ ’’بھگوان کی پرارتھنا کر کہ تمہاری بھابھی ایسی میل محبت والی اور خوش مزاج ملی ہے یہ تیری خوش قسمتی ہے۔ عورت کی سیرت بچوں کو جنم دینے اور شوہر کے ساتھ خوش حال خاندان میں زندگی بسر کرنے میں مضمر ہوتی ہے لیکن بے چاری ان تمام چیزوں سے بہ نیاز ہمارے گھر میں ہمیشہ خوش رہتی ہے‘‘۔
تاہم رینو میں ایک ایسی بات بھی تھی جس سے راجو کی ماں کو ہمیشہ ڈر لگا رہتا تھا دراصل رینو بڑی جو شیلی اور چنچل تھی ایسا لگتا تھا جیسے ابھی وہ بچی ہی ہو۔ کبھی کبھی وہ بالکل ہی اچانک بلا سبب ہی خوشی سے قہقہے لگانے لگتی اور جب کام سے واپس آتی تو سنجیدگی سے قدم اٹھانے کے بجائے دوڑتی ہوئی گھر میں داخل ہوتی اور پھر ساس اور راجو کو گلے سے لپٹا کر بوسے لینے لگتی تھی۔
رینو کو گانے سے بھی بڑا گہرا لگاؤ تھا ۔وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ گنگناتی رہتی تھی اور بڑوں کے سامنے بھی نہیں شرماتی تھی اور خاص کر جب وہ راجو کو دیکھتی تو اور زوروں سے گنگنانے لگتی ظاہر ہے کہ اس کے یہ طور طریقے بہوؤں کے طرز عمل سے میل کھاتے تھے یہی نہیں راجو کے ساتھ مل کر خوب دھماچوکری مچاتی احاطے میں دوڑ دوڑ کر راجو کا پیچھا کرتی اور ہنستے ہنستے بے حال ہو جاتی۔
کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ جب راجو کھیتوں میں کام کرتا ہوتا تو وہ چپکے سے اسکے پاس آکر بیٹھ جاتی اور اسکے پیشانی کو چومتے ہوئے کہنے لگتی ’’راجو تمہارا نام کتنا پیارا ہے ٹھیک تمہارے جیسا تم کتنے پیارے ہو‘‘ اور یہ کہتے اسے اپنے باہوں میں لے لیتی اور اسکی پیشانی کو خوب بوسہ لیتی ’’راجو تو کتنا پیارا ہے تیری آنکھیں کتنی پیاری ہیں ٹھیک اپنے بھیا رامو کی طرح تم کتنے اچھے لگتے ہو‘‘ اور یہ کہتے کہتے اسکی آنکھوں میں آنسو ابل پڑتے یہ آنسو راجو کے بدن پر ٹپکنے لگتے اور وہ اسے سینے سے لگائے رہتا۔
گاؤں کے اکثر نوجوان رینو کے پیچھے دیوانے تھے رینو کو مذاق بہت پسند تھا لیکن کوئی اپنی حد سے آگے بڑھنے لگتا تو وہ فوراً ہی اسے دھتکار دیتی اور کہتی ’’ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ راجو کی بھابھی کو جب جس کا جی چاہے ہتھیا سکتا ہے یہ نہیں ہو سکتا آؤ میرے راجو ہم ان لوگوں کو خاک بھی اہمیت نہیں دیتے‘‘ اور وہ ان نوجوانوں کے سامنے اپنی شان دیکھاتے ہوئے غرور سے سر کو پیچھے جھٹکتی سرکشی کے ساتھ شانے اچکاتی اور اس کا ہاتھ پکڑے راجو کے ساتھ روانہ ہو جاتی۔
ہاں راجو رینو سے رشک کرتا تھااسے دل ہی دل میں پوجتا تھا اسے فخر تھا کہ رینو اسکی بھابھی ہے۔ اسے اسکے حسن و جمال اسکی آزادروی اسکی سرکش فطرت پر فخر تھا دونوں ایک دوسرے کے بہترین دوست تھے اور ایک دوسرے سے کچھ بھی نہیں چھپاتے تھے۔
ایک بار جب رینو کھیت سے تنہا لوٹ رہی تھا تو راستے میں اشوک اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگا وہ بھی اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ کوئی عورت اس سے انکار نہیں کر سکتی رینو نے اس کا ہاتھ غصے سے جھٹک دیا اور بولی ’’ہٹ جا میرے سامنے سے‘‘۔ اور اس کی طرف سے رخ موڑ لیا’’ویسے تمہارے جیسے نوجوان سانڈ سے امید ہی کیا کی جاسکتی ہے‘‘
’’آخر یہ ناٹک رچانے سے کیا فائدہ؟ کیا تمہیں حاصل کرنا مشکل ہے؟ میں تو شرط لگا سکتا ہوں کہ تم مجھ کو دیکھ کر پاگل ہو چکی ہو تم تو خود ہی اسکے لئے تڑپتی رہتی ہو اگر ایسا نہیں تو تم راجو سے سمیندھ کرتی ہی نہیں۔۔۔۔۔ تو پھر یوں نخرے کرنے سے کیا فائدہ؟‘‘
’’ہوسکتا ہے کہ میں تڑپتی رہتی ہوں لیکن یہ تو تمہارا مقدر ہی ہے اور اگر تم مذاق اڑانے سے بہتر کوئی اور بات سوچ نہیں سکتے تو بڑے احمق ہو میرا سپاہی پتی شہید ہو گیا لیکن راجو میرا محافظ ہے اگر سو برس بھی اسی حال میں زندہ رہوں تو بھی تم جیسوں کے منہ پر تھوکنا بھی پسند نہیں کروں گی مجھے تو تمہیں دیکھ کر متلی آتی ہے‘‘ اس نے اسے نہایت ہی حقارت آمیز نظروں سے دیکھا غصے سے زمین پر تھوکا اور پھر اپنا سامان اٹھا کر وہاں سے چل دی۔ اس روز رینو کے چہرے پر بادلوں جیسی سیاہی منڈلا رہی تھی اس نے ساس سے بات کی نہ ہی کسی اور سے ۔۔۔۔ اور نہ ہی ہرروز کی طرح قہقہے لگایا وہ دن بھر اداس چہرہ لئے ہوئے کام کرتی رہی دراصل وہ نہیں چاہتی تھی کہ راجو اسکی اس شدید اذیت اور الزام کے بارے میں سمجھ جائے جب راجو گھر پہنچا تو رینو اسے دیکھتے ہی دوسری طرف مڑگئی اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ توہین صرف اس کی نہیں بلکہ پورے خاندان اور راجو کی ہوئی ہے ذلیل رینو کو نہیں راجو کو کیا گیا ہے۔ رینو کو جب راجو نے دیکھا تو وہ اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی پریشانی کے عالم میں کھڑی تھی اسے اس حالت میں دیکھتے ہی راجو تڑپ اٹھا اور ٹوکا۔
’’آخری بھابھی! آج تم ایسی کیوں لگ رہی ہو؟‘‘
اتنا سنتے ہی وہ بلک اٹھی اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور۔۔۔۔۔ وہ اسکے پاس آکر کہنے لگی۔ ’’میرے نگہبان راجو میرے دوست! اب اس سنار میں میرے اور تمہارے سمبندھ کے بارے میں لوگ غلط افواہیں اڑ ارہے ہیں۔ تم آج تک میری حفاظت کرتے رہے ہو تمہارے جیسے مرد اور دیور پر مجھے فخر ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ کوئی مجھے روک سکے گا؟ سارا کا سارا خاندان ہی کیوں نہ میرے پیچھے لگا رہے میرا جو جی چاہے گا میں کر گزروں گی لیکن میں نے آج تک کوئی دوسرا قدم نہیں اٹھایا میں نے نشچئے کر لیا ہے کہ اسی گھر میں اپنی پوری زندگی گزرادوں گی‘‘
’’نہیں بھا بھی! میرے جیتے جی تمہیں کوئی بری نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا بتاؤ! وہ کون ہے جس نے تمہیں برا سمجھا ہے؟ میں اس کی آنکھیں نکال لونگا‘‘۔
’’ہاں راجو وہ سچ کہتا ہے بالکل سچ کون جوان عورت بغیر مرد کے جی سکتی ہے؟ تم ان کی زبان نہیں روک سکتے ہو‘‘۔
’’بھابھی! کیا تمہاری نظر میں کوئی ہے؟ جو تمہیں اچھا لگتا ہو بتاؤ اس کا نام تاکہ میں اس سے تمہارا بیاہ کردوں‘‘
’’میں اس گھر کو چھوڑ کر دوسری جگہ کیسے جاسکتی ہوں نہیں راجو نہیں! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا میں اس گھر کو یوں ویران چھوڑ کر نہیں جاؤں گی‘‘
’’تو کیا تم اسی طرح رہوگی کیا تم بد نام ہونا چاہتی ہو؟‘‘
’’نہیں رینو! ۔۔۔۔۔ میں تمہیں بد نام ہونے نہیں دونگا تم نراس مت ہو۔۔۔۔۔‘‘ اور یہ کہتے ہوئے راجو نے اسے اپنی باہوں میں دبوچ لیا اور وہ کسمساتی ہوئی اس کے سینے سے لپٹ گئی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کا کھویا ہوا سب کچھ مل گیا ہو۔

مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close